پاکستانی کشمیر: محکمہ برقیات کو تبدیل کرنے کامنصوبہ،بجلی فی یونٹ5.79روپے میں ملے گی

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں بجلی کی تقسیم کار کے فرائض سرانجام دینے والے ”محکمہ برقیات“ کو پاکستان میں بجلی کی تقسیم کرنیوالی کمپنیوں کی طرزپر بجلی کی تقسیم کار کمپنی بنانے کے منصوبے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اس کمپنی کا نام ”آزاد جموں کشمیر ڈسکو“ (اے جے کے ڈسکو)رکھا جائیگا۔ یہ کمپنی پاکستان کی تین بڑی تقسیم کار کمپنیوں آئیسکو، پیسکو اور گیپکو سے بجلی خرید کر نیپرا کے قواعد کے تحت صارفین تک پہنچانے کی ذمہ داری ہو گی۔ نرخوں کا تعین بھی نیپرا ہی کریگی۔

انگریزی جریدے دی نیوز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق مارچ 2019ءمیں پاکستان کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلہ کے روشنی میں اے جے کے ڈسکو کے قیام کے منصوبے پر عملدرآمد شروع کیا جا چکا ہے۔ دی نیوز نے وزارت توانائی کے ایک سینئر عہدیدار کے حوالے سے لکھا ہے کہ وزارت توانائی پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے محکمہ برقیات کے ساتھ رابطے میں ہے۔

وزارت توانائی کے عہدیدارکے مطابق پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی تقسیم کار کمپنی کو فی یونٹ بجلی اب 5.79روپے فی یونٹ کے حساب سے مہیا کی جائے گی، جبکہ قبل ازیں یہ نرخ 2.59روپے فی یونٹ تھا۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے واٹر یوز چارجز کو 15پیسے سے بڑھا کر 1.10پیسے فی یونٹ کر دیا گیا ہے۔تاکہ اس خطے کو دیگر صوبوں کے پی کے اور پنجاب کے مساوی لایا جا سکے۔ کیونکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کو 1.10روپے فی یونٹ نیٹ ہائیڈل پرافٹ دیا جا رہا تھا۔ جبکہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی حکومت بھی منگلا ڈیم کے واٹر یوز چارجز کا مطالبہ کر رہی تھی۔

وزارت توانائی کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی بجلی تقسیم کار کمپنی کےلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہو گا کہ تین تقسیم کار کمپنیوں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی(آئیسکو)، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی(پیسکو) اور گوجرانوالہ الیکٹرک سپلائی کمپنی(گیپکو) سے بجلی خریدکر نقصانات پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ تینوں تقسیم کار کمپنیاں اپنے نقصانات کا سب سے بڑا ذمہ دار پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر کو قرار دیتی ہیں۔ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کو پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی(پیسکو) ساٹھ ستر فیصد بجلی فراہم کرتی ہے۔ لیکن پیسکو انتظامیہ ہمیشہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے ذمہ پینتیس فیصد سے زائد نقصانات ظاہر کرتی آئی ہے، یہی معاملہ آئیسکو اور گیپکو کے ساتھ بھی ہے۔

دوسری طرف وفاقی سطح پر ہی یہ نقطہ بھی اٹھایا جا تارہا ہے کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کو نیشنل گرڈ سے براہ راست بجلی فراہم کی جائے، یا پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں ہی ایک گرڈ اسٹیشن قائم کیا جائے جہاں سے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں بجلی تقسیم کی جائے۔ تاہم اس منصوبے پر تاحال غور نہیں کیا گیا ہے۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے محکمہ برقیات کے ایک سینئر عہدیدار نے مجادلہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی یہ منصوبہ وفاق میں تجویز کے طور پر زیر بحث ہے، ہم اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کریں گے۔ ابھی واٹر یوز چارجز میں اضافے کا فیصلہ ہو چکا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی بجلی کی فراہمی کے نرخوں میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس لئے ابھی حکومت نے یہ بھی فیصلہ کرنا ہے کہ آیا ہم سستی بجلی حاصل کر کے فائدے میں رہیں گے، یا واٹر یوز چارجز میں اضافے کے ذریعے سے فائدے میں رہیں گے۔ انکا کہنا تھا کہ کروٹ ہولاڑ ڈیم پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر اور پنجاب کی حدود میں بن رہا ہے۔ لیکن اس کا معاہدہ پنجاب حکومت کے ساتھ ہوا ہے، ڈیم کی بجلی ایک روپیہ فی یونٹ پنجاب کو ملے گی جبکہ پنجاب کو واٹر یوز چارجز بھی 1.10روپے فی یونٹ فراہم کئے جا رہے ہیں۔ لیکن پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر سے پیدا ہونے والی بجلی پہلے 2.59روپے فی یونٹ محکمہ برقیات کو فراہم کی جاتی تھی، جسے محکمہ برقیات نیپرا کے نرخوں کے مطابق صارفین کو پہنچانے کا پابند تھا۔ لیکن اب واٹر یوز چارجز 1.10روپے فی یونٹ کرنےکا فیصلہ ہوا ہے اور دوسری طرف بجلی کی فراہمی کے نرخ 5.79روپے فی یونٹ کر دیئے گئے ہیں۔

ایک حکومتی اہلکار کا کہنا تھا کہ واٹر یوز چارجز کے علاوہ ہم نیٹ ہائیڈل پرافٹ یا بجلی کی رائلٹی کے حصول کا مقدمہ بھی لڑ رہے ہیں۔ ابھی واٹر یوز چارجز میں اضافہ ہوا ہے، جب حکومت کو واٹر یوز چارجز ملیں گے اور فی یونٹ بجلی کے نئے نرخ پر عملدرآمد شروع ہو گا تو پھر ہی پتہ چلے گا کہ اس سے مقامی حکومت کو فائدہ ہو رہا ہے یا نقصان ہو رہا ہے۔ ایک پیچیدہ جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں بجلی کی ترسیل کےلئے پاکستان کے دو صوبوں اور اسلام آباد کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے ذریعے سے بجلی کی تقسیم کی جا رہی ہے۔ پہلی کوشش یہی ہو گی کہ بجلی کی تقسیم کا سلسلہ ایک ہی جگہ سے ہو تاکہ تقسیم کار کمپنیوں کے ساتھ جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس سے ہماری بچت ہو سکے۔

انکا کہنا تھا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اپنے لائن لاسز اور دیگر نقصانات کو بھی ہم پر ڈال دیتے ہیں۔ الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ ہمارا گرڈ اسٹیشن الگ ہو تاکہ تمام اضلاع کو وہاں سے بجلی کی ترسیل ممکن ہو سکے۔ طریقہ بھی یہی بنتا ہے کہ اس خطے میں پیدا ہونیوالی بجلی یہاں گرڈ میں شامل کی جائے اور اس خطے کی ضرورت سے اضافی بجلی کو نیشنل گرڈ میں منتقل کیا جائے۔

دوسری طرف محکمہ برقیات کے فنی ملازمین کے ایک عہدیدار نے گفتگو کرتے ہوئے کمپنی بنانے کے عمل کو نجکاری کا راستہ ہموار کرنے کا ایک ہتھکنڈہ قرار دیا ہے۔ انکا خیال ہے کہ کمپنی کا درجہ دینے کے بعد محکمہ کو مکمل طور پر پرائیویٹائز کر دیا جائے گا۔ جس کی وجہ سے نہ صرف سیکڑوں ملازمین سے مستقل روزگار کا حق چھینا جائے گا۔ پنشن اور دیگر مراعات پر کٹوتیاں عائد ہونگی۔ انکا کہنا تھا کہ حکمرانوں کا ہر عمل محنت کشوں کی زندگیاں اجیرن بناکر اپنے مفادات حاصل کرنے پر مبنی ہوگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی تحویل میں رہتے ہوئے محکمہ برقیات اگر بجلی کی تقسیم کا ایک مثالی نظام نہیں قائم کر سکا تو نجی تحویل میں دینے سے یہ موجودہ حالت سے بھی بدتر ہو جائیگا اور کراچی جیسے حالات کا اس خطے کے لوگوں کو سامنا کرنا پڑے گا۔کیونکہ پرائیویٹ سرمایہ دار کم سے کم اخراجات سے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتا ہے ۔ اس مقصد کےلئے مستقل روزگار کا خاتمہ کرتے ہوئے کم سے کم ملازمین کے ذریعے زیادہ زیادہ کام لینے کی کوشش میں جو کچھ نظام موجود ہے اس کو بھی برباد کر دیا جائے گا۔

انکا کہنا تھا کہ ملازمین کسی بھی صورت محکمہ کی فروخت کرنے کی اجازت نہیں دینگے، نجکاری، یا پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ یا پر نیم سرکاری کمپنی کے طور پر محکمہ کو چلانے کے اقدام کی مخالفت کی جائے گی اور سخت مزاحمت کی جائیگی۔

5 تبصرے “پاکستانی کشمیر: محکمہ برقیات کو تبدیل کرنے کامنصوبہ،بجلی فی یونٹ5.79روپے میں ملے گی

  1. Pingback: Blazing Trader
  2. Pingback: chasty wig
  3. Pingback: bitcoin era review

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: