پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ”ریاست جموں کشمیر چھوڑ دو تحریک“ کا آغاز، ریاست گیر مظاہرے، ہزاروں افراد کی شرکت

رپورٹ: حارث قدیر

پیپلز نیشنل الائنس کے زیر اہتمام جموں کشمیر چھوڑ دو تحریک کے سلسلہ میں راولاکوٹ میں منعقدہ ریلی کے مناظر

Posted by Daily Mujadala on Monday, August 26, 2019

پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ترقی پسند اور قوم پرست تنظیموں پر مشتمل جموں کشمیر پیپلز نیشنل الائنس کے زیر اہتمام ”جموں کشمیر چھوڑ دو تحریک“ کا آغاز کر دیا گیا ہے، چھبیس اگست پیر کے روز پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے ضلعی اورتحصیل ہیڈکوارٹرز کے علاوہ پاکستانی شہر راولپنڈی میں احتجاجی مظاہرے منعقد کئے گئے ہیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں سیاسی کارکنوں اور عام شہریوں نے شرکت کرتے ہوئے پیپلز نیشنل الائنس کی جانب سے شروع کی گئی تحریک پربھرپوراعتماد کا اظہار کیا ہے۔ پیرکے روز مظفرآباد، راولاکوٹ، میرپور، کوٹلی، باغ، سدھنوتی، بھمبر، ہجیرہ، عباسپور، راولپنڈی اور دیگر مقامات پراحتجاجی ریلیاں اور جلسے منعقد کئے گئے ہیں۔ تین ستمبر کو مظفرآبادکے مقام پر پی این اے کے آئندہ اجلاس میں تحریک کے مستقبل کا لائحہ عمل ترتیب دیا جائیگا۔

راولاکوٹ:
تحریک کا سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ راولاکوٹ میں منعقد کیا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں شہریوں اور سیاسی کارکنوں نے شرکت کی، مظاہرین نے بھارتی زیر انتظام کشمیر میں کرفیو، پابندیوں، فوجی جبر اور آئینی اور سیاسی حقوق چھینے جانے کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے مزاحمت کرنے والے کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا، غیر ملکی افواج کے جموں کشمیر کے تمام علاقوں سے انخلاء، سیاسی اسیران کی رہائی، آئین ساز اسمبلیوں کے قیام سمیت کشمیر کی مکمل آزادی وخودمختاری کے حق میں نعرے بازی کی، مظاہرین نے کنٹرول لائن پر دونوں افواج کی فائرنگ کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کنٹرول لائن متاثرین سے اظہار یکجہتی کیا، مظاہرین نے پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ملازمین کے خلاف ہونے والی انتقامی کارروائیوں کی بھی مذمت کی گئی۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ پیپلز نیشنل الائنس کی ریاست جموں کشمیر چھوڑ دو تحریک کے راولاکوٹ جلسہ سے خطاب کر رہے ہیں

Posted by Daily Mujadala on Monday, August 26, 2019

مظاہرین نے شہر کا چکر لگانے کے بعد نالہ بازار راولاکوٹ میں احتجاجی جلسہ کیا، جلسہ سے چیئرمین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ، رہنما لبریشن فرنٹ (رؤف) خلیل احمد حبیب، رہنما جے کے پی این پی عمران شان، صدر سروراجیہ انقلابی پارٹی فاروق حسین صابر، ضلعی صدر نیشنل عوامی پارٹی ذوالفقار عارف، رہنما جے کے این ایس ایف خلیل بابر، رہنما لبریشن فرنٹ (یاسین) ایس ایم ابراہیم، رہنما نیپ اظہر کاشر، تاجر رہنما عمر نذیر کشمیری، ساجد اعظم، کاشف عباس، امتیاز اکبر ایڈووکیٹ، نعیم ناز، یاسر یونس، یاسر ارشاد، طارق عزیز اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سابق سینئر نائب صدر کامریڈ خلیل بابر پی این اے کے راولاکوٹ جلسہ سے خطاب کر رہے ہیں

Posted by Daily Mujadala on Monday, August 26, 2019

مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں کشمیر چھوڑ دوتحریک کو منقسم ریاست کے تمام خطوں میں منظم کرتے ہوئے بھارت و پاکستان کے محنت کشوں کے ساتھ جدوجہد کو مشترکہ طور پر جوڑ کر کشمیر کی مکمل آزادی، خودمختاری اور منصفانہ سماج کے قیام کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے، مقررین کا کہنا تھا کہ ریاست جموں کشمیر سے تمام غیر ملکی افواج کے انخلاء، سیاسی اسیران کی رہائی، آئین ساز انقلابی حکومت کے قیام، سٹیٹ سبجیکٹ رول کی تمام حصوں میں بحالی تک یہ تحریک جاری رہے گی، اس خطے کے وسائل کو اس خطے کے عوام پر خرچ کرنے اور تعلیم، صحت، روزگار و انفراسٹرکچر جیسی بنیادی سہولیات کی تمام باشندگان ریاست کو فراہمی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی، انہوں نے کہاکہ پاکستان اور بھارت کے حکمران طبقات نے عالمی سامراجی ممالک کے ساتھ مل کر اس خطے کے وسائل کو لوٹنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے، نام نہاد مسلم امہ سمیت عالمی اداروں، اقوام متحدہ کی حقیقت کھل کر لوگوں کے سامنے آچکی ہے، ہم کسی عالمی سامراجی ادارے کی ایماء پر آزادی کی جدوجہد کو منظم نہیں کریں گے، نہ ہی پاکستان و بھارت کی ریاستوں کی ایماء پر کسی پراکسی وار کا عوام کو حصہ بننے دینگے، عوامی طاقت کو منظم کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے محنت کشوں کی جدوجہد کے ساتھ جدوجہد کو جوڑتے ہوئے ہم نہ صرف اس خطے بلکہ پورے برصغیر کی پونے دو ارب آبادی کے مستقبل کو سنوارنے اور حقیقی آزادی کے حصول کی جدوجہد کو منظم کریں گے۔ جلسہ کے اختتام پر قراردادیں پیش کی گئیں جنہیں تمام افراد نے متفقہ طور پر منظور کیا۔

مظفرآباد:
دوسرا مظاہرہ مظفرآباد میں منعقد کیا گیا، سنٹرل پریس کلب مظفرآباد کے سامنے سے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں ترقی پسند اور قوم پرست رجحانات نے شرکت کی،سینکڑوں مرد و خواتین پر مشتمل ریلی مختلف شہراہوں سے ہوتی ہوئی دومیل یو این ملٹری آبرویشن دفر پہنچی جہاں پر پی این اے کی قیادت نے کشمیر میں جاری ریاستی جبر کے حوالہ سے ایک کرارداد پیش کرنی تھی لیکن یو این او کے کوئی بھی نمائندہ اپنے دفتر سے باہر نہیں آیا اور احتجاجی نمائندوں نے احتجاجی طور پر قرارداد کو جلا دیا، دوران ریلی کشمیر کی آزادی،کشمیر سے پاکستانی اور ہندوستانی افواج کے انخلاء اور انقلاب کے حق میں نعرے لگائے گئے،ریلی یو این آفس سے واپس پریس کلب پہنچی جہاں پر پیپلز نیشنل الائنس کے جنرل سیکرٹری لیاقت حیات نے خطاب کیا۔

راولپنڈی:
راولپنڈی میں جموں کشمیر پیپلز نیشنل الائنس کے زیر اہتمام ریاست جموں کشمیر کی تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال اور ریاست میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کیخلاف راولپنڈی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر گلگت بلتستان سمیت ریاست کے تمام حصوں میں اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کو بحال کرو۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرو، بھارتی کشمیر اور گلگت بلتستان کے سیاسی اسیران کو رہا کرو، ریاست کی مذہبی بنیادوں پر تقسیم نا منظور اور مسئلہ کشمیر کا ایک ہی حل ریاست جموں کشمیر کو چھوڑ دو جیسے نعرے درج تھے۔
مظاہرین سے خطاب ہوئے پی این اے کے رہنماؤں نے کہا کہ 1947میں انڈیا اور پاکستان کی آزادی کے ساتھ ہی ریاست جموں کشمیر کوغلام بنا دیا گیا تھا جسکی وجہ سے گزشتہ 75سالوں میں انڈیا اور پاکستان کی پالیسیوں کی وجہ سے ہزاروں کشمیری لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ لیکن مسئلہ کشمیر ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کی آزادی کے سوال کے بجائے انڈیا اور پاکستان کے تنازعے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ بھارت نے ریاست کی خصوصی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے جہاں ریاست کے ایک حصے پر براہ راست قبضہ کرلیا ہے، وہیں پاکستان نے اسکے جواب میں کشمیر بنے گا پاکستان کا دن منا کر یہ ثابت کردیا ہے کہ یہ دونوں ممالک ریاست جموں کشمیر کے عوام کی آواز سننے کیلئے تیار نہیں ہیں بلکہ اپنی سرحدوں میں توسیع کرکے پوری ریاست پر قبضے کو ہی مسئلہ کشمیر کا حل سمجھتے ہیں۔

Posted by JKPNA on Monday, August 26, 2019

ماضی کی تاریخ گواہ ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے حکمران طبقات سمیت تقسیم شدہ ریاست کے مختلف حصوں میں بیٹھاہوا انکامقامی سہولت کار حکمران طبقہ مسئلہ کشمیر کو ایک منافع بخش کاروبار بنا چکا ہے۔ مسئلہ کشمیر کو سکیورٹی تھریٹ کہہ کر یہ لوگ نہ صرف کشمیریوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں۔ بلکہ ہندوستان اور پاکستان میں بسنے والے کروڑوں محنت کش عوام کا خون بھی نچوڑ رہے ہیں۔ انڈیا، پاکستان اور کشمیر میں بسنے والے کروڑوں لوگ آج بھوک،ننگ، بیروزگاری، بیماری، جہالت، غربت، اور بڑھتی ہوئی طبقاتی تفریق کا شکار ہیں۔ ایک طرف عوام خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جبکہ دوسری طرف اربوں روپے دفاع و طن کے نام پر نیوکلیئر ہتھیاروں پرخرچ کئے جارہے ہیں۔
ہندوستان، پاکستان اور عالمی سامراجی ممالک کے جو تجارتی و معاشی مفادات ہیں وہ کشمیری عوام کی آزادی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ تحریک آزادی کشمیر آج تک ایک پراکسی وار کے طور پر سامنے آئی ہے نہ کہ کشمیریوں کی قومی آزادی کی جنگ کے طور پر،یہی وجہ ہے کہ عالمی اداروں نے بھی چپ سادھ لی ہے۔جموں کشمیر پی۔ این۔اے یہ سمجھتا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان میں بسنے والے کروڑوں محنت کش جب تک اپنے حکمرانوں پر دباؤ نہیں ڈالیں گے کشمیریوں کو آزاد ی نہیں ملے گی۔ جموں کشمیر پی۔این۔ا ے بہت واضح موقف لے کر سامنے آیا ہے جسکے تحت مسئلہ کشمیر اپنی منتقی حل کی طرف جاسکتا ہے۔ جموں کشمیر پی۔این۔اے کا واضح موقف ہے کہ جب تک ریاست کے تمام قابض حصوں سے دونوں ممالک کی افواج کا انخلانہیں ہوگا اور ریاست کی وحدت کو 1947کی پوزیشن پر بحال کرنے کا اعلان نہیں کیا جائیگا۔ اس وقت تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوسکتا۔ پی۔این۔اے سمجھتا ہے کہ اس مقصد کا حصول تب ہی ممکن ہے جب پاکستان کشمیر سے اپنی پراکسی وار کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کشمیریوں کو خود بنیادی فریق تسلیم کرے اور انہیں یہ اختیار دے کہ وہ اپنی تحریک آزادی خود لڑیں نہ کہ پاکستان کے جھنڈے اور نعرے کے ذریعے پراکسی وار کریں۔احتجاج کے آخر میں قراردادوں کی صورت میں پی۔این۔اے کے مطالبات بھی پیش کئے گئے۔ مظاہرین سے شفقت انقلابی، نثار شاہ ایڈووکیٹ،سردار انور ایڈوکیٹ، ساجد کاشرایڈووکیٹ، کامران نصیر، فہد زرین، آصف رشید، شہریار خان، ذیشان عنایت، رئیس، فرخ شاہین، حافظ عبید، نعمان،پروفیسر خلیق اورکامریڈ ریحانہ نے خطاب کیا۔

کوٹلی:
کوٹلی میں پی این اے کے زیر اہتمام ”ریاست جموں کشمیر چھوڑ دو تحریک“ کے سلسلہ میں احتجاجی ریلی ڈگری کالج گراؤنڈ سے شروع ہوئی اور شہید چوک میں جلسہ عام کا انعقاد کیاگیا، کوٹلی میں جلسہ سے لبریشن فرنٹ کے زونل صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی، نیشنل عوامی پارٹی کے سردار نیاز، ایس ایل ایف کے چیئرمین راجہ عابد، وقاص خالق، ریاض چانڈیو، خلیق بیگ اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔

پلندری:
ضلع سدھنوتی کے صدر مقام پلندری میں پی این اے کے زیر اہتمام ”ریاست جموں کشمیر چھوڑ دو تحریک کے سلسلہ میں احتجاجی ریلی منعقد کی، مرکزی چوک میں احتجاجی جلسہ کا انعقاد کیا گیا، ریلی میں سینکڑوں کی تعداد میں کارکنان نے شرکت کی، پلندری میں پی این اے کے جلسہ سے لبریشن فرنٹ(رؤف) کے سپریم ہیڈ سردار رؤف کشمیری، سروراجیہ انقلابی پارٹی کے جنرل سیکرٹری سجاد افضل، این ایس ایف کے مرکزی سیکرٹری جنرل کامریڈ یاسر حنیف، یاسین انجم، عرفان قیوم، شاہزیب اختر، ڈاکٹر نجیب اللہ اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ پروگرام کے آخرمیں قراردادیں پیش کی گئیں جنہیں حاضرین نے متفقہ طور پر منظور کیا۔

ہجیرہ:
پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے ضلع پونچھ کے تحصیل ہیڈکوارٹرہجیرہ میں بھی پیپلز نیشنل الاؤنس(پی این اے) کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا، ریلی کالج گراؤنڈ سے شروع ہوئی اور شہر کا چکر لگانے کے بعد مرکزی چوک میں احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا، جلسہ سے انصار احمد، واجد علی واجد، ملک الیاس، سکندر علی قمر، اعجاز ایڈووکیٹ، کامریڈ ارسلان شانی،ملک ذوالفقار، ساجد محمود اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔

باغ:
پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے ضلع باغ میں بھی پیپلز نیشنل الائنس کے زیر اہتمام ”ریاست جموں کشمیر چھوڑ دو تحریک“ کے سلسلہ میں احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا، ڈگری کالج گراؤنڈ سے شروع ہونے والی احتجاجی ریلی باغ شہر کے مرکزی چوک میں جلسہ کی شکل اختیار کر گئی، جلسہ سے جہانگیر مرزا، عثمان کاشر، عمر عباسی، عبدالستار ایڈووکیٹ، کامریڈ تیمور، افضل کشمیری، آصف الیاس اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔

میرپور:
پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے ڈویژنل ہیڈکوارٹر میرپورمیں بھی پی این اے کے زیر اہتمام ریاست جموں کشمیر چھوڑ دو تحریک کے سلسلہ میں احتجاجی ریلی اور جلسہ کا انعقاد کیا گیا، شہیدچوک میں منعقدہ احتجاجی جلسہ سے ذوالفقاراحمد راجہ ایڈووکیٹ،صغیر چوہدری، سعد انصاری، شفقت انقلابی، رضوان کرامت اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔

بھمبر:
پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے ضلعی صدر مقام بھمبر میں بھی پی این اے کے زیر اہتمام ریاست جموں کشمیر چھوڑ دو تحریک کے سلسلہ میں احتجاجی ریلی اور جلسہ کا انعقاد کیا گیا۔ احتجاجی ریلی میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی، جلسہ سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے پی این اے کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کو منظم کرنے اور حقیقی آزادی کی منزل کے حصول تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

پیپلز نیشنل الائنس نے راولاکوٹ سے ریاست جموں و کشمیر چھوڑ دو تحریک کا آغاز کر دیا.

Posted by Kashmir Social Forum on Monday, August 26, 2019

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: