جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کنٹرول لائن پر جنگ اور کرتارپور پر دوستی والی دوغلی پالیسی ترک کی جائے. یہ کیسا ہندوستان ہے کہ ایک طرف اس قدر ٹینشن پیدا کی جا رہی ہے کہ ہمیںمارچ نہ کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف اتنا قرب حاصل کیا جا رہا ہے کہ دوستی میںکرتارپوربارڈر کو کھولنے کے معاہدے کئے جا رہے ہیں. یہ دوغلی پالیسی اب ترک کرنی ہوگی.
مولانہ فضل الرحمان نے یہ باتیںاپنی میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک صحافی کے سوال کے جواب میںکیں. صحافی نے مولانا فضل الرحمن سے سوال کیا کہ بارڈر پر صورتحال کشیدہ ہے ایسے میںآزادی مارچ کے انعقاد کا فیصلہ درست ہے…؟ جس کے بعد مولانا فضل الرحمن نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمیںپہلے یہ واضح کرنا ہوگا کہ بارڈر کسے کہہ رہے ہیں. اگر ایل او سی کو بارڈر کہتے ہیں تو وہاںکشیدگی کے ذریعے ہمیںآزادی مارچ روکنے کا کہا جا رہا ہے لیکن دوسری طرف خود کرتار پور بارڈر کھولنے کے معاہدے بھی کئے جا رہے ہیں.
انہوںنے کہا کہ یہ کیسا ہندوستان ہے کہ جس سے ایک طرف جنگ ہو رہی ہے اور دوسری طرف دوستی اور بارڈر کھولنے کے معاہدے ہو رہے ہیں. یہ حکومت کی دوغلی پالیسی ہے جسے ترک کرنا پڑے گا.












11 تبصرے “کنٹرول لائن پر جنگ اور کرتارپور پر دوستی والی دوغلی پالیسی ترک کی جائے، مولانا فضل الرحمان”