تنویر احمد اور محمود مسافر کی گرفتاری پر انسانی حقوق کونسل اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کو خط لکھ دیا گیا

ساؤتھ ایشین پیس فورم کینیڈا کے ڈائریکٹرز سردار خضر حیات اور ولید بابر ایڈووکیٹ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بذریعہ خط فری لانس کشمیری نژاد برطانوی صحافی تنویر احمد اور قوم پرست رہنما محمود مسافر کشمیری کی گرفتاری سے متعلق آگاہ کیا ہے.

خط میں تحریر کیا گیا ہے کہ رواں برس چوبیس اکتوبر کو تنویر احمد اور محمود مسافر نے پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں‌ ذمہ داریاں‌نبھانے والے لینٹ افسران انسپکٹر جنرل پولیس اور چیف سیکرٹری کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا.

وہ مظفرآباد کے شہری قاضٰ اسلم کی ہلاکت کے ذمہ دار آئی جی پی ، چیف سیکرٹری اور ڈی ایس پی ریاض مغل کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے. مظفرآباد میں پر امن احتجاج پر شیلنگ اور لاٹھی چارج کے نتیجے میں سیکڑوں‌دیگر کارکنان بھی زخمی ہوئے تھے.

مذکورہ افسران بائیس اکتوبر کو پیپلز نیشنل الائنس کے پر امن مظاہرین پر سفاکانہ ریاستی طاقت کے استعمال کےلئے احکامات جاری کرنے کے ذمہ دار تھے.

خط میں‌لکھا گیا ہے کہ تنویر احمد اور محمود مسافر آزادی اظہار رائے کے حق کا استعمال کر رہے تھے، لیکن انہیں‌گرفتار کر لیا گیا اور حراست میں‌انہیں‌تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے. یہ بھی اطلاعات ہیں‌کہ وہ حراست میں‌بھوک ہڑتال کئے ہوئے ہیں.
 
ساؤتھ ایشین پیس فورم کینیڈا اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سے اپیل کرتا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور علاقے میں اپنے نمائندے کے ذریعہ اس معاملے کی تحقیقات کرے اور دوران قید تشدد کی رپورٹ مرتب کرے۔

ہماری یہ بھی درخواست ہے کہ براہ کرم بڑھتے ہوئے اقدامات اور دھمکیوں کا نوٹس لیں ، جو پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں ترقی پسندوں اور قوم پرست سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف براہ راست اقدامات کئے جا رہے ہیں.