اہل میرپور کے حقوق پر کسی کو شب خون نہیں مارنے دیں گے

آ زاد جموں وکشمیر بار کونسل کے وائس چیئرمین چوہدری شکیل زمان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ اہل میرپور کے حقوق پر کسی کو شب خون نہیں مارنے دیں گے، ادارہ ترقیات کو بلدیہ پلاٹس ریگولائزیشن کے نام پر لوٹ مارنہیں کرنے دیں گے، حکومت ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بلدیہ پلاٹس بحالی و منسوخی کا عمل مکمل کرے، وکلاء اور دیگر کمیونٹی پر نت نئے جگا ٹیکسز کو مسترد کرتے ہیں،حکومت نے ہمارے مطالبات پر سنجیدگی نہ دکھائی تو بھرپور احتجاج کریں گے، ان خیالات کاا ظہار انہوں نے میرپور پریس کلب میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ محمد الیاس خواجہ ایڈووکیٹ،محمد خاور ممتاز ایڈووکیٹ، ایڈووکیٹ محمد احمد جرال، زریاب ریاض چوہدری ایڈووکیٹ، ابوالحسنات ایڈووکیٹ، قمر یٰسین ایڈووکیٹ، احسن قیوم چوہدری ایڈووکیٹ کے علاوہ دیگر وکلاء بھی موجودتھے۔
وائس چیئرمین بار کونسل چوہدری شکیل زمان ایڈووکیٹ نے کہا کہ اہل میرپور نے پاکستان کی ترقی، خوشحالی و روشن کرنے کیلئے دو بار اپنے آباؤ اجداد کی قبروں اور گھروں کو پانی کی نذر کیا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی لیکن اس کے بدلے میں میرپور مسائلستان کی آماجگاہ بنا ہوا ہے، شہری صاف پانی کی اذیت میں مبتلا ہیں، واپڈا منگلا ڈیم کی تکمیل کے بعد متاثرین کو بے یارو مددگار چھوڑ کر فرار ہو چکا ہے، نیوسٹی اور سمال ٹاؤنز میں ترقیاتی کام ادھورے پڑے ہیں، اعلیٰ عدالتوں سے متاثرین کے حق میں ہونے والے فیصلوں پر واپڈا عمل درآمد نہیں کر رہا، PMU کا اربوں روپے کا منصوبہ کرپشن کی نذر ہو چکا ہے، اعلیٰ عدلیہ کے فیصلہ کی آڑ میں پسند ناپسند کی بنیاد پرتجاوزات مسمارگی ہو رہی ہے لیکن حکمران ان اہم مسائل سے چشم پوشی کرتے ہوئے اہل میرپور کو بلدیہ پلاٹس ریگورلائزیشن اور نئے ٹیکسز کی آڑ میں لوٹنے کی پلاننگ کر رہے ہیں لیکن ہم حکومت پر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ میرپور لاوارثوں کا شہر نہیں ہم وکلاء برادری اور دیگر شہریوں کی آواز بن کر اس لوٹ مار و استحصال کے خلاف دیوار بنیں گے، چوہدری شکیل زمان ایڈووکیٹ نے کہا میرپور میں تارکین وطن کے پلاٹوں پرسرکاری سرپرستی میں قبضوں و دیگر تنازعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، ادارہ ترقیات کے میرپور دشمن اقدامات نے تارکین وطن کو جائیدادیں فروخت کرنے پر مجبور کر دیا لوگ عدم تحفظ کی بنا پر اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں،
انہوں نے کہا کہ بلدیہ منسوخ الاٹمنٹ پر پہلے اعلیٰ سطحی حکومتی کمیٹی اور اس کے بعد عدالت عظمی کے حکم پر دوبارہ اعلیٰ سطحی کمیٹی نے تمام پلاٹس کی فائلوں کی چھان بین و موقع جات کا معائنہ کرتے ہوئے پلاٹس بحالی و منسوخی کی سفارشات مرتب کیں لیکن 35 سال سے خوار ہونے والے الاٹیوں کو دوبارہ کیس ٹو کیس سماعت اور نئی قیمت کے ساتھ نوٹس جاری ہو رہے ہیں جبکہ حکومت اور سپریم کورٹ نے فیاض عباسی کمیشن کی سفارشات کو زبردست انداز میں سراہا اب ان سفارشات پر ایک ہی اجلاس میں عمل درآمد کی بجائے کیس ٹو کیس اور پسند ناپسند کی بنیاد پر ریگورلائزیشن ہو رہی ہے جو اعلیٰ عدلیہ اور حکومت پر عدم اعتماد کے مترادف ہے، انہوں نے کہا کہ میرپور کے اندر بعض مفاد پرست عناصر اہل میرپور کے اجتماعی مفاد کے خلاف باتیں کر رہے ہیں انہیں خبردار کر دینا چاہتے ہیں کہ ہم ریگورلائزیشن پلاٹس کے نام پر منڈی نہیں لگانے دیں گے اور نہ ہی کسی کو اہل میرپور کے مفادات پر دلالی کرنے دیں گے، ہمارا بڑا واضح موقف ہے کہ کمیشن نے عدالت عظمیٰ اور حکومت کو پلاٹس بحالی و منسوخی کی جو سفارشات پیش کیں ہیں ان پر نئی ہٹی کھولنے کی بجائے ایک ہی اجلاس میں عمل درآمد کیا جائے، انہوں نے کہا کہ میرپور شہر کی ڈیفنس روڈز پر ٹریفک سگنلز کی آڑ میں تشہیری بورڈز لگا دیئے گئے ہیں جن کے قریب سے ہی برقی تاریں گزرتی ہیں جوانسانی جا ن ومال کیلئے انتہائی خطرناک و تباہی کا پیش خیمہ ہے، چوہدری شکیل زمان ایڈووکیٹ نے کہا کہ محکمہ انکم ٹیکس نت نئے ٹیکسز لاگو کرکے وکلاء، تاجروں سمیت ہر طبقہ فکر کو حراساں کر رہا ہے لیکن ہم محکمہ انکم ٹیکس کو اس لوٹ مار اور لوگوں کا خون نچوڑنے کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے، انہوں نے وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر، چیف جسٹس عدالت عظمیٰ محمد ابراہیم ضیاء، چیف سیکرٹری آزادکشمیر اور دیگر ذمہ داران سے پرزورمطالبہ کیا کہ بلدیہ میرپور کی الاٹمنٹ کو ایگزیکٹو حکم کے ذریعے فی الفور بحال کیا جائے، متاثرین منگلا ڈیم کو معاہدہ کے مطابق سہولیات مہیا کی جائیں،محکمہ انکم ٹیکس کو نت نئے ٹیکسز کے نام پراہل میرپور کا خون نچوڑنے سے روکا جائے،شہر یوں کو صاف پانی، سیوریج، سوئی گیس کی بلا امتیاز سہولت مہیا کی جائے بصورت دیگر ہم احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہو گی۔