قوم پرست جماعت جموں کشمیر لبریشن (یاسین ملک) کی کال پر بھمبر سے سری نگر براستہ چکوٹھی آزادی مارچ کے شرکاء و قائدین نے انتظامیہ اور حکومت کو مطالبات پورے کرنے کےلئے تین دن کی ڈیڈ لائن دیدی ہے۔دھرنا قائدین تین دن میں اقوام متحدہ کے نمائندگان اور پانچ مستقل ممبرممالک کے نمائندگان کے جسکول میں مذکرات کے لیے نہ لائے جانے کے بعد حتمی لائحہ کا اعلان کریں گے۔
مقامی صحافیوں کے مطابق فرنٹ قائدین مختلف امکانات پر غور کر رہے ہیں.
فرنٹ قائدین نے مختلف تجاویز پر غور شروع کردیا۔
جے کے ایل ایف کے زونل صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی،حافظ انور سماوی،سردار انور،ساجد صدیقی،رفیق ڈار اور دیگر نے دھرنا شرکاء سے دوران خطاب کہا کہ ساتھیوں کی غیر معینہ مدت تک بھوک ہڑتال،رکاوٹوں کو عبور کرنے سمیت مختلف تجاویز سامنے آرہی ہیں۔ حکومت اور انتظامیہ تین دن میں یہ رکاوٹیں نہیں ہٹاتی یا یو این ،سلامتی کونسل ممبران کے مدلل نمائندگان کو مذاکرات کے لیے نہ لانے پر پارٹی قائدین کی مشاورت سے فیصلہ کریں گے۔
ہم بھوک ہڑتال،سر پہ کفن باندھ کر ان رکاوٹوں کو عبور کرنے سمیت مختلف آپشنز پر غور کررہے ہیں۔تجاویز یہ بھی ہیں کہ اس منحوس خونی لکیر کو روند کرمقبوضہ ریاست کے اس حصے میں داخل ہوں ۔اس آپشن کے استعمال پرروندنے والا پہلا دستہ 60سال سے اوپر کے بزرگوں کا ہوگا،نوجوان جذباتی ہیں،پہلے مقابلہ بزرگ کریں گے،نوجوان بعد میں جائیں گے،قائدین نے کہا کہ ہمارے لوگ 69روز سے ایک پنجرے میں بند ہیں کسی کوکوئی فکر نہیں۔ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔آزادی ہمارا بنیادی حق ہے،جس کے حصول کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
تاہم حتمی اور اصولی فیصلہ پارٹی مشاوت سے کریں گے۔
جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی نےچناری اور چکوٹھی کے درمیان جاری احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تین دن تک کنٹینر نہ ہٹائے گئے تو لبریشن فرنٹ کے کارکن دریائے جہلم میں پھینک کر سرینگر کی طرف مارچ شروع کر دیں گے، فاروق حیدر کنٹینر دومیل پل سے وصول کر لیں .
انہوں نے کہا کہ ہم ریاست پاکستان کے خلاف نہیں ہیں ہماری خواہش ہے کہ پاکستان ترقی کرے اور خوشحال رہے، ہمارے گلے پاکستان کے حکمرانوں سے ہیں جنہوں نے ہمیشہ ہمیں دھوکہ دیا،عمران خان نے ستائیس ستمبر کا وعدہ کیا تھا کہ میں کشمیریوں کو عزت دلاؤں گا اور انکی آزادی کی ترجمانی کروں گا لیکن اب تک نتیجہ کوئی نہیں نکلا مجبوراً ہمیں یہ اقدام اٹھانا پڑا آزادی کی خاطر گھروں سے نکل آئے ہیں ،سرینگر ہماری منزل ہے مر جائیں گے لیکن واپس نہیں جائیں گے.
انہوںنےکہا کہ سیاسی جماعتیں ہمارے دھرنے میں یکجہتی تو کرتی ہیں اور وآپس جا کر اپنے کیمپوں میں منافقت کرتی ہیں ضلع جہلم ویلی کی انتظامیہ چکوٹھی کے عوام کو ورغلانے سے بعض رہے راستے حکومت اور انتظامیہ نے بند کر رکھے ہیں ہم نے کوئی راستہ بند نہیں کیا عمران خان نے بھی ہمیں انڈیا کا ایجنٹ کہہ کر تحریک آزادی کشمیر سے غداری کی ہے ہم صرف کشمیر کے ایجنٹ ہیں اور کسی کے ایجنٹ نہیں ہیں












13 تبصرے “تین دن کی ڈیڈ لائن: ساٹھ سالہ بزرگ کنٹرول لائن روندنے کے قافلہ میںآگے ہونگے”