وفاقی فنانس ڈویژن نے گلگت بلتستان میں اسامیوں کی تخلیق اوراپ گریڈیشن پر اعتراض لگادیا

وفاقی فنانس ڈویژن نے گلگت بلتستان میں اسامیوں کی تخلیق اوراپ گریڈیشن پر اعتراض لگادیا وفاقی فنانس ڈویژن کے سیکشن آفیسر کی جانب سے سیکرٹری خزانہ گلگت بلتستان کو لکھے گئے لیٹر میں مالی سال 2018-19کے دوران صوبے میں1500 اسامیوں کی تخلیق اور اپ گریشن پر اعتراض لگاتے ہوئے کہا گیاہے کہ صوبائی محکمہ خزانہ نے ملازمین کی اپ گریڈیشن اور کیئریشن کے حوالے سے جو طریقہ کار اپنایا تھا وہ مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں ہے، صوبائی فنانس ڈویژن نے محکموں کی ضروریات کے مطابق 2فیصد کے حساب سے نئی اسامیوں کی تخلیق اور اپ گریڈیشن کی سمری بھیجی تھی، جس پر فنانس ڈویژن نے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ جوازمتعین کردہ معیار کے مطابق نہیں ہے اور اس پرنظر ثانی کرتے ہوئے گائیڈلائن فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ اس پر مزید کارروائی کی جاسکے یاد رہے کہ یہ اعتراض مالی سال 2018-19 میں پوسٹوں کی کیرئیشن اور اپ گریڈیشن پر لگایاگیا ہے دوسری جانب صوبائی حکومت نے رواں سال ہی 24سو پوسٹوں کو اپ گریڈ کیا تھا ان پوسٹوں کی اپ گریڈیشن پر بھی سوالیہ نشان پیداہوگیا ہے واضح رہے کہ گلگت بلتستان حکومت نے رواں سال سرکاری محکموں کے تقریباً 24 سو ملازمین کو اپ گریڈ کیا تھا لیکن فنانس ڈویژن کے اعتراض کے بعد صوبائی حکومت کی اس فیصلے پر بھی اعتراض کی تلوار لٹک گئی ہے ۔