پی این اے کے اسمبلی کی طرف احتجاجی مارچ کی تیاریاں عروج پر، خواتین چندہ مہم میں پیش پیش، گلگت بلتستان سے حمایت کا اعلان

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں قائم قوم پرست و ترقی پسند سیاسی جماعتوں اور طلبہ تنظیموں کے اتحاد جموں کشمیر پیپلز نیشنل الائنس کے زیر اہتمام دارالحکومت مظفرآباد کی جانب مارچ کا آغاز اکیس اکتوبر کو ہوگا۔ تمام قافلے اکیس اکتوبر کو مظفرآبادمیں یونیورسٹی گراؤنڈ میں پہنچیں گے جہاں رات کو کلچرل پروگرام کا انعقاد کیا جائیگا۔ جبکہ بائیس اکتوبرکو صبح گیارہ بجے یونیورسٹی گراؤنڈ سے اسمبلی سیکرٹریٹ تک پر امن احتجاجی مارچ کیاجائیگا۔ اسمبلی سیکرٹریٹ کے سامنے جلسہ عام کے ذریعے اپنے مطالبات رکھے جائیں گے۔

اس سلسلہ میں جموں کشمیر پیپلز نیشنل الائنس میں شامل تمام تنظیموں کے کارکنان نے مختلف شہروں، دیہی علاقوں، تحصیل و ضلعی ہیڈکوارٹرز میں رابطہ مہم شروع کر رکھی ہے۔ مختلف جگہوں پر عوامی رابطہ مہم کے سلسلہ میں کیمپ لگائے گئے ہیں۔تمام شہروں اور دیہی علاقوں میں کارنر میٹنگز اور چھوٹے جلسوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ عوامی سطح پر چندہ مہم کی جا رہی ہے۔ جبکہ پورے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیرمیں تیس ہزار سے زائد پمفلٹ تقسیم کر دیئے گئے ہیں۔ رابطہ مہم کا سلسلہ پاکستان کے جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد میں بھی بھرپور انداز سے جاری ہے۔

دوسری طرف گلگت بلتستان میں حال ہی میں قائم ہونے والے گلگت بلتستان بچاؤ تحریک کے نام سے الائنس کے کنونیئر شبیر مایار نے روزنامہ مجادلہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گلگت بلتستان بچاؤ تحریک میں شامل پارٹیوں اور تنظیموں نے مظفرآبا د میں اسمبلی کی طرف پر امن احتجاجی مارچ کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ اور پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں ترقی پسند اور قوم پرست تنظیموں کے اس مارچ کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی ذیلی تنظیم جموں کشمیر پیپلز یوتھ آرگنائزیشن نے بھی مارچ کی سیاسی اور اخلاقی حمایت کا اعلان کر دیا ہے اور شرکاء مارچ کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے سردار ببرک خان اور دیگر نے کہا ہے کہ پر امن سیاسی جدوجہد میں شریک تمام ترقی پسند رجحانات کے ساتھ ہم یکجہتی کرتے ہیں اور انکی حمایت کرتے ہیں، تاہم انہوں نے شرکاء مارچ سے بھی توقع کا اظہار کیا کہ وہ پر امن انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔

عوامی رابطہ مہم کے دوران خواتین کی ایک بڑی تعداد مختلف کیمپوں میں عوامی چندہ مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہوئی نظر آئی ہے۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد روزانہ کی بنیاد پر مختلف شہروں میں قائم کیمپوں میں آکر چندہ باکسز میں اپنامارچ میں چندے کی صورت اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔ جو پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر میں کسی بھی تحریک میں خواتین کی عملی مداخلت کا شاید پہلا واقعہ سمجھا جا رہا ہے۔ جس میں خواتین خود شہروں میں لگے کیمپوں کا دورہ کرتے ہوئے چندہ دے رہی ہیں۔

پی این اے کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ اکیس اکتوبر کو ہزاروں کی تعداد میں لوگ مظفرآباد کی طرف مارچ کریں گے اورمظفرآباد میں جہاں اس خطے کے لوگوں کیلئے آئینی اور سیاسی اختیارات کامطالبہ کیا جائے گا بلکہ بھارتی زیر انتظام جموں کشمیرمیں کرفیو، پابندیوں اور فوجی جبر کے خلاف اور پورے خطے کی غلامی اور تقسیم کے خلاف بھی احتجاج ریکارڈ کروایا جائے گا۔ مارچ کے ذریعے پاکستان اور بھارت سمیت دنیا بھر کے محنت کشوں اور نوجوانوں سے بھی جموں کشمیر کی آزادی کی تحریک کی حمایت کی اپیل کی جائے گی۔ اور اس خطے کے لوگوں کو تحریک کو اپنے زور بازو پر آگے بڑھانے کیلئے طریقہ کار بھی وضع کیا جائے گا۔

یہ احتجاج جموں‌کشمیر چھوڑ دو تحریک کا حصہ ہے. اس احتجاج کے دوران معاہدہ کراچی، ایکٹ 74ء سمیت تمام سامراجی معاہدوں‌کی منسوخی کا مطالبہ بھی کیا جائے گا.

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: