آئی ایم ایف نے 6 ارب ڈالر کے ایکسٹنڈڈ فنڈ فسیلیٹی پروگرام کو آئندہ وفاقی بجٹ میں چھوٹے اقتصادی ڈھانچے کی مجوزہ اصلاحات سے مشروط کردیا۔ جبکہ حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کی شرائط کو مد نظر رکھتے ہوئے تین ہزار ارب خسارے کا بجٹ تیار کر لیا ہے.
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے ذرائع کے مطابق رُکی قسطیں جاری کرنے کیلیے ڈیوٹی و ٹیکسوں میں غیر ضروری چھوٹ و رعایتیں ختم کرنے پر زوردیاجارہا ہے۔ اسی طرح سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کی بجائے کٹوتی کی تجویز دی گئی ہے جس پرحکومت نے اتفاق نہیں کیاتاہم حالات کے مطابق فیصلہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔اس کے علاوہ کوروناصورت حال کے تناظر میں پیداوری شعبے کیلیے اقدامات جبکہ اخراجات کم کرنے کا مشورہ دیا گیاہے۔
رواں ہفتے ویڈیوکانفرنس میں بجٹ سازی سے متعلق اہم اقدامات زیر غور آئیں گے۔
جبکہ پاکستان کے وفاقی حکومت نے 7 ہزار 570 ارب روپے کے وفاقی بجٹ کا مسودہ تیار کر لیا جس میں خسارہ 3 ہزار ارب روپے بتایا جا رہا ہے۔
7 ہزار 570 ارب روپے کے وفاقی بجٹ کا مسودہ رواں ہفتے وفاقی کابینہ میں پیش کیاجائے گا جس کی منظوری کے بعد 12جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پنشن میں 20 فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔ زراعت، توانائی کے منصوبوں کیلئے درآمدی مشینری پر کسٹمز، ایکسائز ڈیوٹیز میں 3 فیصد تک کمی متوقع ہے۔
اسٹاک مارکیٹ کے ٹیکسوں میں بھی سہولت دی جائے گی۔ ٹیکس وصولیوں کا ہدف ساڑھے 4 ہزار ارب اور ترقیاتی بجٹ 530 ارب تک مختص ہونے کا امکان ہے۔ تعمیراتی صنعت کو خصوصی مراعات جب کہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے سرکاری ،نجی شراکت داری کے تحت 200 ارب سے زیادہ مختص کرنے کی تجویزہے۔
بنیادی اشیائے خورونوش پر ٹیکس میں کمی، کورونا سے نمٹنے اور کاروبار کی سہولت کیلیے ہزار ارب مختص، اسلام آباد میں پرتعیش گھروں اور جائیدادوں پر لاکھ سے 2لاکھ روپے تک لگژری ٹیکس امکان ہے ۔












Thank you for your sharing. I am worried that I lack creative ideas. It is your article that makes me full of hope. Thank you. But, I have a question, can you help me? https://www.binance.bh/register?ref=IHJUI7TF
I don’t think the title of your article matches the content lol. Just kidding, mainly because I had some doubts after reading the article. https://www.binance.com/register?ref=JW3W4Y3A