وزیر تعلیم کی ایماء پر فرضی ٹھیکا جاری کئے جانے ، ادھورے کام کے پورے بلات ادا نہ کرنے پر ناظم اعلیٰ کو جان سے مارنے کی دھمکیوں‌کا انکشاف

پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی مقامی حکومت کے وزیر تعلیم سکولز بیرسٹر افتخار گیلانی کی ایماء پر فرضی کمپنی کو ٹھیکا دئیے جانے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ غیر معیاری اور نا مکمل کام کی وجہ سے بل پاس نہ ہونے پر محکمہ افسران کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔
محکمہ تعلیم کالجز آزاد کشمیر میں بائیو میٹرک سسٹم کی تنصیب کا ٹھیکہ اسلام آباد کی نجی کمپنی کے نام ہے، تاہم رقم وصول کرنے کیلئے وزیر حکومت بیرسٹر افتخار کے بھائی مھر گیلانی میدان میں کود پڑے اور بل پاس کرنے کیلئے محکمہ کے افسران پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
محکمہ تعلیم کالجز آزاد کشمیر میں حاضری کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے بائیو میٹرک  سسٹم نصب کرنے کا فیصلہ ہوا تھا، جس کام کا با ضابطہ ٹھیکہ اسلام آباد کی ایک کمپنی جس کا نام “اینا لائیٹیکل سلوشنز” ہے کو دیا گیا تھا جبکہ کام کی نگرانی کیلئے ناظم اعلی تعلیم کالجز کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے کام کے معیار کو مانیٹر کرنا تھا۔

تاہم چند روز قبل یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس وقت تک صرف نظا مت تعلیم کالجز مظفر آباد ڈویژن کے ایک کمرے میں “سرور”نصب ہو سکا ہے اور کالجز کو ڈیوائسز فراہم کی جا سکی ہیں ۔سافٹ وئیر سے متعلق پورا جبکہ ٹیکنیکل کا آدھے سے زائد کام بقایا ہے اور اس وقت تک جو کام ہو چکا وہ بھی انتہائی غیر معیاری اور ادھورا ہے مگر اس کے باوجود کام کی نوعیت کے تحت رقم بھی ادا ہو چکی ہے۔
ٹھیکے کی حقیقت اس وقت سامنے آئی جب یہ انکشاف ہوا کہ اس کا حقیقی ٹھیکیدار وزیر حکومت بیرسٹر افتخار گیلانی کا بھائی ہے اور موصوف نے  نامکمل اور غیر معیاری کام کی مد میں ٹھیکے کی مکمل رقم کی ادائیگی کیلئے بل پاس کروانے کیلئے بائیو میٹرک کی مانیٹرنگ کمیٹی پر دبا ؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے اور بل پر اعتراض لگانے کی صورت میں محکمہ افسران کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی ہیں۔
ناظم اعلیٰ‌تعلی کالجز پروفیسر ڈاکٹر خواجہ عبدالرحمان کی جانب سے سیکرٹری حکومت کی لکھے گئے مکتوب میں تحریر کیا گیا ہے کہ مہر گیلانی نامی شخص نے اپنے آپ کو بیرسٹر افتخار گیلانی کا بھائی ظاہرکرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ٹھیکہ اصل میں انکے پاس ہے اور اگر بلات کی ادائیگی میں‌رکاوٹ ڈالی گئی تو سنگین نتائج بھگتنے پڑیں گے، مکتوب میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ جس قدر کام کیا گیا ہے اس کے مطابق ادائیگی بھی کر دی گئی ہے، ٹیکنیکل کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق کام تسلی بخش نہ ہے، جس وقت کام تسلی بخش ہوگا اس حد تک ادائیگی کر دی جائے گی، مکتوب کے مطابق مہر گیلانی نے ناظم اعلیٰ تعلیم کالجز کے ساتھ بد تمیزی کی اور ناظم اعلیٰ تعلیم کو مارنے سمیت دیگر سنگین نتائج کی دھمکی دی.
مکتوب میں‌یہ بھی لکھا گیا ہے کہ کچھ افراد نے ٹیکنیکل کمیٹی کے سیکرٹری ابرار قیوم کو مارنے کےلئے دفتر پرحملہ بھی کیا گیا لیکن خوش قسمتی سے وہ وہاں‌موجود نہیں‌تھے.
تاہم اس معاملہ میں‌ابھی تک مہر گیلانی یا انکے بھائی وزیر حکومت بیرسٹر افختخار گیلانی کا موقف سامنے نہیں‌آیا ہے.