پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما فرحت اللہ بابر نے الزام عائد کیا ہے کہ علی وزیر اور محسن داوڑ پر کڑی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، انہیں باہر کی دنیا سے بے خبررکھنے کےلئے جیل مینول (جیل کے دستور العمل) کے مغائر اقدامات کئے گئے ہیں. عدالتی احکامات کے برخلاف انہیں اخبارات تک رسائی نہیںدی جا رہی اور نہ ہی انہیںجیل لائبریری تک رسائی دی جا رہی ہے.
فرحت اللہ بابر نے اپنے ایک ٹویٹ میںکہا کہ علی وزیر اور محسن داور سے ملاقات کےلئے ہری پور جیل کا دورہ کرنے کے دوران معلوم ہوا کہ عدالتی احکامات کے باوجود انہیںاخبارات فراہم نہیںکئے جا رہے، نہ ہی انہیںجیل لائبریری کا دورہ کرنے کی اجازت ہے. جیل کو جیل کے دستور العمل کے تحت ہی چلایا جانا چاہیے اور اس میںآرمی کا کوئی کردار نہیںہونا چاہیے. آرمی ہری پورجیل کیوں چلا رہی ہے؟
واضح رہے کہ ملک کے قبائلی علاقہ جات سے ابھرنے والی عوامی حقوق کی تحریک پختون تحفظ موومنٹ کے قائدین اور پاکستان کی قومی اسمبلی کے دو ممبران علی وزیر اور محسن داوڑ کو ایک دھرنا میں شرکت کرنے پر انسداد دہشت گردی کے مقدمات قائم کر کے گرفتار کیا گیا تھا.












18 تبصرے “علی وزیر اور محسن داوڑ کےلئے ہری پور جیل مینول(دستور العمل) پرعملدرآمد نہیںکیا جا رہا، فرحت اللہ بابر”