پاکستانی کشمیر: برقیات کالاکھوں‌کا سامان چوری کا الزام ثابت ہونے پر معمولی سزائیں

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے محکمہ برقیات کےلاکھوں‌روپے مالیت کے کنڈکٹر چوری کرنے کا الزام ثابت ہونے پر مہتمم اوپریشن ڈویژن سمیت تین ملازمین کو معمولی سزائیں سنائی گئی ہیں.

محکمہ برقیات کے سیکرٹریٹ سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق حسب سفارش انکوائری کمیٹی وقار خلیل کرنٹ چارج مہتمم برقیات اوپریشن ڈویژن راولاکوٹ (وقت) حال منسلک سرکل آفس راولاکوٹ کو برقیاتی اوپریشن ڈویژن راولاکوٹ سے سرکاری سامان بجلی کی چوری میں ملوث ہونے کے الزامات ثابت ہونے پر ایک سالانہ ترقی ضبط کرنے، دو سال تک ترقیاب نہ کرنے کے علاوہ آئندہ کسی طور بھی برقیاتی سرکل راولاکوٹ میں‌تعینات نہ کئے جانے کی منظوری صادر فرمائی ہے.

محکمہ برقیات کے ذرائع کے مطابق سامان چوری میں‌ملوث دوسرے مرکزی ملزم نگران اوپریشن ڈویژن صادق علی، جس کی مدت ملازمت مکمل ہو چکی تھی اور وہ ریٹائرمنٹ لے رہا تھا،کو ایک سال کی ترقی ضبط کرنے کی سزا دی گئی، جبکہ تیسرے ملزم جونیئر کلرک زاہد سرور کی چار ترقیاں‌ضبط کرنے کی سزا دی گئی ہے.

جبکہ دوسری طرف احتجاج کرنے اور ملازمین کی ہڑتال کروانے کے الزامات میں‌دو ملازمین کو جبری ریٹائر کرنے کے نوٹیفکیشن جاری کئے جا چکے ہیں.

واضح رہے کہ گزشتہ سال اٹھائیس اکتوبر کو چیف انجینئرمحکمہ برقیات نے لاکھوں‌روپے مالیت کے کنڈکٹر نو عدد ڈرم بذریعہ ٹرک شہر سے باہر منتقل کرتے ہوئے ہمراہ جونیئر کلرک زاہد سرور پکڑے جانے کے بعد انکوائری کمیٹی قائم کی تھی، جبکہ دو ملازمین کو معطل بھی کیاگیا تھا. انکوائری کمیٹی کو ایک ہفتہ کے اندر اپنی رپورٹ چیف انجینئرکو پیش کرنا تھی. جو بوجوہ تاخیر کا شکارہوئی، اسی اثناء میں مرکزی ملزم کی مدت ملازمت مکمل ہو گئی اور اس نے ریٹائرمنٹ لے لی.

اسی بارے میں‌پڑھیں:
محکمہ برقیات راولاکوٹ سے لاکھوں روپے مالیت کا سامان چوری کرتے ہوئے گرفتار ہونے والے افسر و اہلکار معطل، دو رکنی انکوائری کمیٹی قائم
ملازم رہنما اعجاز شاہسوار کو جبری ریٹائر کرنے کا حکم جاری، ناظم برقیات کےخلاف کارروائی نہ ہوسکی، ملازمین کا احتجاج
ایپکا چیئرمین سردار امتیاز کو بھی جبری ریٹائر کرنیکا حکم جاری، نجکاری کی راہ ہموار ہو رہی ہے، ملازمین کا الزام

بعد ازاں‌آٹھ ماہ بعد رپورٹ کی روشنی میں‌سزاؤں کا تعین کیا گیا. اور ملازمین کی ترقیاں ضبط کرتے ہوئے انہیں دوبارہ سے ملازمت جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی.

ماضی میں‌بھی جن کیسوں‌میں افسران ملوث رہے وہاں‌معمولی سزاؤں سے معاملات کو رفع دفع کیا جاتا رہا، جبکہ اگر چھوٹے ملازمین پر کوئی الزام ثابت ہو جائے تو انہیں ملازمتوں سے برخاست کر دیا جاتا ہے.

صدر و وزیراعظم کے دوران راولاکوٹ کے دوران بجلی بند کرنے کے الزام میں‌ملازمین کو ناظم برقیات کے کہنے پر گرفتار کیا گیا، بعد ازاں‌تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کے بجلی منقطع کرنے میں‌خود ناظم برقیات اور دیگر افسران ملوث تھے،تو افسران کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں‌نہیں‌لائی گئی.

اس سے قبل ایس ڈی او برقیات اور ملازمین کے صدر کے مابین تلخ کلامی پر ایک مقدمہ درج کروایا گیا، بعد ازاں مقدمہ واپس لیکر مذکورہ ملازم کو ملازمت سے برخاست کر دیاگیا، ملازمین کے بھرپور احتجاج کے باوجود مذکورہ ملازم کو ملازمت پر بحال نہیں‌کیا گیا بلکہ برخاستگی کا فیصلہ واپس لیکر جبری ریٹائر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا.

بعد ازاں ملازم کی جبری برخاستگی کے خلاف احتجاج کروانے کی پاداش میں ایپکا کے صدر، جو خود بھی محکمہ برقیات کا ہی ملازم تھا، کو بھی جبری ریٹائر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا تھا.

سیاسی و سماجی رہنماؤں نے طبقاتی نوعیت کے فیصلہ جات پر شدید تنقید کرتے ہوئے چوری، رشوت اور کرپشن میں‌ملوث افسران کو قرار واقعی سزائیں دینے اور انتقامی کارروائیوں‌کا نشانہ بنے ملازم رہنماؤں‌کو نوکریوں‌پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے.