ملازم رہنما اعجاز شاہسوار کو جبری ریٹائر کرنے کا حکم جاری، ناظم برقیات کےخلاف کارروائی نہ ہوسکی، ملازمین کا احتجاج

غیر جریدہ فنی ملازمین کے رہنما اعجاز شاہسوارکو جبری ریٹائر کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے، کمشنر پونچھ کی رپورٹ کی باوجود ناظم برقیات راولاکوٹ کے خلاف کوئی ایکشن نہیں‌لیا گیا، ملازمین نے حکام بالا کے فیصلہ کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلے کو سراسر ملازم دشمن فیصلہ اور لاقانونیت قرار دیا ہے.
جبری ریٹائرمنٹ کا حکم نامہ سروس ٹربیونل کے فیصلہ کے بعد قائم کردہ انکوائری کمیٹی کے سربراہ ڈائریکٹر انونٹری محکمہ برقیات نواز عباسی اور ممبر کمیٹی ایس ڈی او بلال کی جانب سے دی گئی انکوائری رپورٹ پرسیکرٹری برقیات کے احکامات کے بعد چیف انجینئر کی جانب سے جاری کیا گیا ہے.
غیر جریدہ فنی ملازمین کے مرکزی صدر وقت اعجاز شاہسوار کا محکمہ کے افسران کے ساتھ یہ تنازعہ رواں سال کے آغاز میں اس وقت سامنے آیا تھا جب اعجاز شاہسوار کو ایک دیگر ساتھی ملازم سمیت محکمہ کے ایک افسر کی جانب سے درج کروائی گئی ایف آئی آر میں گرفتار کر لیا گیا تھا، ایف آئی آر میں اعجاز شاہسوارپر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں‌نے ایس ڈی او برقیات راولاکوٹ محمد شہزاد خان پرحملہ کیا ہے، مذکورہ مقدمہ میں‌ ملازمین کے احتجاج اور ایس ڈی او کی جانب سے صلح نامہ پیش کرنے پر اعجاز شاہسوار کو رہا کر دیا گیا تھا.

سپیشل پاور ایکٹ کے تحت اعجاز شاہسوار کی برطرفی کا حکم نامہ تئیس جنوری کو جاری ہوا

سپیشل پاور ایکٹ کے تحت ملازمت سے برطرفی
رواں سال 23 جنوری کو جیل سے رہائی کے بعد اعجاز شاہسوار کو ناظم برقیات راولاکوٹ نے ایک انکوائری رپورٹ کی روشنی میں‌ سپیشل پاور ایکٹ کے تحت ملازمت سے برطرفی کا حکم نامہ جاری کر دیا تھا، محکمہ برقیات کے ملازمین نے اپنے مرکزی صدر کو ملازمت سے برطرف کئے جانے کے فیصلہ کو یک طرفہ قرار دیتے ہوئے ہڑتال کر لی تھی، ملازمین کا یہ موقف تھا کہ جس دن اعجاز شاہسوار کو انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا نوٹس جاری ہوا تھا اس دن اعجاز شاہسوار جیل میں‌تھا اور وہ جیل سے انکوائری کمیٹی کے سامنے کیسے پیش ہو سکتا تھا، اس لئے جان بوجھ کر ناظم برقیات نے ایک سازش کے تحت یہ کارروائی کی ہے.
ملازمین نے طویل احتجاج، حکام بالا سے مذاکرات سمیت سروس ٹربیونل سے بھی رجوع کر رکھا تھا، تاہم 18 اپریل کو سروس ٹربیونل نے اعجاز شاہسوار کی برطرفی کا حکم نامہ معطل کرتے ہوئے ازسر نو انکوائری کرنے اور مناسب احکامات دینے کےلئے محکمہ کو ہدایات جاری کی تھیں. مذکورہ تحقیقاتی کمیٹی کی ہی رپورٹ کے بعد اعجاز شاہسوار کی جبری برطرفی کا حکم نامہ جاری کیا گیا ہے.

سروس ٹربیونل نے اعجاز شاہسوار کی برطرفی کا حکم نامہ معطل کرکے دوبارہ انکوائری کا حکم دیا

دورہ وزیراعظم کے دوران بجلی بندش
16 اور 17 اپریل 2019ء کو وزیراعظم آزادکشمیر کے دورہ پونچھ کے دوران بجلی بند کئے جانے کے الزام میں‌ناظم برقیات کی درخواست پر مقدمہ درج کرتے ہوئے تین ملازمین محکمہ برقیات اعجاز احمد، محمد ندیم اور محمد بشارت کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا. تاہم ملازمین کی جانب سے بجلی بندش کے معاملہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ واضح کیا گیا تھا کہ وہ بجلی بندش کے معاملہ میں‌ملوث نہیں‌ہیں بلکہ ناظم برقیات کی جانب سے بجلی بند کرتے ہوئے یہ ملازمین کے خلاف ایک اور سازش ہے.
بجلی بندش کی پولیس تحقیقات
صدر و وزیراعظم آزادکشمیر کے دورہ راولاکوٹ کے دوران بجلی منقطع کرنے کے مقدمات میں تحقیقات کے بعد افسران کے حمایت یافتہ دو ملازمین قیوم بٹ اور طارق شاہسوار کو ملوث قرار دے دیا گیا ہے جبکہ افسران کی طرف سے ایف آئی آر میں نامزد سات ہڑتالی ملازمین کو دفعہ169کے تحت بری کر دیا گیا ہے،افسران کی جانب سے نامزد سات ملازمین میں سے چار گرفتار تھے جن میں سے تین کو رہا کر دیا گیا جبکہ ایک کو پچیس اپریل کی صبح رہا کر دیا جائے گا، ناظم (ایس ای) برقیات راولاکوٹ سردار الطاف کی ہدایت پر ایس ڈی او برقیات شہزاد خالد نے تھانہ پولیس راولاکوٹ اور چوکی پولیس بلدیہ پر دو الگ الگ درخواستیں دیتے ہوئے سات ملازمین کے خلاف کارروائی کی اپیل کی تھی، پہلی درخواست چوکی پولیس بلدیہ کے پاس دی گئی جس میں کہا گیا کہ صدر آزادکشمیر کے دورہ راولاکوٹ کے دوران انکے آبائی گاﺅں کی بجلی فالٹ ڈال کر منقطع کی گئی اور خدشہ ہے کہ وزیراعظم آزادکشمیر کے دورہ راولاکوٹ کے دوران انکے رہائش کے علاقہ کی بجلی بھی منقطع کی جائے گی لہٰذا کارروائی کی جائے، جبکہ دوسرے ہی روز وزیراعظم آزادکشمیر کی آمد پر چھوٹا گلہ کی بجلی بھی منقطع کر دی گئی جس پر وزیراعظم نے سخت نوٹس لیا اور ایس ای برقیات کی جانب سے ہڑتالی ملازمین کو ملوث قرار دیئے جانے کے بعد وزیراعظم نے ڈپٹی کمشنر پونچھ کی سرزنش بھی کی اور ملازمین کے خلاف فوری کارروائی کی ہدایت بھی کی، تھانہ پولیس راولاکوٹ میں دی گئی درخواست پر ایس ایچ او راولاکوٹ اکمل شریف نے کیس کی تفتیش اپنے ذمہ لیتے ہوئے نامزد ملزمان کو گرفتار کیا، جبکہ ملازمین کی جانب سے دی گئی جوابی درخواست کے بعد تحقیقات کرتے ہوئے ملازمین کی فون کالز کا ریکارڈ اکٹھا کرنے کے علاوہ دیگر پوچھ گچھ کی گئی تو معلوم ہوا کہ بجلی منقطع کرنے کے عمل میں ہڑتالی ملازمین کے خلاف افسران کی ہدایت پر کام کرنے والے ملازمین اس میں ملوث تھے، جسکے بعد ایک ملازم قیوم بٹ کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ دوسرے ملازم طارق شاہسوار نے عبوری ضمانت کروا لی تھی.

کمشنر پونچھ نے دو الگ الگ مکتوب لکھ کر ناظم برقیات کے خلاف کارروائی کی تحریک کر رکھی ہے

بجلی بندش کے معاملہ پر کمشنر پونچھ کے خطوط
کمشنر پونچھ ڈویژن عبدالحمید مغل نے قبل ازیں تیس اپریل اور پھر آٹھ مئی کو دو الگ الگ مکتوب سیکرٹری برقیات کو تحریر کرتے ہوئے دورہ وزیراعظم کے دوران بجلی بند کرنے کے عمل میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی کےلئے تحریک کی لیکن اس پر تاحال عمل درآمد نہیں‌کیا جا سکا ہے.
کمشنر پونچھ کی جانب سے لکھے گئے آخری مکتوب نمبری 1700-19مورخہ 8 مئی 2019ء میں‌سیکرٹری برقیات کو تحریر کیا گیا تھا کہ ڈپٹی کمشنر پونچھ کیجانب سے 23 اپریل کو ارسال کئے گئے مکتوب میں تحریر کیا گیا ہے کہ وزیرعظم کے دور پونچھ مورخہ 16،17 اپریل 2019ئ کے دوران بجلی بند کی گئی جس کا الزام ہڑتالی ملازمین پر عائد کیا گیا. پولیس تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بجلی ہڑتالی ملازمین نے نہیں بند کی بلکہ ناظم برقیات(ایس ای) پونچھ سرکل کی ہدایات پرقیوم بٹ اسسٹنٹ لائن مین اور طارق شاہسوار اسسٹنٹ لائن مین نے بند کی. قیوم بٹ پولیس حراست میں ہے جبکہ طارق شاہسوار عبوری ضمانت پر ہے. ڈپٹی کمشنر نے وزیراعظم کے دورہ کے دوران بجلی بندش کے سلسلہ میں‌متعلقہ آفیسر و اہلکاران کے خلاف کارروائی کی تحریک کی ہے، قبل ازیں‌بھی تحریر کیا گیا ہے، لہذا ناظم برقیات سرکل پونچھ اور دیگراہلکاران کے خلاف فرمائی جائے.تاہم مذکورہ تحریک پرتاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور ناظم برقیات سرکل پونچھ سردار الطاف خان بدستور اپنے عہدے پر تعینات ہیں.
یاد رہے کہ ایس ای برقیات گزشتہ لمبے عرصے سے خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں، قبل ازیں گزشتہ سال مہتمم برقیات انہیں ذہنی مریض قرار دیکر اعلیٰ حکام سے انکا طبی معائنہ اور علاج کروانے کی بابت خط تحریر کر چکے ہیں، ملازمین سمیت دیگر احباب انکے تبادلہ کا مطالبہ گزشتہ لمبے عرصہ سے کر رہے ہیں، غیر جریدہ ملازمین کے مرکزی صدر سمیت دیگر کی گرفتاری ، ججز کے ساتھ ساز باز، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو کرسیاں چھوڑنے کی بابت خط تحریر کرنے سمیت جعلی تقرریاں کرنے کے الزامات کا بھی سامنا ہے، جبکہ انہی کی جانب سے کی گئی سپیشل پاور ایکٹ کے تحت ملازم کی برطرفی کی کارروائی کو بھی سروس ٹربیونل کی عدالت کالعدم قرار دے چکی ہے، اس کے علاوہ اضافی بلات جاری کرنے کے احکامات جاری کرنے کے حوالے سے بھی ان پر الزامات عائد ہیں، اب ہڑتالی ملازمین کے خلاف حکومتی کارروائی کےلئے صدر اور وزیراعظم کے دورہ کے دوران ایک سازش کے تحت بجلی بند کروانے کے اقدام میں بھی ان کے حمایت یافتہ ملازمین کی گرفتاری کے باوجود ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں‌کی جا سکی ہے۔

گزشتہ سال فروری میںمہتمم برقیات نے ناظم برقیات سردار الطاف کا ذہنی معالجہ کروانیکی درخواست کر رکھی ہے

اعجاز شاہسوار کیا کہتے ہیں
ملازم رہنما اعجاز شاہسوار نے مجادلہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ محکمہ کے بالا افسران کی چھوٹے ملازمین کے خلاف یکساں ذہنیت کا عکاس ہے، مجھے چھوٹے ملازمین کے حقوق کےلئے آوازاٹھانے کی پاداش میں‌ملازمت سے فارغ کیا جا رہا ہے. ایک روپے کی کرپشن، بددیانتی، کسی قسم کی غفلت و لاپرواہی نہ ہونے کے باوجود جعلی کیسز بنا کر مجھے نوکری سے پہلے برطرف کیا گیا، پھر جعلی مقدمات بنائے گئے، جب سب کچھ ناظم برقیات کو الٹا پڑا، پولیس تحقیقات میں‌بجلی بندش سمیت دیگر سازشوں میں ناظم برقیات کا ملوث ہونا پایا گیا تو اس کے بعد حکام بالا نے چھوٹے ملازمین کے خلاف سازشوں میں‌مصروف اپنے ساتھی افسر کو بچانے کےلئے ایک مرتبہ پھر مجھے قربانی کا بکرا بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے. انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد اس مخصوص ذہنیت، اس رعونت کےخلاف ہے، چھوٹے ملازمین کی عزت نفس کی بحالی اور انکے مسائل کے لئے یہ جدوجہد جاری رہے گی.

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: