چیئرمین پی پی پی، بلاول بھٹو، سینیٹ میں تحریک عدم اعتماد کے دوران پارٹی ڈسپلین سے انحراف کرنے والے سینیٹرز کو بے نقاب کرنا چاہتے ہیں
سینیٹ کے چیئرمین کے خلاف اپوزیشن کی تحریکِ عدم اعتماد کی ناکامی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹرز کے کردار کے بارے میں حقائق جاننے کے لیے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔
پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تحریک کی ناکامی کے بعد اپنے سینیٹرز کے کردار کے بارے میں انکوائری کا اعلان کیا تھا۔
حقائق کمیٹی منگل، 6 اگست کو اسلام آباد میں اپنی تحقیقات کا آغاز کرے گی جس کا اجلاس سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی رہائش گاہ پر ہو گا۔
پیپلز پارٹی کی ایک پریس ریلیز کے مطابق کمیٹی میں یوسف رضا گیلانی، نیّر حسین بخاری، سعید غنی، صابر بلوچ اور فرحت اللہ بابر شامل ہیں اور الگ الگ صوبوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
جمعرات کے روز چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف متحدہ اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی جس کی تائید چونسٹھ ارکان نے کی تاہم تحریک پر خفیہ رائے شماری میں اپوزیشن مطلوبہ 53 ووٹ حاصل نہ کر سکی۔
سنیچر کو پارٹی کے ایک رہنما فرحت اللہ بابر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سینیٹ میں ہونے والی ‘ہارس ٹریڈنگ’ سے چیئرمین بلاول بھٹو کو سخت مایوسی ہوئی ہے اس لیے انھوں نے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متحدہ حزبِ اختلاف اکثریت کے باوجود صادق سنجرانی کو ہٹانے میں کیوں کامیاب نہ ہو سکی۔
فرحت اللہ بابر کے بقول ‘وہ گھناؤنا کردار ادا کرنے والے سینیٹرز کو بے نقاب، اور پارٹی نظم کی خلاف ورزی اور انحراف کرنے والوں کو سزا دینا چاہتے ہیں۔’
پریس ریلیز کے مطابق کمیٹی سینیٹرز کی جانب سے پارٹی چیئرمین کو موصول ہونے والے استعفوں کے بارے میں بھی سفارشات دے گی۔
تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ 26 جون کو اتفاق رائے سے اسلام آباد میں ہونے والی کثیرالجماعتی کانفرنس میں کیا گیا تھا۔
فرحت اللہ بابر نے توقع ظاہر کی ہے کہ اپوزیشن کی دوسری جماعتیں بھی اپنے سینیٹرز سے متعلق ایسا ہی کریں گی۔
جنرل فیض سے توقع ہے اپنے ادارے کو سیاست سے الگ رکھیں گے، بلاول
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جنرل فیض حمید سے توقع ہے کہ آئی ایس آئی کو سیاست سے الگ رکھیں گے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ ووٹنگ میں کھلے عام دھاندلی ہوئی، پی پی پی کے تمام سینیٹرز نے استعفیٰ دے دیے ہیں لیکن ہم نے اب تک کسی کا استعفی قبول نہیں کیا بلکہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی ہے، جب تک تحقیقات کا عمل مکمل نہیں ہوجاتا میں کسی پر شک نہیں کرسکتا، پی پی پی سینیٹر کو دھمکیاں بھی دی گئیں جبکہ جہانگیر ترین اور گورنر پنجاب چوہدری سرور نے بھی رابطہ کیا تھا۔
حاصل بزنجو کے جنرل فیض پر الزامات سے متعلق سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ قانون کو توڑنے والوں اور غیر جمہوری طاقتوں کو عدالتی مدد دینے والوں پر سنگین غداری کا آرٹیکل 6 لگتا ہے، یہ آرٹیکل صرف ان لوگوں پر لاگو ہوتا جو آئین کو توڑیں۔
بلاول کا کہنا تھا کہ چیرمین سینیٹ کیخلاف ووٹنگ میں جنرل فیض کی مداخلت کی میرے پاس کوئی خبر نہیں آئی لیکن غیر جمہوری قوتیں اس معاملے میں ملوث تھیں، ماضی میں آئی ایس آئی سیاست میں اور دھاندلی کےلیے استعمال ہوئی ہے، اب وہ چیزیں نہیں ہونی چاہئیں، آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض سے بڑی توقعات ہیں کہ اپنے ادارے کو سیاست سے الگ رکھیں گے، متنازع نہیں بننے دیں گے، اور حکومت کے ہاتھوں اپنے ادارے کو استعمال نہیں ہونے دیں گے۔












17 تبصرے “تحریک عدم اعتماد:تحقیقات کے لیے بلاول بھٹو نے کمیٹی قائم کر دی، جنرل فیض سے بھی توقعات وابسطہ”