رحیم یار خان: لیاقت پور میں پاکستان ریلوے کی تیز گام ایکسپریس میں آگ لگنے سے کم از کم 65 افراد ہلاک

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں ایک مسافر ٹرین میں آگ لگنے سے حکام کے مطابق کم از کم 65 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ آگ جمعرات کی صبح کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی تین بوگیوں میں لگی۔ حکام کے مطابق مرنے والے زیادہ تر افراد کی لاشیں ’ناقابل شناخت‘ ہیں۔

وزیر ریلوے شیخ رشید کے مطابق تیز گام ایکسپریس لیاقت پور کے مقام پر حادثے کا شکار ہوئی اور اس کی تین بوگیاں ’سلنڈر اور چولہے‘ پھٹنے سے جل گئیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔

ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان جمیل احمد جمیل نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا ہے کہ واقعے میں 65 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 39 زخمیوں میں سے چھ کی حالت تشویش ناک ہے۔

زخمی افراد رحیم یار خان کے شیخ زید ہسپتال کے برن سینٹر میں زیر علاج ہیں۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟
اس سے قبل وزیر ریلوے نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ متاثرین میں تبلیغی جماعت کا ایک وفد بھی شامل تھا جو لاہور میں ہونے والے اجتماع کے لیے سفر کر رہا تھا۔

’مسافروں کے پاس ناشتے کا سامان، سلنڈر اور چولہے تھے جن کے پھٹنے سے آگ لگی۔‘

آگ 12 نمبر بوگی سے شروع ہوئی اور ٹرین میں پھیل گئی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور تین بوگیاں متاثر ہوئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرین ٹریک سے ڈی ریل نہیں ہوئی تھی اور کئی مسافروں نے بوگیوں میں آگ لگنے کی وجہ سے چھلانگ لگا دی تھی۔

شیخ رشید نے بتایا کہ سروس کی معطلی کے بعد پاکستان ریلوے کی 134 ٹرینز اور ان کے اپ سٹریم اور ڈاؤن سٹریم ٹریکس کو بحال کردیا گیا ہے۔

لواحقین کہاں رابطہ کرسکتے ہیں؟
پاکستان ریلوے نے زخمی اور ہلاک ہونے والے مسافروں سے متعلق معلومات کے حصول کے لیے خصوصی ہیلپ لائن قائم کردی ہے۔

ریلوے ترجمان کے مطابق لواحقین ان نمبروں پر فون کر کے معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

ملتان ڈویژن 0619200382
ڈی سی او ملتان 03114403720
لاہور کنٹرول آفس 04299201795

ہلاک ہونے والوں کی شناخت میں تاخیر
اپنے ویڈیو پیغام میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ’ٹرین کی دو بوگیاں تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے امیر حسین کے نام پر بک کی گئیں تھیں۔‘

ان میں سے دو بوگیاں اکانومی جبکہ ایک بزنس کلاس کی تھی۔ مسافروں کی مکمل تفصیلات نہ ہونے کی وجہ سے حکام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مسافروں کا تعلق صوبہ سندھ کے علاقوں محراب پور، نوابشاہ اور حیدرآباد سے ہے۔‘

ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان جمیل احمد جمیل نے بتایا ہے کہ زیادہ تر مرنے والوں کی لاشیں جھلسنے کی وجہ سے ’ناقابل شناخت‘ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔

دوسری طرف شیخ رشید نے بتایا ہے کہ بکنگ کروانے والے شخص امیر حسین کے پاس تمام مسافروں کے ناموں کی فہرست ہے۔ حکام کی جانب سے لواحقین سے رابطہ کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔

واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے غم کا اظہار کیا اور متاثرین کو بہترین طبی امداد دینے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

شیخ رشید نے بتایا ہے کہ مسافروں اور ٹرین کی انشورینس ہے جس سے مالی نقصان کی تلافی ہوسکے گی۔

انھوں نے واضح کیا کہ واقعے کی مزید تحقیقات ہو رہی ہیں۔

’بھائی کا فون آیا کہ ٹرین میں آگ لگ گئی‘
خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ٹرین حادثے میں سب سے زیادہ متاثر سندھ کے علاقے میرپور خاص سے ہیں۔

میرپور خاص سے تعلق رکھنے والے ایک 32 سالہ شخص محمد عمران بھی حادثے میں متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے بھائی حاجی محمد عارف نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس وقت میرپور خاص سے سکھر پہنچ چکے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’مجھے صبح چھ بج کر 40 منٹ پر بھائی عمران کا فون آیا۔ اس نے بتایا کہ جب ٹرین میں آگ لگی تو میں کود گیا۔ وہ بتا رہا تھا کہ میں بہت زیادہ زخمی ہوں، بہت ہی زیادہ زخمی ہوں۔‘

’اس کے ساتھ کوئی شخص مدد کررہا تھا اور اس نے بتایا کہ ہم اس کو ہسپتال لے کر جارہے ہیں۔‘

میرپور خاص کے 40 سے 50 لوگ ہیں جو کہ تبلیغی اجتماع کے لیے ٹرین پر سوار تھے۔

وہ حیدر آباد سے تیز گام کی ایک ہی بوگی میں سوار ہوئے تھے جس میں میرپور خاص کے ایک ہی محلے خان پارہ سروری کالونی کے تقریبا 30 لوگ سوار تھے۔

یہ رواں برس رحیم یار خان کی حدود میں کسی ریل گاڑی کو پیش آنے والا دوسرا بڑا حادثہ ہے۔ اس سے قبل جولائی میں رحیم یار خان کے قریب ہی کوئٹہ جانے والی اکبر ایکسپریس ایک مال گاڑی سے ٹکرائی تھی اور اس حادثے میں 20 سے زیادہ مسافر ہلاک جبکہ 60 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

تیزگام ٹرین بھی ماضی میں پاکستان ریلوے کی تاریخ کے مہلک ترین حادثوں میں سے ایک کا شکار ہو چکی ہے۔

یہ حادثہ جولائی 2005 میں صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں پیش آیا تھا جب تین ریل گاڑیوں تیز گام، کراچی ایکسپریس اور کوئٹہ ایکسپریس کے ٹکرانے سے 120 سے زیادہ مسافر مارے گئے تھے۔