ایشیائی ممالک میں حالیہ قدرتی آفات نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جہاں سمندری طوفان، شدید بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ایک ہفتے کے دوران 1300 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 800 سے زائد لاپتہ ہیں۔ لاکھوں لوگ متاثر اور ہزاروں اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق انڈونیشیا میں 712، سری لنکا میں 410، تھائی لینڈ میں181اور ملائیشیا میں 3 افراد ہلاک ہوئے۔ انڈونیشیا کے مغربی صوبے سماٹرا میں لینڈسلائیڈنگ اور سیلاب سے 3 اضلاع بری طرح متاثر ہوئے۔ ریسکیو ٹیمیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے دوردراز علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے میں مصروف ہیں۔انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو نے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا مؤثر مقابلہ ناگزیر ہے اور مقامی حکومتوں کو ماحول کے تحفظ اور شدید موسمی حالات کے لیے تیاری میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
سری لنکا میں شدید تباہی کے بعد ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ کئی متاثرہ علاقے سڑکوں اور مواصلاتی نظام کے تباہ ہونے کے باعث تاحال ناقابلِ رسائی ہیں، جہاں فضائی راستے سے امدادپہنچائی جا رہی ہے۔سری لنکن صدر انورا کمارا نے اس تباہی کو 2004 کے ہولناک سونامی سے بھی زیادہ نقصان دہ قرار دیا ہے۔
عالمی فلاحی تنظیم سیو دی چلڈرن کے مطابق تھائی لینڈ میں 76 ہزار بچے تعلیمی سرگرمیوں سے محروم ہیں، کیوں کہ اسکول یا تو بند ہیں یا متاثرہ علاقوں میں رسائی ممکن نہیں ہے۔ انڈونیشیا میں ایک ہزار اسکول سیلاب سے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔ متعدد اسکولوں کو عارضی طور پر ایمرجنسی شیلٹرز کے طور پر بھی استعمال کیا جا رہا ہے جس کے باعث تدریسی سرگرمیاں معطل ہیں۔
دوسری جانب بھارتی ریاست تامل ناڈو بھی سمندری طوفان دتوا سے متاثر ہے، جہاں چنائی میں شدید بارشوں کے باعث فلائٹ آپریشن معطل کر دیا گیا ہے۔











