ٹیکس نظام کی مکمل تنظیم نوکرنے مرکزی ٹیکس کلیکشن نظام متعارف کرنے کا فیصلہ

پاکستان کی وفاقی حکومت نے ٹیکس اکٹھا کرنے کے مکمل نظام کی تنظیم نو کرنے اور اشیا و خدمات پر مرکزی سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) اکٹھا کرنے کے لیے مرکزی ٹیکس کلیکشن نظام متعارف کروانے کا غیر معمولی فیصلہ کرلیا ہے۔

معروف انگریزی جریدے ڈان کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ اقدامات 3 اکتوبر کو وزیراعظم عمران خان منظور کرچکے ہیں جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو جون 2020 تک پاکستان ریونیو اتھارٹی (پی آر اے) میں تبدیل کرنا بھی شامل ہے۔

تاہم مجوزہ ٹائم لائن وہ نہیں جس کی منصوبہ بندی کی گئی تھی کیوں کہ اِن لینڈ ریونیو سروسز (آئی آر ایس) کے چیف کمشنر نے اجلاس میں ہی اس اقدام کی مخالفت کی۔

اجلاس سے وابستہ ایک ذرائع نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آئی آر ایس افسران ایف بی آر چیئرمین کے ساتھ ایک اور اجلاس کریں گے جس میں انہیں تحفظات سے آگاہ کیا جائے گا۔

دوسری جانب آئی آر ایس کے ساتھ کسٹم حکام نے بھی مجوزہ منصوبے میں تبدیلی کرنے پر کام چھوڑ ہڑتال کرنے کی دھمکی دے دی۔

ڈان کے پاس دستیاب دستاویز کے مطابق وزارت خزانہ پی آر اے اور اس کے ذریعے ٹیکس اکٹھا کرنے کے مرکزی نظام کے لیے ایک جامع فریم ورک تشکیل دے گی، ،مذکورہ اصلاحات عالمی بینک کی فنڈنگ سے شروع کیے گئے ’پاکستان ریزز ریونیو پروجیکٹ‘ کا حصہ ہیں۔

اس سلسلے میں جی ایس ٹی اکٹھا کرنے کے مرکزی نظام کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گا جس میں وزارت خزانہ، ایف بی آر اور صوبائی ریونیو اتھارٹیز کے نمائندے شریک ہوں گے۔

علاوہ ازیں وزارت خزانہ ہی صوبائی سروسز پر اکٹھا کیے گئے جی ایس ٹی کی منتقلی کے لیے طریقہ کار تشکیل دینے کے لیے کام کرے گی۔

مرکزی سطح پر جی ایس ٹی اکٹھا کرنے کا فیصلہ اس درخواست پر کیا گیاکہ ایف بی آر اور صوبائی حکام کے اختیارات کے باعث اکٹھا ہونے والے ٹیکس کی مجموعی مالیت کا اندازہ نہیں ہوپاتا۔

اس کے علاوہ صوبائی دائرہ اختیار اور مفادات کا ٹکراؤ بھی سروسز پر جی ایس ٹی کے حصول میں رکاوٹ ہے۔

اس فیصلے کے خلاف آئین ہونے کی بنیاد پر صوبوں کی جانب سے سخت مزاحمت کی جانے کی توقع ہے، کیوں کہ موجودہ نظام میں 18 ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبائی محکمہ ریونیو کے حکام سروسز پر ٹیکس خود اکٹھا کرتے ہیں۔

دریں اثنا ایف بی آر کا ہیڈ کوارٹر بھی آئی آر ایس سے علیحدہ کر کے شمالی اور جنوبی زونز کی طرز پر فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت آئی آر ایس اور کسٹم کے لیے 2 ڈپٹی چیئرمین 30 نومبر تک تعینات کیے جائیں گے۔

مجوزہ نظام کے تحت ایف بی آر کے چیئرمین آئی آر ایس اور کسٹم کے 2 ڈپٹی چیئرمین کی مدد سے ٹیکس ادارے کی سربراہی کریں گے، اس کے علاوہ ریونیو ڈویژن کے لیے علیحدہ سیکریٹری اور 4 ایڈیشنل سیکریٹریزی پالیسی سے منسلک معاملات دیکھیں گے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: