اقوام متحدہ کو رائے شماری کیلئے چھ ماہ کی ڈیڈ لائن دیکر دھرنا موخر، پاکستان واحد وکیل ہے، فاروق حیدر کا خطاب

قوم پرست تنظیم جموں‌کشمیر لبریشن فرنٹ (یاسین ملک گروپ) کے زیر اہتمام فریڈم مارچ کے بعد سرینگر روڈ پر چناری سے چند کلومیٹر آگے گیارہ روز سے جاری دھرنا چھ ماہ کےلئے موخر کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے. شرکاء دھرنا واپس اپنے آبائی علاقوں‌کو روانہ ہو گئے.

جموں‌کشمیر لبریشن فرنٹ کے قائدین نے دھرنا ختم کرنے کا یہ اعلان پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں‌قائم حکومت کے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان کی درخواست پر کیا ہے. وزیراعظم فاروق حیدر نے یہ درخواست دھرنا میں‌پہنچ کر شرکاء دھرنا سے خطاب کے بعد کی.

قبل ازیں بدھ کے روز وزیراعظم فاروق حیدر کے ہمراہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے قائمقام چیئرمین عبدالحمید بٹ، ترجمان رفیق ڈار، ذونل صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی، وائس چیئرمین سلیم ہارون، حافظ انور سماوی اور دیگر قائدین نے اقوام متحدہ کے ملٹری ابزرورز کے دفتر میں‌ اقوام متحدہ کے نمائندگان سے ملاقات کی.

لبریشن فرنٹ کے قائدین اور وزیراعظم فاروق حیدر کے مطابق انہوں نے اقوام متحدہ کے اسلام آباد سے آئے ہوئے نمائندگان کو یادداشت پیش کرتے ہوئے چھ ماہ کے اندراندر جموں‌کشمیر میں‌اقوام متحدہ کی امن افواج بھیج کر تیرہ اگست 1948ء کی قرارداد کے مطابق کشمیری عوام کو حق خودارادیت دیتے ہوئے انکی رائے کے مطابق کشمیریوں‌کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے. بصورت دیگر چھ ماہ بعد دوبارہ سیز فائر لائن توڑنے کا حق استعمال کرنے کا کہا گیا ہے.

تاہم اقوام متحدہ کے ملٹری ابزرورز کی جانب سے یادداشت کی وصولی ، نمائندہ کی مظفرآباد آمد، مذاکرات کرنے کے حوالے سے کوئی پریس ریلیز تاحال جاری نہیں‌کی گئی ہے. نہ ہی مذاکراتی عمل کی کوئی تصویر یا فوٹیج ابھی تک جاری کی گئی ہے، خیال کیا جا رہا ہے کہ متعلقہ پراسیس مکمل کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے اسلام آباد ہیڈکوارٹرز کی جانب سے آفیشل بیان جاری کیا جائے گا.

مذاکرات کے بعد وزیراعظم فاروق حیدر نے دھرنا میں‌پہنچ کر قائدین سے دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی، محکمہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ آزادی کے حق کےلئے غاصب کے خلاف بندوق اٹھانا اقوام متحدہ کے چارٹر میں شامل ہے ۔ دشمن ہمیں نظریاتی بحث میں ڈال کر تقسیم کرنا چاہتاہے۔دشمن ہماری طاق میں ہے اس سے ہوشیار رہیں اور ایک دوسرے کے نظریات کو برداشت کریں۔نریندر مودی کے اکھنڈ بھارت کے راستے میں پاکستان واحد رکاوٹ ہے ۔کشمیریوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی بقا کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بقا کو بھی یقینی بنائیں۔پاکستان ہی ہمارا دنیا میں واحد وکیل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوا م متحدہ کے نمائندوں کو بھی آج کہاہے کہ یہ امر میرے لیے بہت تکلیف دہ ہے کہ میں اپنے لوگوں کو زبردستی روکوں لیکن میں اپنے لوگوں کو بھارتی درندوں کے آگے نہیں پھینک سکتا۔ ہم سب ملکر ایک دن اس سیز فائر لائن کو توڑیں گے ۔ اس حوالہ سے ہم پر کوئی پابندی نہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جسکول کے مقام پر جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے دھرنے کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر قائمقام چیئرمین جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ عبدالحمید بٹ، مرکزی ترجمان جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ محمد رفیق ڈار، جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان کے صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی ، وائس چیئرمین لبریشن فرنٹ سلیم ہارون نے بھی خطاب کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو پرامن رہے ۔ جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے قائدین سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ آج اس دھرنے کو موخر کریں تاکہ ہم سب ملکر آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کریںاور آئندہ ہمیں کوئی نہ روک سکے ۔انہوں نے کہاکہ ترکی اور ملائیشیاءکے شکرگزار ہیں جنہوں نے کشمیریوں کی حمایت کی ۔ وزیر خارجہ کا بھی شکرگزار ہوں جنہوں نے ہماری بات تسلیم کی اور اقوام متحدہ کے مبصرین تک رسائی دی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی بنیاد تحریک آزادی کشمیر پر ہے اس کےلئے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔ حق خودارادیت ریات جموں وکشمیر کے عوام کا حق ہے اور یہ حق ہم کسی کو دینگے ۔ جموں وکشمیر ناقابل تقسیم وحدت ہے ۔ دھرتی ماں کوکوئی تقسیم نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کے بنیادی ریاست کے عوام ہیں۔ حکومت آزادکشمیر کی بنیاد ہی تحریک آزادکشمیر پر ہے جس کےلئے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے ۔

انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سرحدی تنازعہ بلکہ ریاست کے لوگوں کا حق خودارادیت کا مسئلہ ہے ۔ پانچ اگست کو ہندستان نے مقبوضہ کشمیرمیں ایسے اقدامات اٹھائے جن سے اس نے اقوام متحدہ میں کیے گئے اپنے ہی وعدوں کی خلاف ورزی کی۔

انہوں نے شرکاءسے کہاکہ آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کا کیس ہر جگہ لڑوں گااور یہ میرا فرض بھی ہے ۔آپ دھرنا موخر کریں تاکہ ہم آل پارٹیز کانفرنس بلا کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں ۔ اس مشن کی تکمیل میں کوئی کمی نہیں چھوڑیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ تمام شرکاءجن میری بیٹیاں ، بہنیں اور بھائی شامل ہیں کو خراج تحسین پیش کرتاہوں اور انجمن تاجران جہلم ویلی کا بھی شکرگزار ہوں ۔

محکمہ تعلقات عامہ کی جانب سے ہی جاری ایک دوسرے پریس ریلیز کے مطابق وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدرخان کی اپیل پر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے قائمقام چیئرمین عبدالحمید بٹ نے جسکول کے مقام پر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا سیز فائر لائن کراس کرنے کےلئے جاری دھرنا موخر کرنے کا اعلان کیا، جس کے بعد دھرنا موخر کر دیا گیا۔

مقامی صحافی اعجاز احمد میر کے مطابق دھرنا سے خطاب کے دوران جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے زونل صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی نے وزیراعظم فاروق حیدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم دھرنا چھ ماہ کے لیے موخر کرتے ہیں چھ ماہ میں ہمارے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو ہم پھر لائن آف کنٹرول کو توڑنے کے لیے نکلیں گے پھر ہمیں دنیا کی کوئی طاقت آگے بڑھنے سے روک نہیں سکتی ہمارے دھرنے میں سب سے زیادہ حمایت پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے کی اور ان کے قائدین ہمارے پاس آئے ان کے ساتھ ساتھ دھرنا میں آنے والی دیگر سیاسی قیادت، ضلع جہلم ویلی سمیت پورے آزاد کشمیر کے عوام اور لبریشن فرنٹ کے کارکنان کے شکر گزار ہیں جن کی وجہ سے مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہوا اور اقوام متحدہ کے نمائندگان نے ہم سے مذاکرات کئے

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: