ہندرب نالہ میں پیش آنے والے واقع کا مقدمہ پھنڈر تھانے میں مغویوں کے رشتہ داروں کی مدعیت میں درج کرلیاگیاہے.
مقدمے میں آفرین ملک اس کے بھائی سمیت نامعلوم 26 افراد کو نامزد گیا ہے اور اغواء سمیت دیگر پاکستان پینل کوڈ کے دفعات لگائی گئی ہیں.
جب کہ اغواء کاروں اور مغویوں کی تلاش کے لئے ایس ایچ او پھنڈر مرزا حسین کی سربراہی میں پولیس پارٹی اور مقامی لوگوں پر مشتمل ٹیم سی ٹی ڈی گلگت کی ٹیم کوبھی روانہ کردی گئی ہے جو کہ ہندرب نالے میں اغواء کاروں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں دوسری جانب کوہستان سے بھی پولیس ٹیمیں ملزمان کو تلاش کررہی ہیں مقامی زرائع سے میڈیا کو ملنے والی آخری اطلاعات تک پولیس کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی مغویوں کی سراخ لگانے میں پولیس کو کوئی کامیابی ملی ہے جبکہ مقامی افراد مسلسل احتجاج پر ہیں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کل پیش آنے والے واقعہ کے بعد سے نہ تو کسی حکومتی اعلیٰ شخصیت نے یہاں کا دورہ کیا ہے اور نہ ہی ضلع انتظامیہ کے زمہ داران یہاں آئے ہیں جس پر لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے ۔ہندرپ نالہ روانگی سے قبل ایس ایچ او پھنڈر تھانہ مرزاحسن نے کے پی این کو بتایا کہ وہ ملزمان کو ہرصورت گرفتار کرکے دم لیں گے اور مغوی افراد کو بحفاظت گھر پہنچائیں گے انہوں نے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے والے ملزمان بچ نہیں سکتے ہندرپ نالے میں پولیس کی تعیناتی بھی عمل میں لائی جارہی ہے تاکہ آئندہ اس طرح کا کوئی ناخشگوار واقعہ رونماء نہ ہو۔
ہندرپ نالہ میں مقامی افراد کو اغواء کرنے کے خلاف پھنڈر تحصیل کے عوام سڑکوں پر نکل آئے
ہندرپ نالہ میں مقامی افراد کو اغواء کرنے کے خلاف پھنڈر تحصیل کے عوام سڑکوں پر نکل آئے۔سینکڑوں افراد نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے حسی کے خلاف پولو گراونڈ میں پرامن دھرنا دیئے رکھا دھرنا کل صبح سے رات تک جاری رہا تاہم کسی حکومتی ذمہ دار یا انتظامیہ اور پولیس حکام نے مظاہرین کے پاس جانے کا زحمت گوارہ نہیں کی جس کے باعث مقامی افراد میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔پھنڈر میں احتجاجی دھرنے میں بیٹھے مظاہرین کا موقف ہے کہ ہندرپ نالے سے جب تک ملک آفرین نامی دہشتگرد کوگرفتار نہیں کیا جاتا اور ان کا نیٹ ورک پکڑا نہیں جاتا عوام احتجاج جاری رکھیں گے مظاہرین نے موقف اختیار کیا ہے پولیس عوام کے جاں و مال کی حفاظت کے بجائے ان کی حالت پر مذاق اڑا رہی ہے اگر عوامی مطالبے پر پولیس قبل از وقت ہندرپ نالے میں پولیس چوکی قائم کرتی تو آج مقامی افراد کو بندوق کی نوک پر اغواء نہیں کیا جاتا ہے مظاہرین نے حکومت انتظامیہ اور غذر پولیس کے مشکوک کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے فورس کمانڈر گلگت بلتستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ شہیدوں اور غازیوں کی وادی پھنڈر میں نالہ جات کے اندر غنڈہ گردی اور اسلحے سے لیس لوگوں کے ذریعے علاقہ غیر بنانے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے۔ دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی ضلغ غذر کے رہنمائوں نے ہندرپ میں 4افراد کو اغواء کرنے کے واقعے کا ذمہ دار ایس ایس پی غذر کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس دن سے موجودہ ایس ایس پی تعینات ہوا ہے اس دن سے حالات خراب ہونا شروع ہو گئے ، ظفر شادم خیل نے دیگر پارٹی رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ غذر پولیس عوام کے تحفظ میں مکمل ناکام ہو چکی، جن نالوں سے خطرات موجود ہیں ان تمام نالہ جات سے پولیس کو واپس بلا لیا گیا ہے اور لوگوں کی مال و عزت کا تحفظ انتہائی خطرے میں ہے انہوں نے حکومت وقت کو بھی تین دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ حکومت مغوی نوجوانوں کو فوری بازیاب کرائے اور دہشتگردوں کو پکڑکر کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ اگر حکومت نے تین دن کے اندر مغویوں کو بازیاب کرایا تو پیپلز پارٹی غذر عوام کو لیکر سڑکوں پر نکلے گی اور غذر چترال روڑ کو مکمل طور پر بند کرکے دھرنا دیا جائے گا ان کا کہنا تھا کہ ایک خاص سوچ کے لوگ منظم سازش کے تحت ضلع غذر کے عوام کو غیر محفوظ بنانا چاہتے ہیں وہ ان لوگوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے ناپاک عزائم سے باز آجائیں غذر کے عوام کی امن پسندی کو ان کی کمزوری نہ سمجھا جائے جب ہم سڑکوں نکل آئیں گے تو حالات ہاتھ سے نکل جائیںگے انہوں نے کہا کہ ہم نے جب ان تمام سکیورٹی خدشات کی نشاندہی کرتے ہوئے حکام بالا کو آگاہ کیا تو ہمارے خلاف فورتھ شیڈول اور دیگر مقدمات قائم کرکے عدالتوں میں گھسیٹا گیا جب ملک آفرین کے مسلح دہشتگرد معزز شہریوں کو اغواء کرتے ہیں تو ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی ہے ہم جب مشترکہ مفادات کی بات کرتے ہیں تو بھی فرقہ ورانہ رنگ دیا جاتا ہے انہوں نے فورس کمانڈر گلگت بلتستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غذر کے جن نالہ جات میں سکیورٹی خطرات ہیں وہاں پاک فوج کو تعینات کریں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی پی لیڈر ڈاکٹر شاہد نے بھی آئی جی پی سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ایس ایس پی کو ضلع بدر کریں اور ایک پروفیشنل آفسر کو تعینات کریں پریس کانفرنس سے پی پی سینئر رہنماء خان اکبر خان اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔
ادھر پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے رہنماء عطاالرحمن ایڈوکیٹ ، سینئر رہنماء نعمت شاہ ضلع غذر کے صدر محمد ایوب نے گاہکوچ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت گلگت بلتستان سے تین دن کے اندر اندر مغوی نوجوانوں کو بازیاب کرانے کا الٹی میٹم دے دیا ہے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطاالرحمن ایڈوکیٹ نے کہا کہ ایک سازش کے تحت غذر کے بارڈر پر دراندازی کی جارہی ہے جو کہ انتہائی قابل مذمت امر ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے انہوں کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ گلگت بلتستان میں کوئی قانون نہیں ہے اور نہ ہی حکومت کی رٹ کہیں نظر آرہی ہے لوگوں کی جان ومال غیر محفوظ ہوگئے انہوں نے کہا کہ عوام ہندرب کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو ہندرب نالے کے حوالے سے پہلے ہی اپنے خدشات سے آگاہ کیا تھا لیکن ضلعی انتظامیہ نے لوگوں کے خدشات کو یکسر نظرانداز کردیا جس کے نتیجے میں آج ہندرب کے چار افراد کو دہشتگردوں نے اغواء کرلیا اس کی تمام تر زمہ داری حکومت اور ضلعی انتظامیہ غذر پر عائد ہوتی ہے ان کا کہنا تھا کہ پہلے چترالی شندور میں دراندازی کرتے ہوئے لنگر تک پہنچ گئے ہیں اور ہمارے عوامی نمائندے صرف شندور فیسٹول کے موقع پر ہی شندور تنازع پر بات کرتے ہیں یہ ہمارے عوامی نمائندوں کی نااہلی اور نالائقی ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگ ہمارے بارڈر پر دراندازی کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ ایک جانب سے کوہستان کے لوگ بارڈر پر دراندازی کررہے ہیں تو دوسری جانب چترالیوں نے قرمبر اشکومن میں بھی تجاوزات قائم کرنا شروع کردیا ہے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے صدر پاکستان کے دورے پھنڈر کے موقع پر صدر سے ملاقات کے دوران بھی سرحدی تنازعے پر بات چیت کی تھی اور صدر پاکستان نے سرحدی تنازعہ فوری حل کرنے احکامات بھی جاری کیے ہیں پریس کانفرنس سے پی ٹی آئی کے رہنماء نعمت شاہ ضلعی صدر محمد ایوب و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔












8 تبصرے “ہندرب نالہ میں پیش آنے والے واقع کا مقدمہ پھنڈر تھانے میں مغویوں کے رشتہ داروں کی مدعیت میں درج کرلیاگیا”