علی سوجل: این ایس ایف کے زیر اہتمام طلبہ حقوق ریلی اور سوشلسٹ یوتھ کانفرنس کا انعقاد

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام علی سوجل میں منعقدہ سوشلسٹ یوتھ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ مسئلہ جموں کشمیر مختلف قومیتوں اور ثقافتوں کا مسئلہ ہے جو اپنی اصل میں ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور تمام قوموں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے طبقاتی بنیادوں پر جڑت قائم کرکے سرمایہ دارانہ نظام اور ریاستوں کے خلاف جدوجہد ہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چلتے ہوئے نہ صرف کشمیر کی محکوم قومیتوں کو حق آزادی مل سکتا ہے بلکہ معاشی، سیاسی، سماجی نا انصافیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک طبقات سے پاک معاشرے کی بنیادیں ڈالی جا سکتی ہیں۔ اس جدوجہد میں ہرقوم کے بالادست حکمران طبقات اور محنت کش طبقات کے مابین کوئی صلاح اور مصالحت نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے برعکس بھارت اور پاکستان کی مظلوم قومیتوں، محنت کشوں اور نوجوانوں کے ساتھ طبقاتی جڑت قائم کرتے ہوئے اس جدوجہد کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

بھارت اور پاکستان کی سرمایہ دارانہ ریاستوں کی موجودگی میں نہ صرف دونوں ملکوں میں موجود محکوم قومیتوں کا قومی سوال حل ہو سکتا ہے اور نہ ہی مسئلہ کشمیر کے ساتھ جڑی محکوم و مظلوم قومیتوں کو حق آزادی مل سکتا ہے۔ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن جدید سائنسی سوشلزم کے نظریات سے نوجوانوں کو لیس کرتے ہوئے محنت کشوں کے ساتھ ملکی اور عالمی یکجہتی قائم کرتے ہوئے اس نظام کے خلاف جدوجہد میں برسرپیکار ہے۔ اور انقلابی سوشلزم کے نظریات اور پروگرام کی بنیاد پر تیار کردہ قیادت ہی اس خطے کے محنت کشوں اور نوجوانوں کی تحریک کو درست راستہ اور سمت دے سکتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی صدر ابرار لطیف، سابق مرکزی صدر بشارت علی خان، سیکرٹری جنرل ایس ایل ایف دانش گلفراز، سابق سیکرٹری جنرل این ایس ایف خلیل بابر، سیکرٹری جنرل این ایس ایف یاسر حنیف، آرگنائزر آر ایس ایف راولپنڈی عمر عبداللہ، مرکزی ایڈیٹر عزم این ایس ایف التمش تصدق، چیئرمین نشرواشاعت شفقت رحیم داد، سیکرٹری مالیات ارسلان شانی، یاسر گلزار، سبحان عبدالمالک، عثمان خان، سعد خالق، سیف اللہ، ذیشان فاروق، اسد حنیف، زومیر فاروق اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض طاہر اسحاق نے سرانجام دیئے۔

قبل ازیں علی سوجل بازار میں طلبہ حقوق ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی کے شرکاء نے سرکاری تعلیمی اداروں کی بندش اور نجکاری کی پالیسی کو ختم کرنے، طلبہ حقوق کی بازیابی، طلبہ یونین کی بحالی، یکساں اور جدید سائنسی تعلیم کی مفت فراہمی سمیت دیگر مطالبات کے گرد نعرے بازی کی گئی۔ ریلی کے اختتام پر علی سوجل بازار میں سوشلسٹ یوتھ کانفرنس کے عنوان سے جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا۔ جلسہ عام میں مسئلہ جموں کشمیر، ایک انقلابی حل کے ایجنڈا پر مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے حکمران طبقات مسئلہ کشمیر کو ایک نان ایشو کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ڈیڑھ ارب سے زائد آبادی پر جبر و استبداد کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ آئی ایم ایف اوردیگر سامراجی اداروں کی پالیسیوں اور سامراجی تجارتی جنگوں میں کٹھ پتلیوں کا کردار ادا کرتے ہوئے کشمیر کے پونے دو کروڑ انسانوں کی زندگیاں جہنم بنا دی گئی ہیں۔ فوجی جبر اور ریاستی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کرنے والے کشمیریوں کی خود رو تحریک میں سامراجی مداخلت اور پراکسی وار کے ذریعے کشمیریوں کے قتل عام کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ ایک طرف عالمی سطح پر یہ باور کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ دہشت گردی اور مسلح گروہوں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان اور دیگر قوانین کے ذریعے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ جبکہ معصوم کشمیری نوجوانوں کی محرومیوں اور پسماندگی کو استعمال کرتے ہوئے انہیں مذہبی انتہاء پسندی کے ذریعے مسلح دہشت گردی کیلئے تیار کر کے ساتھ لاکھ بھارتی فوج کے ہاتھوں انکا قتل عام کروایا جا رہا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ بھارتی حکمران ہندوتوا کی پالیسی کو اپناتے ہوئے جموں کشمیر میں ڈومیسائل ایکٹ سمیت دیگر آئینی اور قانونی تبدیلیاں کرتے ہوئے آبادیاتی تبدیلی کے ذریعے مذہبی فسادات اور فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہوئے کشمیریوں کا قتل عام کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے محنت کشوں اور نوجوانوں کی بقاء پر ان سرمایہ دارانہ ریاستوں کی سوشلسٹ تبدیلی میں ہی مضمر ہے۔محکوم قومیتوں کے حق خودارادیت اور قومی سوال کا حل بھی اس نظام کے اندر موجود نہیں ہے۔ اس لئے کشمیری نوجوانوں اور محنت کشوں کوبھارت اور پاکستان کے محنت کشوں اور نوجوانوں کی جدوجہد کے ساتھ طبقاتی بنیادوں پر جڑت قائم کرتے ہوئے مشترکہ مسائل سے نجات کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی۔ برصغیر کی سوشلسٹ فیڈریشن کے ذریعے سے ہی تمام تر مسائل کا حل ممکن ہے جو کہ نہ صرف جنوبی ایشیاء بلکہ دنیا بھر کی اقوام کی سوشلسٹ فیڈریشن کے قیام کیلئے نقطہ آغاز ہوگی۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: