فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) نے تاجروں کے ساتھ معاہدہ طے کرتے ہوئے تاجروںکے مطالبات تسلیم کر لئے ہیں. یہ معاہدہ تاجروںکی طرف سے دو روزہ ملک گیر ہڑتال کے دوسرے روز کے اختتام پر سامنے آیا ہے. تاہم یہ معاہدہ ہڑتال سے ایک روز قبل ہی کر لیا گیا تھا. تاجروںکا کہنا ہے کہ انکے تمام مطالبات تسلیم کر لئے گئے ہیں.
تاجروں نے انتیس اور تیس اکتوبر کو نہ صرف پاکستان کے تمام ضلعی و تحصیل صدر مقامات پر بلکہ پاکستان زیر انتظام علاقوں جموںکشمیر اور گلگت بلتستان میںبھی شٹر ڈاؤن ہڑتال کر رکھی تھی. دو روز تک تمام شہر مکمل طو پر مقفل رہے.
یہ معاہدہ چیئرمین ایف بی آر اور تاجروںکے دو گروپوں چیئرمین خواجہ شفیق، صدر اجمل بلوچ اور خواجہ سلمان صدیق (چیئرمین)، شیخ عبدالعلیم (چیئرمین) اور محمد کاشف چوہدری (صدر) کے مایبن طے پایا ہے.
گیارہ نکات پر مبنی معاہدہ کے مطابق:
1. دس کروڑ تک کی ٹر اوور والا ٹریڈر 1.5 فیصد ٹرن وور ٹیکس کی بجائے 0.5 فیصد ٹرن اوور ٹیکس دے گا.
2. دس کروڑ کی ٹرن اور والا ٹریڈر ود ہولڈنگ ایجنٹ نہیںبنے گا.
3. سیلز ٹیکس میںرجسٹریشن کےلئے سالانہ بجلی کے بل کی حد چھ لاکھ روپے سے بڑھا کر بارہ لاکھ روپے کر دی گئی ہے.
4. کم منافع رکھنے والے سیکٹرز کے ٹرن اوور ٹیکس کا تعین از سر نو کیا جائیگا جو تاجروںکی کمیٹی کی مشاورت سے ہوگا.
5. جیولرز ایسوسی ایشنز کے ساتھ مل کر جیولرز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوںپر حل کیاجائیگا.
6. آڑھتیوں پر تجدید لائسنس فیس پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کا از سر نو جائزہ لیا جائیگا.
7. ٹریڈرز کے مسائل کے فوری حل کےلئے اسلام آباد ایف بی آر میںخصوصی ڈیسک قائم ہوگا. بیس یا اکیس گریڈ کا افسر تعینات ہوگا، ماہانہ بنیادوںپرٹریڈرز کے نمائندوں سے ملاقات ہوگی.
8. نئے ٹریڈرز کی رجسٹریشن / انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کےلئے اردو میںآسان اور سادہ فارم مہیا کیا جائیگا اور تاجروںکی کمیٹیاںنئی رجسٹریشن کے سلسلہ میںبھرپور تعاون کرینگی.
9. ایک ہزار مربع فٹ کی کوئی سی دکان سیلز ٹیکس میںرجسٹریشن سے مستثنیٰ ہو گی اس کا فیصلہ تاجروںکی کمیٹی کی مشاورت سے ہوگا.
10. ریٹیلرز جو ہول سیل کا بزنس بھی کر رہا ہے. ان کی سیلز ٹیکس میںرجسٹریشن کا فیصلہ تاجروںکی کمیٹی کی مشاورت سے ہوگا.
11. شناختی کارڈ کی شرط پر خرید و فروخت پر تادیبی کارروائی اکتیس جنوری 2020 تک موخر کر دی گئی ہے.

واضح رہے کہ اٹھائیس اکتوبر کو ہی چیئرمین ایف بی آر نے اس معاہدہ پر دستخط کر لئے تھے، جبکہ تاجروں کے نمائندگان نے اس پر تیس اکتوبر کو دستخط کئے، لیکن معاہدہ پرنٹ کرنے کی تاریخ تیس اکتوبر لکھی گئی ہے اور چیئرمین ایف بی آر کے دستخط اٹھائیس اکتوبر کو ہی کر دیئے گئے۔جس سے یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مطالبات تسلیم کر لئے گئے ہیں. تاہم یہ نہیںبتایا گیا ہے کہ مطالبات اگر پہلے ہی تسلیم کر لئے گئے تھے تو پھر دو روزہ ہڑتال کس خوشی میںکی گئی ہے.
یاد رہے کہ تاجران کا ہڑتال کے دوران موقف تھا کہ فکسڈ ٹیکس سکیم کے علاوہ کسی طرح کی ٹیکس سکیم کو تسلیم نہیںکیا جائیگا اور شناختی کارڈ کے حصول کی شرط پر کسی صورت عمل درآمد نہیںکیا جائے گا. تاہم سامنے آنے والے معاہدہ میںفکسڈ ٹیکس سکیم کے حوالے سے کوئی وضاحت نہیںکی گئی ہے.












19 تبصرے “ایف بی آر کے ساتھ معاہدہ پر ہڑتال سے ایک روز پہلے کی تاریخ: تاجروںکی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال اختتام پذیر”