فاروق حیدرکو لاہور میں طالبعلموں‌ کے سخت سوالات کا سامنا، جواب نہ دینے پر آزادی کے حق میں‌نعرے لگا دیئے

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر لاہور میں منعقدہ کانفرنس میں‌نوجوانوں‌کے سوالات کے جوابات نہ دے پائے، نوجوانوں‌نے جواب نہ ملنے پر کشمیر کی آزادی اور خودمختاری کے حق میں‌نعرے لگا دیئے.

وزیراعظم فاروق حیدر عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں شریک تھے، انکے ہمراہ لبریشن فرنٹ یاسین ملک گروپ کے ترجمان رفیق ڈار، صحافی طارق نقاش اور دیگر بھی موجود تھے. وزیراعظم نے کشمیر کے مسئلہ پر بات کرنا تھی. وزیراعظم نے بھارتی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں‌ہونے والے فوجی جبر، کرفیو، لاک ڈاؤن اور مظالم پر بات کی، جس کے بعد سوالات اور جوابات کا سیشن تھا.

اج آسما جہانگير کانفرنس میں راجہ فاروق حیدر صاحب کشمیریوں کی نمائندگی کر رہے تھے۔میرا اور میرے چند ساتھیوں کا یہ ماننا تھا کہ اگر راجہ صاحب ہماری نمائندگی کر رہے ہیں تو ہمارا یہ حق بنتا ہے کے ہم ان سے سوال کریں۔اس سلسلے میں،میں نے راجہ صاحب سے سوال کیا کہ "سر ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کا تو اکثر ذکر ہوتا ہے مگر پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کا ذکر نہیں ہوتا،اپ کا اپنا تعلق مظفراباد سے ہے اور اپ کو بھی معلوم ہے کے مظفراباد شہر پہلے سے ہی Fault line پر موجود ہے اور دریا نیلم کا رخ بدلنے کے لیے پہاڑوں کے نیچے 68 kilometres لمبے Tunnels ڈالے گے ہیں اور اب وہ شہر کسی بھی لمحہ مکمل طور پر تباہ ہو سکتا ہے اپ نے چھ لاکھ انسانوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں۔سر اپ کی باتيں سن کر مجھے یہ اندازہ ہو رہا ہے کے وزیر اعظم ہونے کے باوجود اپ کے پاس اتنے ہی اختيارات ہیں جتنے میرے پاس اور اگر واقعی میں اپ کے پاس اختیارات ہیں تو اپ مودی سے کس طرح بہتر ہیں اپ بھی چھ لاکھ انسانوں کی زندگيوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں" اس کے جواب میں راجہ صاحب کا کہنا تھا "اپ کشمیر آ کر مجھ سے ملاقات کریں میں اپ کو بتائوں گا کے میں occupied ہوں یہ نہیں"اسی دوران ہمارے ایک ساتھی Haider Butt نے راجہ صاحب کو september 7 کو JKLF کے آزادی مارچ پر کیے جانے والے مظالم یاد کروائے اور کامران مغل اور مجتبا کی گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ اسیران گلگت بلتستان کے بارے میں بھی دریافت کیا۔ جب راجہ صاحب نے یہ کسی اور نے ان سوالات کا جواب نہیں دیا تو حیدر بٹ صاحب نے اسی پنڈال میں کشمير بنے گا خودمختار کا نارا بلند کیا اور اس وقت اس پنڈال میں Hinna Rabbani Khar اور Mahmood Khan Achakzai sab کے علاوہ ایک برطانوی صحافی Ms Victoria Schofield بھی موجود تھیں جو کشمیر پر گزشتہ کہی برسوں سے تحقيقات کر رہیں ہیں۔

Posted by Ali Abdullah Khan on Saturday, October 19, 2019

لاہور میں زیر تعلیم راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایس ایل ایف کے رہنما علی عبداللہ نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ ”بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں مظالم پر تو بات کر رہے ہیں لیکن پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں جو مظالم ہو رہے ہیں ان پر بات کیوں نہیں‌کی جا رہی، وزیراعظم صاحب خود مظفرآباد کے رہائشی ہیں جس شہر کی چھ لاکھ آبادی کو دو دریاؤں کا رخ موڑنے کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے، فالٹ لائن پر دو بڑے ڈیم تعمیر کر کے چھ لاکھ آبادی کی زندگیاں داؤ پر لگائے جانے کا عمل اگر آپ نہیں‌روک سکتے تو پھر آپ کے اور ہم عام طالبعلموں‌کے اختیارات میں‌کیا فرق ہے؟”

علی عبداللہ کے سوال پر وزیراعظم نے محض اتنا جواب دیا کہ ”کشمیر میں ملاقات کریں‌میں‌اس کا جواب بھی دوں گا اور یہ بھی بتاؤں گا کہ میں‌کیسے آزاد ہوں”

وزیراعظم کے اس طرح‌جواب دیئے بغیر اٹھنے کی کوشش شروع کردی. جبکہ ایک اور طالبعلم رہنما جنکا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب سے ہے نے مظفرآباد میں نوجوانوں‌کی گرفتاریوں، آزادی مارچ میں‌سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں‌اور گلگت بلتستان میں‌بابا جان اور دیگر کی گرفتاریوں‌سے متعلق بھی سوالات کئے، لیکن وزیراعظم سوالات سننے کی بجائے ہال سے باہر کی جانب روانہ ہوئے.جس پر طالبعلموں‌نے نعرے بازی شروع کر دی اور کشمیر کی آزادی اور خودمختاری کے حق میں‌نعرے لگائے گئے.

وزیراعظم سے سوال کرنے والا نوجوان علی عبداللہ کشمیر کی آزادی پسند عوامی جماعت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ کا صاحبزادہ ہے اور وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم ہے.

واضح رہے کہ وزیراعظم پاکستانی میں‌انسانی حقوق کی ایک توانا آواز عاصمہ جہانگیر کی یاد میں‌منعقدہ انسانی حقوق کی کانفرنس میں شریک تھے. مذکورہ کانفرنس میں‌کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے ایشیا پراگرام کے ذمہ دار سٹیون بٹلر نے بھی شریک ہونا تھا لیکن انہیں پاکستان داخلے سے روک دیا گیا، اس کے علاوہ عاصمہ جہانگیر کی صاحبزادی منیزے جہانگیر نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ کانفرنس میں شرکت کےلئے بھارت سے بھی کچھ لوگوں نے آنا تھا لیکن انہیں‌بھی ویزے نہیں‌جاری کئے گئے.

دوسری طرف پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے محکمہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں ہندوستان نے عوامی خواہشات اور بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عوامی خواہشات کے برخلاف مقبوضہ کشمیر پر جبری قبضہ کیا ہوا ہے ہیگ کنونشن کے آرٹیکل 42 کے تحت ہندوستان مقبوضہ کشمیر پر قابض ہے ہندوستان اقوام متحدہ کے آرٹیکل 103 کے تحت مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل نہیں کرسکتا ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کا ارتکاب کررہا ہے جو جنیوا کنونشن اور اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں اوراس کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہے کالے قوانین کے ذریعے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب فوجیوں کو تحفظ دیا گیا ہے اور یہ فوجی بدترین جنگی جرائم میں ملوث ہیں مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کو برے طریقے سے تشدد کا نشانہ بنایا جارہاہے عورتوں کی عصمت دری کی جاتی ہے جبری گمشدگیوں کی وجہ سے ہزاروں خاندان مسلسل کرب کا شکار ہیں لائن آف کنٹرول پر عورتوں اور بچوں پر نشانہ بازی کی جاتی ہے اور کلسٹر ایمونیشن کا استعمال کیا جارہا ہے۔

ان خیالات کا اظہاروزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان یہاں عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے کشمیر میں انسانی حقوق کے حوالے سے خصوصی سیشن میں بحثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے سیشن سے معروف بین الاقوامی مصنفہ وکٹوریہ سکوفیلڈ سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر لبریشن فرنٹ کے ترجمان رفیق ڈار صدر سنٹرل پریس کلب مظفرآباد طارق نقاش نے بھی خطاب کیا۔

مقبوضہ کشمیر دنیا کا سب سے ہیوی ملیٹرائزڈ زون ہے نو لاکھ فوجی کشمیریوں کی شخصی آزادیوں کو سلب کرنے کے لیے تمام ممنوعہ ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں افسپا اور پی ایس اے کے تحت انہیں کسی بھی شہری کو گرفتار کرنے شہید کرنے اوراس کی املاک کو تباہ کرنے کے مکمل اختیارات دیے گئے ہیں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ 5 اگست کا اقدام ہندوستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنے کی سازش ہے یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے ہندوستان کی جانب سے یہ کہنا کہ یہ دوطرفہ مسئلہ ہے کی بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹراور قوانین کے مطابق کوئی حیثیت نہیں ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں جمہوری اخلاقی اقداروں کی پامالی کا سلسلہ جاری ہے دنیا کے طاقتور ممالک اگر خطے میں امن چاہتے ہیں تو انہیں یہ مسلہ حل کرنا ہوگا کشمیریوں نے اس کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں۔میرا خاندان تقسیم ہے میں بہت دکھی ہوں۔ دس سال بعد یہ کشمیر بدل چکا ہو گا۔

مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے درمیان کس حالات میں کشمیری زندگی گزار رہے ہیں۔ بچوں کو اٹھا لیا گیا۔ کئی بچے 1990 سے غائب ہیں۔بھارتی وزیراعظم مودی ایک ایک قدم گھناونے منصوبے کے تحت اٹھاتا جارہا ہے۔ہریانہ میں مودی نے کہا کہ وہ۔پانی روکے گا۔ آج کشمیر تاریک راہوں میں مر رہا ہے۔کرفیو اٹھانا مسلہ کا حل نہیں کشمیریوں کواقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق راے شماری کا حق دیا جائے۔ تبدیلی لانا پڑے گی۔ ہمارے پاس اب کچھ کھونے کے لیے نہیں ہے۔ میں بیڈ پر کیوں مروں۔ کیوں نہ میں لڑ کر مروں۔ یہاں کے لوگ پوچھتے ہیں کہ کب جاوں گا اور وہاں کے لوگ پوچھتے ہیں کہ کب آو ¿ گے۔سیز فائر لائن کراس کرکہ اب کشمیر 1947 کی سطح پر آگیا ہے۔ ہندوستان کے ساتھ سارے معاہدے ختم ہو گئے ہم ابھی تک پرانی باتوں پر لگے ہیں کچھ نئی بات بھی کریں۔ مجھے کرسی کی فکر نہیں ہے جاتی ہے جائے سچ کہنے سے نہیں رکوں گا۔کشمیر کی آزادی کے لیے ہر حد تک جاونگا۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: