پاکستان کے صوبہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں لاپتہ ہونے والے قوم پرست رہنماؤں اور سماجی کارکنوں کے اہلخانہ نےمقامی پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتال اور احتجاج کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں ناقابل بیان تکلیف سے چھٹکارہ دلایا جائے۔
حیدرآباد پریس کلب کے سامنے متاثرہ خاندانوں کے سیکڑوں افراد نے بھوک ہڑتال کی اور احتجاج کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کے پیاروں کوپاکستان کی سیکیورٹی ایجنسی کے اہلکاروں نے اٹھایا لیکن اب لاپتہ ہونے والے افراد کے بارے میں وہ کچھ بھی بتانے سے قاصر ہیں۔
وائس آف میسنگ پرسن سندھ کے تحت احتجاج کا اہتمام کیا گیا جبکہ ’جبری لاپتہ افراد کو رہا کرو‘ مذکورہ احتجاجی مہم کا نعرہ تھا۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ لاپتہ کیے جانے والے افراد کو رہا کیا جائے یا پھر کم از کم ان کی موجودگی کے بارے میں ان کے اہلخانہ کو اطلع کی جائے۔
مقامی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مظاہرین نے کہا کہ اگر لاپتہ افراد نے کوئی جرم کیا ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلشن حدید سے مسعود شاہ کو اٹھایا گیا اور اس کے بعد سے تاحال ان کے بارے کوئی اطلاع نہیں ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مسعود شاہ کے رشتے داروں کو بھی گرفتار کرکے ان پر ’جھوٹے‘ مقدمے دائر کردیے گئے۔
مظاہرین نے اعلان کیا گیا کہ اتوار کو پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر کراچی میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ اگست 2017 میں سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد سرکٹ کے ڈویژن بینچ نے آئی جی پولیس سندھ کو گزشتہ 2 سال کے دوران لاپتہ ہونے والے افراد اور نامعلوم لاشوں کی تفصیلات مرتب کرکے رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔
علاوہ ازیں دسمبر 2017 میں ہی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے مطالبہ کیا تھا کہ لاپتہ افراد پر کمیشن کی تشکیل کے ساتھ ساتھ تاریخ کو درست کرنے کے لیے سچ پر مبنی اور مفاہمتی کمیشن بنایا جائے۔
اسی برس پاکستان نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ورکنگ گروپ کو آگاہ کیا تھا کہ وہ مضبوط جمہوریت، آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور فعال سول سوسائٹی کے ساتھ شہریوں کے انسانی حقوق کو بہتر بنانے اور اسے فروغ دینے کی پالیسی جاری رکھے گا۔












17 تبصرے “حیدرآباد میںلاپتہ افراد کے اہل خانہ کا بھوک ہڑتالی کیمپ، سیکڑوںکی شرکت”