عمران خان کا ٹرمپ سے رابطہ: مسئلہ کشمیر حل کرنے کےلئے امریکی کردار پر زور

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطے میں کشمیر کے تنازع کے حل کے لیے امریکی صدر کے کردار پر زور دیا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق عمران خان کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں دوطرفہ اور خطے کے امور پر بات چیت کی گئی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان میں مغربی پروفیسرز کی رہائی انتہائی مثبت ہے اور پاکستان کو ان کے محفوظ اور آزاد ہونے پر خوشی ہے۔

امریکی صدر نے اس مثبت نتیجے میں سہولت کاری کے لیے پاکستان کی کوششوں پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔

یاد رہے کہ دو روز قبل طالبان نے حکومت سے تبادلوں کے معاہدے کے تحت جنوبی افغانستان میں 2016 میں قید کیے گئے 2 غیرملکی پروفیسرز کو رہا کردیا تھا۔

مقامی پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ ‘آج صبح 10 بجے امریکی یونیورسٹی کے 2 پروفیسرز کو زابل صوبے کے ضلع نوبہار میں رہا کردیا گیا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘رہا کیے گئے دونوں افراد کو امریکی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے صوبے سے باہر لے جایا گیا’۔

ٹیلی فونک گفتگو کے دوران وزیر اعظم نے پرامن اور مستحکم افغانستان کے لیے افغان امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کے عزم کو دہرایا جبکہ دونوں رہنماؤں نے اس مشترکہ مقصد کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کو بھارتی زیر انتظام کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ 80 لاکھ سے زائد افراد 100 سے زائد دنوں سے محاصرے میں ہیں۔

انہوں نے امریکی صدر کی کشمیر کے حوالے سے کوششوں اور ثالثی کی پیشکش کو سراہا اور کشمیر کے تنازع کے پرامن حل کے لیے ان کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر تنازع کے حل کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھیں۔

بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے واشنگٹن اور نیویارک میں بات چیت کو یاد کرتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے اور مستقل رابطے میں رہنے پر بھی اتفاق کیا۔