پاکستانی کشمیر:باشندہ ریاست (درجہ سوم) سرکاری ملازمت کا اہل نہیں،3تقرریاں منسوخ کرنیکی تحریک

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے ضلع میرپور میں تین اساتذہ کی تقرریاں منسوخ کرنے کےلئے تحریک کر دی ہے۔ یہ تقرریاں اساتذہ کے باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ درجہ سوم ہونے کی وجہ سے منسوخ کرنے کی تحریک کی گئی ہے۔ اساتذہ میں ہائی سکول کھاڑک میرپور کے قاری ضیاءاللہ، گورنمنٹ گرلز مڈل سکول بندرال کی جونیئر معلمہ ناہید اختر اور گورنمنٹ گرلز ہائی سکول سنگھوٹ میرپور کی پرائمری معلمہ عاصمہ غفور شامل ہیں۔ قاری ضیاءاللہ اور عاصمہ غفور کو سروس میں تقریباً نو سال ہو چکے ہیں۔ جونیئر معلمہ ناہید اختر کی سروس تیس سال سے زائد ہو چکی ہے اور وہ ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں۔

محکمہ قانون کی رائے کے بعد سیکشن آفیسر یلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میرپور ڈویژن اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر میرپور کو درجہ سوم کے شہریوں کی تقرریاں منسوخ کرنے کی تحریک کرتے ہوئے پندرہ ایام کے اندر سیکرٹریٹ تعلیم کو مطلع کرنے کی ہدایت کر رکھی تھی۔ تاہم متاثرہ اساتذہ نے مذکورہ فیصلہ کے خلاف محکمانہ اپیل دائر کر رکھی ہے۔ محکمہ تعلیم کے ایک آفیسر کے مطابق جونیئر معلمہ ناہید اختر کی سروس تیس سال سے زائد ہو چکی ہے۔ اور انہوں نے اپیل میں موقف اختیار کیا ہے کہ جب ان کی تقرری محکمہ تعلیم میں ہوئی تھی تو اس وقت سٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹ کی رو سے درجہ سوم کے شہریوں کو ملازمت کا حق حاصل تھا ، جس پر 1993ءمیں پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس لئے اس پابندی کا اطلاق ان پر نہیں ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ ناہید اختر کی بڑی بہن محکمہ تعلیم سے بطور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ریٹائرڈ ہیں۔ یہ خاندان پاکستان صوبہ پنجاب سے تعلق رکھتا ہے اور انہوں نے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں رہائش اختیار کرنے کے بعد ڈومیسائل اور پشتنی باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ (سٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹ) درجہ سوم کے تحت حاصل کر رکھا ہے۔

محکمہ تعلیم کے آفیسر نے دیگر دو اساتذہ کے موقف کی بابت لاعلمی کا اظہار کیا۔ انکا کہنا تھا کہ تینوں اساتذہ نے تقرریاں منسوخ کرنے کے فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے۔ تاہم اپیلیں اور متعلقہ کاغذات سیکرٹریٹ تعلیم مظفرآباد کو ارسال کر دیئے گئے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر میرپور راجہ طاہر ممتاز نے مجادلہ سے گفتگو کے دوران تین اساتذہ کی تقرریاں منسوخ کئے جانے کی تحریک سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ تاہم انکا کہنا تھا کہ میری خیال میں درجہ سوم کے شہریوں پر ملازمت یا دیگر سہولیات کے حصول پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔ تاہم ملازمت اور زرعی یا تعمیراتی اراضی کے حصول کےلئے درجہ اول کے شہریوں کو ترجیح حاصل ہے۔ آسامیاں مشتہر کرتے وقت بھی تحریر کیا جاتا ہے کہ باشندہ ریاست درجہ اول کو ترجیح دی جائے گی۔ اس کا ہر گز مطلب یہ نہیں ہے کہ درجہ سوم کے شہریوں کو ملازمت ہی نہیں دی جائے گی۔ انکا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ محکمہ تعلیم سے تقرریاں منسوخ کرنے کے معاملہ میں باشندہ ریاست درجہ اول کے امیدوار ہونے کے باوجود درجہ سوم کے شہریوں کی تقرری کی گئی ہو اس لئے منسوخ کی گئی ہو گی۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ درجہ سوم کا حصول قانونی طور پر جائز ہے۔ چند سو کے قریب لوگوں نے مختلف اضلاع میں باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ درجہ سوم کے تحت حاصل کر رکھا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ حتمی تعداد سے متعلق تو بورڈ آف ریونیو سے ہی ریکارڈ دستیاب ہو سکتا ہے ، یہ ایک محتاط اندازہ ہے کہ یہ تعداد چند سو تک محدود ہے۔

انکا کہنا تھا کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ درجہ سوم حاصل کرنے والوں کی زیادہ تعداد ان لوگوں پر مشتمل ہے، جنہوں نے کشمیری خواتین سے شادیاں کیں اور یہیں آباد ہو گئے۔ ان کے پاس یہاں رہنے کےلئے یہی راستہ تھا کہ وہ رعیت نامہ حاصل کرنے کے بعد باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ درجہ سوم حاصل کریں۔ اس طرح ان کی اولادیں بھی درجہ سوم کی ہی شہری کہلائیں گی۔ انکا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ خیبر پختونخوا اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے بھی کچھ شہریوں نے یہ سرٹیفکیٹ حاصل کر رکھے ہیں۔ اور ایک مخصوص تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جو مختلف اوقات میں کنٹرول لائن عبور کر کے آئے لیکن ان کے پاس اپنے آپ کو جموں کشمیر کا پشتنی باشندہ ثابت کرنے کےلئے کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں تھا۔

راولاکوٹ میں محکمہ مال کے ایک آفیسر نے مجادلہ سے گفتگوکے دوران کہا کہ ضلع پونچھ میں صرف دو شہریوں کو رعیت نامے جاری ہوئے تھے لیکن تاحال ان کے ڈومیسائل اور باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ جاری نہیں ہو سکے۔ یہ دونوں شہری پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم ان سے متعلق یہ الزام لگتا رہا کہ وہ افغان شہری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایسے شہری ہیں جنہیں قبائلی جرگہ کے فیصلہ کے تحت علاقہ بدر کیا گیا تھا اور زمین جائیداد مخالف پارٹیوں کو بطور جرمانہ دے دی گئی تھی۔ اس لئے یہ کئی دہائیوں سے ضلع پونچھ میں ہی آباد ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ایسے اور بھی کئی افراد ہیں جو اس طرح کے قبائلی فیصلہ جات کی وجہ سے علاقہ بدر ہونے کے بعد یہاں آباد ہیں اور وہ مستقل رہائش اختیار کرنے کے باوجود اس علاقے کے قانونی شہری نہیں ہیں کیونکہ انہیں باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ جاری نہیں ہوئے ہیں۔

میرپور سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی ظفر مغل کی رپورٹ کے مطابق میرپور میں غیر ریاستی افراد کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ جن کی اکثریت نے رعیت نامے بنوا رکھے ہیں۔ سرکاری محکموں میں ملازمتیں اختیار کر رکھی ہیں۔ جبکہ ادارہ ترقیات میرپور سے پلاٹ بھی منتقل /ہبہ کروا رکھے ہیں۔ انکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میرپور کے شہریوں نے حکومت اور متعلق ذمہ داروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر ریاستی افراد کی سرکاری ملازمتوں میں بھرتیوں اور اراضی کی خرید و فروخت کے معاملہ کی تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

2 تبصرے “پاکستانی کشمیر:باشندہ ریاست (درجہ سوم) سرکاری ملازمت کا اہل نہیں،3تقرریاں منسوخ کرنیکی تحریک

  1. Pingback: 메이저사이트

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: