جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (یاسین ملک گروپ) کے زیر اہتمام بھمبر تا سرینگر فریڈم مارچ کا آغاز چار اکتوبر کو پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے ضلع بھمبر سے ہو گا، چار اکتوبر کو ہی شرکاء مارچ میرپور، کوٹلی، ہجیرہ سے براستہ راولاکوٹ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کی جانب روانہ ہونگے، مظفرآباد میں رات قیام کے بعد پانچ اکتوبر کی صبح مظفرآباد سے براستہ چکوٹھی سرینگر کیلئے پیدل مارچ کا آغاز کیا جائیگا۔
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے قائدین کی جانب سے ”سیز فائر لائن توڑ دو، بکھری ریاست کو جوڑ دو“ کے نعرے کے تحت”فریڈم مارچ“کے ذریعے لائن آف کنٹرول کو توڑنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی جانب سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے تمام اضلاع، تحصیلوں اور یونین کونسل ہا میں بھرپورعوامی رابطہ مہم کا سلسلہ تاحال جاری ہے، دارالحکومت مظفرآباد سمیت تمام اہم مقامات اور شہروں پر بینرز، جھنڈے اور پوسٹرز آویزاں کئے گئے ہیں، ضلعی و تحصیل ہیڈکوارٹرز پر اناؤنسمنٹ اور وال چاکنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے، جبکہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے علاوہ پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی بھرپور رابطہ مہم چلائی جا رہی ہے۔
فریڈم مارچ کی قیادت مرکزی سینئر وائس چیئرمین عبدالحمید بٹ جو چیئرمین یایسن ملک کی گرفتاری کی وجہ سے قائمقام چیئرمین کی ذمہ دارایاں نبھا رہے ہیں، وائس چیئرمین سلیم ہارون، ترجمان رفیق ڈار، صدر آزادکشمیر گلگت بلتستان زون ڈاکٹر توقیر گیلانی، سابق چیف آرگنائزرسردار قدیر خان، محترمہ طاہرہ توقیر، ساجد صدیقی کے علاوہ دیگر قائدین کریں گے۔
فریڈم مارچ کی حمایت میں پانچ اکتوبر کو مظفرآباد کے تاجران نے مکمل شٹر ڈاؤن کرتے ہوئے مارچ کے شرکاء کو پورے اعزاز کے ساتھ چکوٹھی سیز فائر لائن کی طرف روانہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ لبریشن فرنٹ کی جانب سے مختلف مقامات پر رابطہ مہم کے دوران انتظامیہ کی جانب سے خلل ڈالنے، کارکنوں کو گرفتار کرنے، پوسٹرز اور بینرز وغیرہ اتارے جانے کے الزامات بھی عائد کئے ہیں۔
پاکستان کے معروف صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے بھی لبریشن فرنٹ کے فریڈم مارچ کے سلسلہ میںجب ٹویٹ کرتے ہوئے مارچ کی تفصیلات شیئر کیں تو مختلف لوگوںنے اس پر اپنے انے تاثرات کا اظہار کیا.
کشمیری قوم پرست تنظیموںسے تعلق رکھنے والے کچھ ٹویٹر اکاؤنٹس نے مارچ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے علامتی احتجاج قرار دیا، جبکہ تحریک انصاف سمیت مذہبی جماعتوں سے منسلک ٹویٹر ہینڈلز سے مارچ کی یکسر مخالفت کرتے ہوئے ایک طرف عمران خان کی تقریر کی تعریفیںکی جا رہی ہیںتو دوسری جانب جہاد کے ذریعے کشمیر کی آزادی کا راستہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے.
فرنٹ قیادت کی جانب سے بھمبر تک سرینگر مارچ کا اعلان کرتے ہوئے سیز فائر لائن کو پاؤں تلے روندنے کا اعلان کر رکھا ہے تاہم کچھ کارکنان اور رہنماؤں کی جانب سے یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ لبریشن فرنٹ کے قافلے مظفرآباد پہنچ کر دھرنے کی شکل اختیار کر لیں گے اور مظفرآباد اسمبلی کا گھیراؤ کرتے ہوئے گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کو ملا کر ایک خودمختار اسمبلی کے قیام کا مطالبہ کیا جائے گا جو بھارتی زیر انتظام کشمیر کی آزادی کیلئے جنگ لڑے گی۔ تاہم مرکزی قیادت نے اس طرح کی کسی بات کی تصدیق نہیں کی ہے۔












20 تبصرے “کنٹرول لائن توڑنے کےلئے ”فریڈم مارچ” چار اکتوبر کو بھمبر سے شروع ہوگا”