نجی ویب سائٹ نے دعویٰکیا ہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت نے جمعیت علمائے اسلام کے آزادی مارچ کے موقع پر دارالحکومت اسلام آباد کے اہم مقامات پر فوج تعینات کرنے کی منظوری دی ہے جس کے بعد ٹرپل ون بریگیڈ کے تین یونٹس شہر میں داخل ہو گئے ہیں۔
نجی میڈیا سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ میں سیکریٹری داخلہ کے زیرصدارت اجلاس میں فوج تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں مارچ کے شرکاء کو طے شدہ روٹ کے مطابق براستہ روات داخل ہونے کی اجازت دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ جلسہ گاہ اور مارچ کا فضائی جائزہ بھی لیا جائے گا جبکہ شہریوں کے لیے متبادل ٹریفک پلان بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سیکرٹری داخلہ کی زیر صدارت اجلاس میں اسلام آباد انتظامیہ سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں، فوج اور رینجرز کے نمائندوں نے شرکت کی چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد بھی موجود تھے۔
سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ حکومت معاہدے کی پاسداری کرنے والوں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ مارچ کے شرکا کو براستہ روات طے شدہ روٹ کے زریعے اسلام آباد آنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اسلام آباد میں شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے اور روزمرہ زندگی کو کسی صورت متاثر نہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور ہر قسم کے اسلحے کے داخلے پر پابندی عائد کی ہے جبکہ اس کو یقینی بنانے کے لئے باقاعدہ چیکنگ کا لائحہ عمل تیار کیا گیا جو جے یو آئی ایف کی قیادت سے شیئر کیا گیا ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق اسلام آباد میں مقیم اور گردنواح سے آنے لوگوں کی سہولت کے لئے ٹریفک پلان مرتب کیا گیا ہے جس میں متبادل راستوں کی تفصیل عوام کو دی جائے گی۔ اس پلان کو پرنٹ اور الکٹرنک میڈیا کے زریعے بھی عوام تک پہنچانے کی ہدایت جاری- تمام خطرات اور مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا-
رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے کہا ہے کہ معاہدے کے مطابق ریڈزون میں داخلہ ممنوع ہے۔ سکیورٹی کے لئے پہلے لیول پر پولیس، دوسرے لیول پر رینجرز اور حساس مقامات کی حفاظت کے لیے آرمی کی خدمات لی گئی ہیں۔ معاہدے کی پاسداری نہ ہونے کی صورت میں پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے آئی جی اسلام آباد اور رینجرز کے حکام نے بریفنگ دی۔
اسلام آباد پولیس اور باہر سے آنے والی نفری کے انتظامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے راستوں اور دیگر حساس مقامات کا مکمل جائزہ لیا گیا۔
جلسہ گاہ اور مارچ کا فضائی جائزہ لینے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
کہا گیا ہے کہ معاہدے اور دیے گئے پلان پر عمل کرنے والوں کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی اور بدمزگی کی صورت میں انتظامیہ حرکت میں آئے گی۔












12 تبصرے “آزادی مارچ سے نمٹنے کےلئے فوج کی مدد: ٹرپل ون بریگیڈ کے تین یونٹس اسلام آباد میں داخل”