واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مانگنے کیلئے امریکا نہیں آئے، وزیر خارجہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا کے حوالے سے تفصیلات جاری کرتے کہا ہے کہ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم مانگنے کے لیے امریکا نہیں آئے۔

واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش ہے کہ وزیراعظم عمران خان وائٹ ہاؤس کا دورہ کریں جبکہ وزیراعظم عمران خان کے اعزاز میں وائٹ ہاؤس میں ظہرانہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ کاروباری افراد کے علاوہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک کے نمائندگان سے بھی ملاقات ہوگی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ماضی میں امریکا کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے لیکن اب دونوں فریق دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے خواہاں ہیں، ہماری حکومت جیسے اقدامات ماضی کی کسی حکومت نے نہیں کیے۔

مزید پڑھیں:’بیرون ملک سے سفارشیں بھجوائی گئیں، جو کرنا ہے کریں احتساب ہوکر رہے گا‘وزیراعظم پاکستان

وزیر خارجہ کے مطابق آج سب پاکستان کے مفاد اور چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔

امریکا سے تعلقات میں پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے دورہ امریکا سے دوطرفہ تعلقات کوفروغ ملےگا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا کے ساتھ 5سال بعد سربراہ ملاقات ہونے جارہی ہے اور واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم امریکا میں مانگنے کے لیے نہیں آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ تعلقات میں پیشرفت ہوئی ہے، کل کے حریف آج کےحلیف بنے بیٹھے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ واشنگٹن کی پچ تیزہے اورعمران خان تیزپچ پر کھیلنے کے عادی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی دفاعی بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ عمران ملاقات اور منافقوں کی سامراج مخالفت

ملکی سیاسی صورت حال پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے خلاف مقدمات ہم نے نہیں بنائے۔

وزیر اعظم کے دورہ امریکا کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ عسکری قیادت بھی ہوگی اور صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں وزیراعظم عمران خان کااستقبال کریں گے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان ملاقات کی 2 نشستیں ہوں گی، پہلی نشست اوول آفس اور دوسری کیبنٹ ڈویژن میں ہوگی۔

تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم امریکی میڈیا کو بھی انٹرویوز دیں گے اور اس کے بعد بعض حضرات سے انفرادی ملاقات کریں گے جن کے ساتھ ملاقات طے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاک-امریکا بزنس کونسل کے نمائندوں سے بھی ملیں گے اور اسپیکر نینسی پلوسی کے ساتھ بھی نشست ہوگی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کمرشل فلائٹ سے دورہ امریکا پر جائیں گے اور امریکا میں قیام کے دوران تاجروں سے بھی ملاقات کریں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغان حالات کی وجہ سے پاک-امریکا تعلقات میں عدم اعتماد پایا جاتا تھا تاہم اب وزیراعظم کے دورہ امریکا سے دوطرفہ تعلقات کوفروغ ملےگا۔