کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے چار رہنماؤں‌کوغیر قانونی فنڈنگ کے الزام میں قید و جرمانے کی سزائیں

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کی عدالت نے کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے چار رہنماؤں کو کالعدم جماعت سے تعلق رکھنے اور غیر قانونی فنڈنگ کے الزام میں قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کے مطابق انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے گزشتہ برس قائم ہونے والے مقدمے پر کارروائی مکمل ہونے پر فیصلہ سنایا اور کالعدم تنظیم کے چار رہنماؤں کو ایک سال سے لے کر پانچ برس تک کی سزا سنائی۔

لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے کالعدم تنظیم کے پروفیسر ظفر اقبال اور یحییٰ عزیز عرف یحیٰی مجاہد کو پانچ، پانچ سال سزا اور 50 ہزار جرمانہ کی سزائیں سنائیں، جبکہ اسی مقدمے میں پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی اور حافظ عبدالسلام بن محمد کو ایک سال قید اور 20 ہزار روپے جرمانے کی سزا دی گئی۔

حافظ عبدالرحمان مکی کالعدم تنظیم کے سیاسی امور کے معاملات کو دیکھتے تھے جبکہ یحیٰی عزیز عرف یحییٰ مجاہد کالعدم تنظیم کے ترجمان رہے ہیں۔
لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے چند ماہ پہلے 12 فروری کو ایک دوسرے مقدمے میں جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید اور ان کے ساتھی پروفیسر ظفر اقبال کو گیارہ، گیارہ برس کی سزا سنائی تھی۔

حافظ محمد سعید اس وقت جیل میں ہیں جبکہ پروفیسر ملک ظفر اقبال کو اب ان کے خلاف قائم ایک دوسرے مقدمے میں بھی سزا ہوگئی ہے۔

کالعدم تنظیم کے تنظیم جماعت الدعوۃ کے رہنماؤں پر مختلف مقدمات قائم ہیں تاہم اب تک دو مقدمات کا ہی فیصلہ ہوا ہے۔

مقدمے کے پراسیکیوٹر عبدالروف وٹو نے بی بی سی کو بتایا کہ سی ٹی ڈی کے مقدمے میں نو گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے جس پر کالعدم تنظیم کے وکیل نے جرح کی۔

قانونی ماہرین کے مطابق انسداد دہشت گردی کے قانون مجریہ 1997 کے تحت مجرم اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کا حق رکھتے ہیں اور متعلقہ لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر سکتے ہیں اور لاہور ہائیکورٹ کا دو رکنی بنچ اس اپیل پر سماعت کرے گا۔

پنجاب کے محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے مطابق جماعت الدعوۃ، لشکرِ طیبہ اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کے معاملات میں وسیع پیمانے پر چھان بین کی گئی ہے۔

سی ٹی ڈی پنجاب کے مطابق ‘ان تنظیموں نے کالعدم تنظیموں کے لیے پیسے اکٹھے کیے اور پھر ان اثاثوں کو قائم کیا گیا۔’

سی ٹی ڈی کا مؤقف تھا کہ ان تنظیموں نے یہ اثاثے مختلف غیر سرکاری تنظیموں یا فلاحی اداروں کے نام سے بنائے اور چلائے۔ ایسے فلاحی اداروں میں دعوۃ الارشاد ٹرسٹ، معاذ بن جبل ٹرسٹ، الانفال ٹرسٹ، الحمد ٹرسٹ اور المدینہ فاؤنڈیشن ٹرسٹ شامل ہیں۔

سنہ 2014 میں امریکہ نے جماعت الدعوۃ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے مالیاتی پابندیاں عائد کی تھیں۔ امریکی حکام کی جانب سے حافظ سعید کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر ایک کروڑ ڈالر کے انعام کی پیش کش بھی کی گئی تھی۔

اس کے بعد پاکستان کے دفترِ خارجہ نے جنوری 2015 میں اعلان کیا تھا کہ جماعت الدعوۃ سمیت ان تمام شدت پسند تنظیموں کے اثاثوں کو منجمد کیا گیا ہے جن پر اقوامِ متحدہ نے پابندی عائد کی ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ لشکر طیبہ کے نام سے مشہور ہونے والی اس کالعدم تنظیم پر مختلف مرحلوں‌میں‌ پابندیاں‌لگتی رہی ہیں، لیکن ہر مرتبہ یہ تنظیم کا نام تبدیل کر کے کام جاری رکھے ہوئے تھی. ابھی بھی سربراہ کی گرفتاری، فلاحی تنظیموں کے ناموں‌سمیت ماضی کے تمام ناموں‌پر پابندیوں‌کے بعد القدس مسجد سمیت مختلف مساجد کے ناموں‌کے ساتھ مذکورہ کالعدم تنظیم کے رضاکاران مختلف شہروں‌میں‌آزادانہ سرگرمیاں‌جاری رکھے ہوئے ہیں، بلکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد بھی مذکورہ جماعت کے کارکنان مختلف شہروں‌میں‌ریلیف سرگرمیاں، مسافروں میں‌ماسک سینیٹائزر اور دیگر سامان تقسیم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں.

وقتا فوقتا یہ اراکین کشمیر کی آزادی کے نام پر احتجاجی ریلیاں بھی منعقد کرتے رہتے ہیں، مختلف اوقات میں سرکاری سطح‌پر پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کی انتظامیہ یا حکومت کی کال پر منعقدہ احتجاجی ریلیوں کا انتظام اسی تنظیم کے رضاکار مختلف ناموں‌کے ساتھ کرتے ہیں.

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں ہنگامی حالات، ریلیف سرگرمیوں سمیت حادثات میں‌ایمرجنسی ریسپانس اور ریسکیو کی ذمہ داریاں‌بھی مذکورہ کالعدم تنظیم کے ریسکیو ونگ سے کروائی جاتی ہیں. اکثر اوقات دریاؤں‌، ندی نالوں‌میں‌ڈوبنے والے افراد کی نعشیں تلاشنے کا کام بھی مذکورہ تنظیم کے غوطہ خوروں‌سے لیا جاتا ہے. تاہم عالمی طور پر پاکستان یہ تاثر دیتا ہے کہ مذکورہ تنظیم کی تمام سرگرمیوں‌پر پابندیاں‌عائد کی گئی ہیں.