نوازشریف کا خط موصول، آزادی مارچ کی حمایت کا اعلان: وزیراعظم نے علماء سے مدد مانگ لی

پاکستان مسلم لیگ ن نے مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ اور دھرنے کی حمایت کرتے ہوئے بھرپور ساتھ دینے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ وزیراعظم پاکستان نے آزادی مارچ اور دھرنے سے نمٹنے کےلئے علماء کرام سے مدد مانگ لی ہے.

جمعے کو علما کے ایک وفد نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے وزیر اعظم ہاؤس میں ایک تفصیلی ملاقات کی۔ وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے ’علمائے کرام‘ سے کہا ہے کہ ’امہ میں تفریق‘ اور ’تقسیم‘ پیدا کرنے کی ’مذموم کوششوں‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سرکای اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’علمائے کرام سے میٹنگز کا تسلسل جاری رہے گا تا کہ ہر مسئلے پر ان سے مشاورت و رہنمائی جاری رہے۔‘

سرکاری اعلامیے کے مطابق وفد میں تمام فقہ جات، مسالک، تنظیمات المدارس کے نمائندے جید علمائے کرام اور مشائخ شامل تھے۔

اس ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر تعلیم شفقت محمود، وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری، معاونین خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، یوسف بیگ مرزا اور نعیم الحق بھی موجود تھے۔

ادھر صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) شہباز شریف نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ میں ‘بھرپور شرکت’ کا اعلان کر دیا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ مولانا کے آزادی مارچ سے متعلق ہمیں نواز شریف کی ہدایات ایک خط کی صورت میں مل چکی ہیں اور 31 اکتوبر کو مارچ میں بھرپور شرکت کی جائے گی۔

یہ اعلان انھوں نے صوبائی دارالحکومت لاہور میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد ہونے والی ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں استقبال کیا جائے گا اور 31 اکتوبر کو جلسے میں آئندہ کا لائحہ عمل بھی پیش کیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’روزگار بند ہے، دکان بند ہے، کاروبار بند ہے، سرمایہ کاری ختم ہو چکی، ہسپتالوں میں دوائیں دستیاب نہیں ہیں، غریب آدمی سسک سسک کر جان دے رہے ہیں، یہ وہ پاکستان نہیں جس کے لیے لاکھوں لوگوں نے جانیں دیں۔‘

شہباز شریف نے کہا کہ ’یہ حکومت سلیکٹڈ ہے، یہ وزیر اعظم سلیکٹڈ ہیں۔ ان کے سوا سال کے دور حکومت میں تمام شعبوں میں تباہی آئی چاہے وہ تعلیم ہو یا صحت۔‘

انھوں نے کہا کہ 31 اکتوبر کو کشمیریوں کے حقوق کی آواز بھی اٹھائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جلد نئے انتخابات ہونے چاہییں کیونکہ کراچی سے پشاور تک پوری قوم یک زبان ہے کہ حکومت کو گھر جانا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے ہونے والی ملاقات میں ملک کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بحث ہوئی۔

مسلم لیگ کے صدر کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کی ’معاشی صورتحال تباہی کے دہانے‘ پر ہے اور ’ملک کی تباہ کن صورتحال پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی ناکامی کا منھ بولتا ثبوت‘ ہے۔

انھوں نے کہا کہ عمران خان اپنی ناکامی کی ذمہ داری اداروں پر ڈالنا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے لاہور کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقعے پر میڈیا سے گفتگو میں نواز شریف نے آزادی مارچ کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘جتنے مرضی ہتھکنڈے استعمال کر لیں نہ پہلے جھکے، نہ اب جھکیں گے۔’

نواز شریف نے واضح کیا تھا کہ شہباز شریف کو مارچ میں شرکت کے لیے تحریری طور پر آگاہ کر دیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کے خلاف مہم کے سلسلے میں دارالحکومت اسلام آباد کا رخ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

ان کا موٴقف ہے کہ ’وزیرِاعظم عمران خان کی حکومت ناکام ہو چکی ہے، اسے مستعفی ہو جانا چاہیے‘ اور اسی لیے وہ ‘آزادی مارچ’ کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں۔

فضل الرحمان کے مطابق ان کی مذہبی و سیاسی جماعت جمیعتِ علما اسلام کے کارکنان اور حامی 27 تاریخ کو ملک کے مختلف شہروں سے ریلیوں کی صورت میں نکلیں گے اور تین روز بعد 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوں گے۔

جے یو آئی ایف کے قائد کے تاحال سامنے آنے والے بیانات کے مطابق وہ وہاں طویل قیام کا اراداہ رکھتے ہیں تاہم فضل الرحمان اکیلے اسلام آباد نہیں آ رہے۔

انھوں نے پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی ساتھ چلنے کو کہا ہے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: