پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے محکمہ برقیات راولاکوٹ سرکل سے لاکھوں روپے مالیت کا سامان چوری کر کے فروخت کرنے کی کوشش میں پکڑے جانے والے سترہویں گریڈ کے افسر اور جونیئر کلرک کو ملازمت سے فوری معطل کرتے ہوئے دو رکنی انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔
برقیات سیکرٹریٹ سے جاری نوٹیفکیشن نمبر س ب/17460-72/2019 کے مطابق صدر ریاست نے صادق علی نگران بی ۔17 بریقات سرکل راولاکوٹ کو برقیات اوپریشن ڈویژن راولاکوٹ سے متعلق غیر قانونی طریقہ سے سامان بجلی LT/HTکنڈکٹر 9عدد ڈرم بذریعہ گاڑی نمبر(ICT IBD) TX-418ہمراہ زاہد سرور جونیئر کلرک (سٹور کیپر) برقیات اوپریشن ڈویژن راولاکوٹ جوری کروانے میں ملوث ہونے کی بناءپر فوری طور پر ملازمت سے معطل کئے جانے کے علاوہ معاملہ کی تحقیقات کےلئے محکمہ برقیات کے افسران ممتاز الحسن اعوان ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیزائن دفتر چیف انجینئر برقیات مظفرآبادد اور خواجہ وقار حنیف نائب مہتتم برقیات ڈویژن میرپور پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دیئے جانے کی منظوری صادر کی ہے۔
نوٹیفکیشن میں انکوائری کمیٹی کےلئے ٹی او آرز بھی مقرر کئے گئے ہیں۔
٭ انکوائری کمیٹی متذکرہ بالا کنڈکٹر چوری کے علاوہ ڈویژنل سٹور برقیات اوپریشن ڈویژن راولاکوٹ سے متعلق دیگر سامان بجلی کی پڑتال کرنے کی پابند ہو گی اور دوران پڑتال سامان بجلی کی کمی بیشی کی صورت میں متعلقہ قصور واران کی واضح نشاندہی اور انکے خلاف کارروائی کےلئے تجویز پیش کرنے کی بھی پابند ہو گی۔
٭ متذکرہ بالا ملازمین کے علاوہ اگر دیگر کوئی ملازم بھی سامان بجلی کی چوری میں ملوث ہو تو اس کی نشاندہی اور اس کے خلاف مکمل کارروائی کی تجویز پیش کرنے کی پابند ہو گی۔
٭ انکوائری کمیٹی دوران انکوائری اپنی معاونت کےلئے سرکل کے کسی بھی آفیسر کو معاونت کےلئے طلب کر سکتی ہے۔
٭ انکوائری کمیٹی اندر ایک ہفتہ مکمل انکوائری رپورٹ معہ سفارشات پیش کرنے کی پابند ہو گی۔

اسی طرح محکمہ برقیات کے دفتر چیف انجینئر سے جاری ایک اور نوٹیفکیشن نمبری 3175-78محررہ اٹھائیس اکتوبر2019ءکے تحت کنڈکٹر چوری کے الزام کی بناءپر زاہد سرور جونیئر کلرک (سٹور کیپر ) کو معطل کرتے ہوئے دفتر ڈویژن حاضر کیا گیا ہے جبکہ انکی جگہ عبدالخالق سینئر کلرک کو بطور ڈویژنل سٹور کیپر تعینات کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔
مذکورہ نوٹیفکیشن میں سٹور میں موجود سامان کی گنتی کےلئے کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جس کے بعد نو تعینات شدہ سٹور کیپر کمیٹی کی طر فسے گنتی کردہ سامان کا چارج حاصل کرے گا۔
کمیٹی میں ممتاز الحسن اعوان ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیزائن ، شہزاد خالد نائب مہتمم برقیات اوپریشن سب ڈویژن راولاکوٹ اور محمد رمضان ہیڈ کلرک برقیات سرکل راولاکوٹ شامل ہیں۔
کمیٹی بذیل ٹی او آرز کے مطابق ایک یوم کے اندر رپورٹ دینے کی پابندہوگی۔
٭ کمیٹی سامان کی گنتی زاہد سرور جونیئر کلرک کی موجودگی میں کرےگی۔
٭ کمیٹی سامان گنتی کرتے ہوئے الگ سے ڈویژنل سٹاک رجسٹر پر تعداد اور الفاظ میں درج کرواتے ہوئے جملہ سامان عبدالخالق سٹور کیپر کے حوالے کرے گی۔ نیز دستخط ثبت کریگی۔
٭ کمیٹی دونوں سٹور کیپر سے چارج لین دین بھی اپنی موجودگی میں کروائے گی اور اس کی رپورٹ مہتمم برقیات کے علاوہ دفتر ہذا کو ارسال کرنیکی پابند ہوگی۔
واضح رہے کہ دو روز قبل رات گئے پولیس کی کارروائی کے دوران حویلی کے رہائشی صادق علی نگران بی ۔17برقیات سرکل راولاکوٹ اور انکے ہمراہ سٹور کیپر زاہد سرور کو رنگے ہاتھوں محکمہ برقیات کا قیمتی سامان چوری کر کے راولاکوٹ سے باہر منتقل کرنے کی کوشش میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم دو روز سے چوری میں ملوث افسر اور اہلکار کے نام خفیہ رکھے جا رہے تھے۔
محکمہ برقیات کے ذرائع کے مطابق چوری کئے جانے والے سامان میں LT/HTکنڈکٹر نو عدد ڈرم کے علاوہ دیگر سامان بھی موجود تھا تاہم اس کا ذکر نہیں کیا گیا، لیکن نوٹیفکیشن میں ذکر کئے جانے والے سامان کی مالیت لاکھوں روپے بنتی ہے۔
یاد رہے کہ ماضی میں بھی محکمہ برقیات کے قیمتی سامان کی چوری اور بیرون ریاست جا کر فروخت کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں لیکن افسران اور اہلکاران کو سیاسی اثرورسوخ اور محکمانہ ملی بھگت کے ذریعے بچالیا جاتا ہے۔
محکمہ برقیات پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں سب سے زیادہ ریونیو جمع کرنے والا محکمہ ہے، لیکن کرپشن اور قیمتی سامان کی چوری و فروخت کے باعث محکمہ عوام کو سہولیات بہم پہنچانے میں ناکام ہے۔
دوسری جانب محکمہ برقیات کو نجی تحویل میں دینے کی تیاریاں بھی حکومت نے کر رکھی ہیں۔ جس کے بعد محکمہ کی کارکردگی مزید متاثر ہونے کے علاوہ بجلی کی ترسیل اور قیمتوں میں ردو بدل کے ذریعے شہریوںکو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع بھی ختم ہو جائیں گے۔













16 تبصرے “محکمہ برقیات راولاکوٹ سے لاکھوں روپے مالیت کا سامان چوری کرتے ہوئے گرفتار ہونے والے افسر و اہلکار معطل، دو رکنی انکوائری کمیٹی قائم”