کورونا وائرس کی وباء نے جہاںدنیا کے مختلف ممالک میںاپنا اثر چھوڑا ہے، وہیںکشمیری تارکین وطن کےلئے یہ الگ نوعیت کی مشکلات کا سبب بن چکی ہے.معمول کے حالات میںپاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر کی معیشت کو چلانے والے یہ تارکین وطن آج آبائی علاقے کی حکومت کی توجہ کے منتظر ہیں.
آبائی گھروںکو لوٹنے کی کوشش تو یورپ، امریکہ، برطانیہ ، کینیڈا سمیت مختلف ممالک میںموجود تارکیین وطن کر رہے ہیں. لیکن گلف ممالک میںموجود تارکین وطن کےلئے یہ صورتحال سب سے الگ نوعیت کی ہے.
ہزاروںکی تعداد میںتارکین وطن متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور دیگر گلف ممالک میںایسے ہیںجو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کےلئے نافذ العمل لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنے روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں. ایک بڑی اکثریت کو تنخواہیںبھی نہیںادا کی گئیںاور ملازمتوں سے فارغ کر دیا گیا. لیکن انکی واپسی کےلئے کوئی سنجیدہ اقدام نہیںہو رہا ہے. جس کی وجہ سے وہ انتہائی کرب اور ذہنی اذیت میںمتبلا ہو چکے ہیں.
متحدہ عرب امارات میںموجود راشد افراز کا کہنا ہے کہ ہزاروںکی تعداد میںتارکین وطن واپس آنا چاہتے ہیں، لیکن ٹکٹس بلیک میںمل رہی ہیں جو معمول سے دو سے تین گنا زیادہ مہنگی ہیں. ٹکٹس کے حصول کےلئے کوئی مناسب سہولت نہیںہے، محدود فلائٹس اور زائد امیدواران کی وجہ سے لوٹ مار کا ایک کاروبار شروع کر دیا گیا ہے.
انکا کہنا تھا کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے تارکین وطن کےلئے کوئی خصوصی انتظام نہیں کیا گیا ہے. فیصل آباد، کراچی، لاہور، پشاور سمیت دور دراز شہروںکی فلائٹس پر کسی کو اگر جگہ مل بھی جائے تو انہیں انہی شہروںمیںقرنطینہ مراکز میں رکھا جاتا ہے، جہاںسہولیات کا فقدان، ناقص انتظامات کے باوجود ان سے پانچ سے دس ہزار روپے روزانہ کی بنیاد پر چارجز لئے جاتے ہیں. دو، تین گنا مہنگی ٹکٹ خرید کرپندرہ دن تک پانچ سے دس ہزار روپے قرنطینہ مراکز کے ادا کرنا تارکین وطن کےلئے ناممکن ہے. بالخصوص ایسی کیفیت میںکہ جب وہ روزگار سے محروم ہو چکے ہیں، تنخواہیںبھی انہیںنہیںملی ہیں.
دبئی میںہی مقیم محمد نعمان نے وزیراعظم کے نام ایک کھلا خط تحریر کیا ہے جس میںانہوںنے کہا ہے کہ وہ نوکری سے ہاتھ دھو چکے ہیں. تنخواہ بھی نہیںملی ہے، واپس آنا چاہتے ہیں لیکن کوئی ٹکٹ نہیںمل رہی، لیکن جو لوگ کسی نہ کسی طرحٹکٹ بلیک میںخرید کر پاکستان پہنچے ہیں انکی حالت زار سننے کے بعد واپس آنے کی خواہش بھی دم توڑ رہی ہے، لیکن یو اے ای میںبھی گزارہ ممکن نہیںہے.
محمد جمیل خان سعودی عرب میںمقیم ہیں، انکا کہنا ہے کہ ڈیڑھ ماہ سے نوکری بھی ختم ہے، تنخواہ بھی نہیںملی اور کوئی خصوصی فلائٹ بھی سعودی عرب کےلئے نہیںچل رہی کہ جس کے ذریعے سے ہم آبائی علاقوں میں واپس جا سکیں. انکا کہنا تھا کہ یہ صرف میری کہانی نہیںہے، ایسے ہزاروں لوگ ہیںجو مسلسل اسی تگ و دو میںہیںکہ وہ آبائی وطن جا سکیں تاکہ کم از کم عید اپنے گھروالوںکے ساتھ ہی منا لیں.
نصیر احمد سعودی عرب میںرہائش پذیر ہیں، انکا کہنا ہے کہ وہ قرض لیکر ویزہ حاصل کرنے کے بعد رواں سال جنوری میںہی سعودی عرب پہنچے تھے، انکا کہنا ہے کہ ابھی ایک ماہ بھی نوکری پوری نہیںہوئی تھی کی لاک ڈاؤن کی وجہ سے نوکری چھوٹ گئی، رہنے،کھانے پینے کے اخراجات بھی موجود نہیںہیں، اگر ٹکٹ مل بھی رہا ہو تو بھی میںواپس نہیں جا سکتا. واپس پہنچ کر بھی قرض داروںکی ایک لمبی فہرست میرا انتظار کر رہی ہو گی. ایسی صورتحال سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیںآرہی ہے.
برطانیہ میںمقیم راجہ ظفر کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ ایک ماہ میںآٹھ مرتبہ ٹکٹ بک کروا چکے ہیںلیکن ناگزیر وجوہات کی وجہ سے فلائٹ کینسل ہو جاتی ہے. ہر مرتبہ ڈیڑھ سو پاؤنڈ کاٹ کر ٹکٹ ری فنڈ کر دیا جاتا ہے. اس طرح ایک ٹکٹ سے زائد کی قیمت ٹکٹ بک اور کینسل کروانے کے پراسیس میںخرچ ہو چکی ہے لیکن نہ تو ٹکٹ مل سکا اور نہ کوئی فلائٹ چل سکی. یہ صورتحال انتہائی پریشان کن ہے.
راشد افراز کا کہنا تھا کہ فاروق حیدر حکومت کو چاہیے کہ وہ کشمیری تارکین وطن کےلئے خصوصی انتظامات کرنے کےلئے کوئی فعال کردار ادا کریں. وفاق کے ساتھ لیزان قائم کریںاور بالخصوص سعودی عرب، یو اے ای اور دیگر گلف ممالک میںموجود تارکین وطن کےلئے اپنے فنڈز سے سبسڈی دیکر کوئی خصوصی فلائٹس چلوانے کا انتظام کریں، کشمیر میںہی قرنطینہ مراکز قائم کر کے کشمیری تارکین وطن کو وہاں رکھا جائے تاکہ اس مشکل صورتحال سے تارکین وطن کو نکالا جا سکے. یہی تارکین وطن کل حالات معمول پرآنے کے بعد اس علاقے کی معیشت کو دوبارہ پاؤںپر کھڑا کرنے میںاپنا فعال کردار ادا کریں گے. ماضی میںتارکین وطن کے معیشت کےلئے کردار کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت کو خصوصی اقدامات کرنے چاہئیں.
وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر کے پریس سیکرٹری راجہ محمد وسیم کا کہنا ہے کہ فلائٹس کے حوالے سے اقدامات حکومت کے دائرہ اختیار میںنہیںہیں. یہ وفاق کا سبجیکٹ ہے اور سول ایوی ایشن کی وزارت اس کو ڈیل کر رہی ہیں. البتہ اسلام آباد کے علاوہ دیگر شہروںمیں پہنچنے والے تارکین وطن کے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کی ہدایات پر سول ایوی ایشن کی وزارت سے رابطہ کیا گیا ہے، اب کشمیریوںکو اسلام آباد ایئرپورٹ پر ہی پہنچایا جائے گا.
راجہ محمد وسیم کا کہنا تھا کہ حکومت نے تارکین وطن کےلئے خصوصی ڈیسک بھی قائم کیا ہے. حکومت تارکین وطن کے ٹیسٹ اپنے اخراجات پر کروائے گی، لیکن اگر کوئی کشمیری تارک وطن جلد از جلد گھر پہنچنا چاہتا ہے تو وہ اپنے اخراجات پر پرائیویٹ ٹیسٹ کروا کر خصوصی اجازت نامہ حاصل کر کے گھر جا سکتا ہے.
تاہم انہوںنے یہ بھی بتایا کہ کشمیری تارکین وطن کو ٹکٹس نہ ملنے اور ٹکٹس بلیک ہونے والے معاملے پر بھی وفاقی وزارت کو تحریر کیا جائے گا اور کوشش کی جائے گی کہ تارکین وطن کی مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے.












11 تبصرے “گلف ممالک میںپھنسے بیروزگار کشمیری تارکین وطن گھرلوٹنے کیلئے حکومتی توجہ کے منتظر”