جرمنی میں کشمیریوں اور سکھوں کی جاسوسی کرنے والے بھارتی انٹیلیجنس ایجنسی را کے مبینہ جاسوس جوڑے کا ٹرائل شروع کر دیا گیا ہے.
جرمن خبر رساں ادارے ڈی ڈبلیوکے مطابق منموہن اور ان کی اہلیہ کنول جیت پر الزام ہے کہ انہوں نے جرمنی میں سِکھ اور کشمیری تنظیموں سے متعلق معلومات بھارتی انٹیلیجنس ایجنسی کو پہنچائیں۔
جرمنی ميں شہریوں کی جاسوسی سنگين جرم ہے۔ الزامات ثابت ہونے پرملزمان کو دس برس قيد کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
منموہن کے بارے میں خیال ہے کہ انہوں نے خفیہ طور پر یہ کام جنوری دو ہزار پندرہ میں شروع کیا۔ بعد میں جولائی دو ہزار سترہ سے ان کی اہلیہ نے بھی بھارتی انٹیلیجنس کے لیے کام کرنا شروع کر دیا۔
بھارت مخالف سکھ اور کشمیری کمیونٹی کی مخبری کی ان خدمات کے عیوض مبينہ طور پر بھارتی را نے انہیں سات ہزار دو سو یورو ادا کیے۔
فرینکفرٹ کی ایک عدالت میں ان پر مقدمے کا آغاز جمعرات سے شروع ہو رہا ہے۔ مقدمہ بارہ دسمبر تک چلے گا۔
جرمنی ميں جاسوسی سنگين جرم ہے۔ الزامات ثابت ہونے پر بھارتی جوڑے کو دس برس قيد کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔












13 تبصرے “جرمنی: کشمیریوںاور سکھوںکی جاسوسی کرنیوالا بھارتی ایجنٹ جوڑا گرفتار”