کشمیر سمیت پاکستان بھر میں دو روزہ شٹر ڈاﺅن ہڑتال: فکسڈ ٹیکس سکیم کے علاوہ کسی دوسری سکیم کو نہ ماننے کا اعلان

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر سمیت پاکستان بھر میں آج دوسرے روز بھی شٹر ڈاﺅن ہڑتال کی جا رہی ہے۔ پاکستانی کشمیر کے تمام ضلعی اور تحصیل صدر مقامات کے علاوہ پاکستان کے تمام مرکزی شہروں میں تاجروں نے ٹیکسز کے نئے نظام کے خلاف مکمل شٹر ڈاﺅن ہڑتال کر رکھی ہے، تاہم حکومت سے مذاکرات میں تاجران اور ایف بی آر کے درمیان کوئی بات تاحال طے نہیں ہو پائی ہے۔

انتیس اور تیس اکتوبر کو ہونے والی یہ ہڑتال ٹیکسز کی نئی متعارف کروائی گئی سکیم کے خلاف ہے، تاجروں کا موقف ہے کہ ٹیکسز کی ایسی سکیم بنائی گئی ہے جس پر نہ صرف یہ کہ تاجران عملدرآمد نہیں کر سکتے، بلکہ عام آدمی بھی شدید مسائل اور مہنگائی کا شکار ہو جائے گا۔ تاجران پر پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر خرید و فروخت کی تفصیلات ایف بی آر کو آن لائن فراہم کرنے کے پابند ہونگے، جبکہ پچاس ہزار سے زائد خریداری کرنے والے گاہکوں کے شناختی دستاویزات بھی ساتھ ہی ایف بی آر کو فراہم کرنے کے پابند ہونگے۔

اس کے علاوہ نئی ٹیکس سکیم میں ویلیو ایڈڈ اور ود ہولڈنگ ٹیکس کے حصول میں ایک ہی شے پر فیکٹری سے گاہک تک پہنچنے میں چار سے پانچ جگہوں پر ٹیکس کی ادائیگی کی جائیگی، اسی طرح ایک لاکھ روپے کی فروخت پر بیس فیصد ٹیکس کی ادائیگی جیسی شرائط بھی لاگو کی گئی ہے جس کی وجہ سے کاروبار مکمل طور پر بیٹھ جائے گا، چھوٹا تاجر تجارت چھوڑنے پر مجبور ہوجائے گا، جبکہ چند بڑے ٹائیکونز من مانے نرخوں پر تجارت کرنے میں آزاد ہو جائینگے، اس کے علاوہ تاجروں کا یہ بھی موقف ہے کہ سمگل شدہ اور ناقص اور غیر معیاری اشیاءکی فروخت کاری میں اضافہ ہو گا جس کی وجہ سے نہ صرف تاجران بلکہ عام لوگ بھی زد میں آئیں گے۔

تاجران کا اس سلسلہ میں کہنا ہے کہ حکومت فکس ٹیکس سکیم نافذ کرے، تاجران کو ایک مخصوص تعداد میں کی گئی سیل پر ایک ٹیکس کی حد مقرر کی جائے تاکہ وہ تاجران باآسانی دے سکیں۔

تاہم پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے تاجران کا کہنا ہے کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے جہاں وفاقی اداروں کا براہ راست تعلق کسی صورت نہیں بنتا اور نہ ہی اس خطے کے تاجروں پر ٹیکس لاگو ہوگا ہے، یہ براہ راست کالونیل اقدام ہے، اسی لئے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے تاجران کسی صورت اس نئی ٹیکس سکیم کے تحت ٹیکس کی ادائیگی نہیں کریں گے۔ فی الحال پاکستانی تاجروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں بھی ہڑتال کی گئی ہے ، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ منڈیاں پاکستان میں ہی اور اس خطے کے تاجران بھی سامان وہیں سے خرید کر لاتے ہیں۔ اس لئے اگر مرکز کے تاجران کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا تو اس کا براہ راست اثر پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے لوگوں اور تاجروں پر بھی ہو گا۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں تاجروں کی مرکزی تنظیم کے صدر سردار افتخار فیروز خان اور سیکرٹری جنرل شوکت نواز میر کی کال پر یہ ہڑتال پورے خطے میں کی جا رہی ہے، تاہم انکے مد مقابل قائم کی گئی متوازی تنظیم کے عہدیداران بھی اس ہڑتال کی حمایت کر رہے ہیں۔