پاکستانی اور کشمیری کسی خام خیال میں نہ رہیں: شاہ محمود قریشی

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل اراکین میں سے کوئی بھی ملک پاکستان کی کشمیر کے حوالے سے کوششوں میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں اور کشمیروں کو خام خیالی میں نہیں رہنا چاہیے۔ ’وہاں آپ کے لیے کوئی ہار لے کر نہیں کھڑا۔۔۔ آپ کا کوئی وہاں منتظر نہیں ہے۔۔۔ یہ تو آپ کو ایک نئی جدوجہد کا آغاز کرنا پڑے گا اور کوئی ساز گار ماحول نہیں ہے۔‘

شاہ محمود قریسی کا کہنا تھا کہ ’دنیا میں لوگوں کے مفادات ہیں۔ (انڈیا) ایک ارب کی مارکیٹ ہے۔ اس خطے میں آپ نے نئی ری الائنمنٹ دیکھی ہے۔ بہت سے لوگوں نے وہاں سرماہی کاری کر رکھی ہے۔ ویسے تو ہم امہ اور اسلام کی بات تو کرتے ہیں مگر امہ کے محافظوں نے بہت سی سرمایہ کاری کر رکھی ہے وہاں، ان کے مفادات ہیں وہاں۔‘

یاد رہے کہ شاہ محمود قریشی نے یہ بات ایک ایسے وقت پر کی ہے جب گذشتہ روز سعودی عرب کی سب سے بڑی تیل ہیدا کرنے کی کمپنی آرامکو نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ انڈین کمپنی ریلائنس میں 20 فیصد شیئرز خرید رہی ہے۔ ریلائنس دنیا میں خام تیل کو ریفائن کرنے کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔

اس سے قبل کشمیریوں سے یکجہتی کے اظہار کے لیے پاکستان کی سیاسی قیادت نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عید منائی جہاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’انڈیا کے غیر آئینی اقدامات پر صرف پاکستان کو نہیں چین کو بھی اعتراض ہے۔‘

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مانک پائیاں مہاجرین کیمپ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سیکورٹی کونسل کے رکن نہیں، ہمیں کشمیر کا مقدمہ لڑنے کے لیے وکیل کی ضرورت تھی۔ میں اس لیے چین گیا اور آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ میں چین کی طرف سے کشمیر کا مقدمہ سکیورٹی کونسل میں لڑنے کے لیے وکالت نامہ لے آیا ہوں۔‘

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ نواز کے سینیٹر اقبال ظفر جھگڑا سمیت دیگر پاکستانی رہنماؤں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور عوامی اجتماعات اور پریس کانفرنسز سے خطاب کیے۔

کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے مظفر آباد کی مسجد میں عید کی نماز کے بعد ایک ریلی نکالی گئی جس میں ان رہنماؤں نے شرکت کی۔

عمران خان کا اقوام متحدہ کا دورہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگلے ماہ (ستمبر میں) وزیر اعظم عمران خان آپ کا مقدمہ لڑنے اقوام متحدہ جا رہے ہیں۔ انھوں نے ملک سے باہر موجود ہر پاکستانی سے اپیل کی کہ جب انڈین وزیر اعظم نریندر مودی اقوام متحدہ میں جائیں تو وہ پاکستانی اقوام متحدہ کے باہر احتجاجاً موجود ہوں۔ انھوں نے کہا کہ ’اصولی، قانونی طور پر آپ کا مقدمہ بہت مضبوط ہے۔‘

عمران خان کے اقوام متحدہ جانے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کمیٹی اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان ان انڈین اقدامات کے خلاف اقوام متحدہ جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ شملہ معاہدہ اور لاہور ڈیکلریشن کے باوجود (مسئلہ کشمیر پر) کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ شملہ معاہدے میں معاملات کو دوطرفہ روابط سے حل کرنے کا ذکر تھا لیکن اس پر حملہ بھارت نے خود کیا ہے اس لیے پاکستان نے بھارت کے ساتھ اپنے معاہدوں کو ریویو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

’نیشنل سکیورٹی کونسل میں وزیر اعظم عمران خان نے میری سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں ہم ان معاہدوں کا جائزہ لیں گے۔‘

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’انڈیا کشمیریوں کی آہ و بکا پر اپنے کان بند کر لیتا ہے، منھ پھیر لیتا ہے۔ اس لیے ہم اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان 14 تاریخ کو مظفرآباد تشریف لا رہے ہیں اور وہ پارلیمان سے خطاب کریں گے۔

’اگر پاکستان کا وزیر اعظم نہیں لڑے گا تو کون لڑے گا‘
پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے جہاں تحریک انصاف کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا وہیں انھوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت قیادت دکھائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کشمیریوں کے حقوق پر تاریخی حملہ ہوا ہے۔

’ہمارا مقابلہ ایک ایسے شخص سے ہے جو گجرات کا قصائی ہے، اب کشمیر کا قصائی بن گیا ہے۔‘

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ کشمیر کے مسئلے کو سیاست سے بالاتر رکھا جائے۔

’آج بلاول صاحب یہاں تشریف لائے، ہم نے اکٹھے نماز عید ادا کی، ایک اچھا پیغام دنیا بھر میں گیا لیکن میں ان سے بھی یہی کہوں گا کہ سیاست کریں لیکن کشمیر کے پرچم میں ملغوف کر کے نہ کی جائے۔‘

جمعے کو سری نگر کے علاقے صورہ میں مظاہرین کو پولیس کی جانب سے چھّروں اور آنسو گیس کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات پیش آئے تھے
کشمیری رہنماؤں سے ملاقاتیں

شاہ محمود قریشی نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر سردار مسعود خان سے بھی ملاقات کی اور مشترکہ پریس کانفرس بھی کی۔

مسعود خان نے کہا کہ انڈیا نے کشمیر میں اضافی فوج تعینات کر کے ’کشمیریوں کا قتل عام‘ شروع کردیا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران ہی جب پولینڈ کے وزیر خارجہ کی پاکستانی وزیر خارجہ کو فون کال سے متعلق بتایا گیا تو شاہ محمود قریشی نے اس کال کو اہم قرار دیتے ہوئے پریس کانفرنس ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

اس سے قبل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’کشمیر کے جھنڈے تلے پاکستان کی سیاست نہیں کرنی چاہیے، کشمیر کے ایشو پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان ملائشیا ،ترکی ،برطانیہ ، انڈونیشیا اور باقی ممالک کے سربراہان سے گفتگو کر رہے ہیں۔

’میری بھی مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے ہو رہے ہیں، آج بھی میری پولینڈ کے وزیر خارجہ سے بات ہو گی۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان اپنی بھرپور کوشش اور جدوجہد جاری رکھے گا ’لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری کاوشیں اس وقت تک کامیاب نہیں ہوں گی جب تک دنیا بھر میں موجود پاکستانی اور کشمیری اس جدوجہد کے ہراول دستے میں شامل نہیں ہوتے۔‘

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: