آن لائن تعلیم کے نام پر مجبوریوں کا بیوپار

کارل مارکس نے کہا تھا کہ”سرمایہ دارانہ نظام نے انسان سے اس کی تمام آزادیاں چھین کر واحد آزادی دی، وہ تهی خریدو فروخت کی آزادی، آزادانہ تجارت کی آزادی”. نظام زر میں ہر چیز کو بیچا اور خریدا جا سکتا ہے،بیمار کے لیے علاج بکتا ہے، تن ڈھانپنے کے لیے لباس بکتا ہے،سر چهپانے کے لیے(گهر )چھت بکتا ہے،جہالت کے خاتمے کے لیے تعلیم بکتی ہے. مختصر یہ کہ انسانی ضروریات اور مجبوریوں کا بیوپار کیا جاتا ہے.ہر شے دستیاب ہےصرف قوت خرید ہونی چاہیے، لیکن وہ محض چند لوگوں کے پاس ہے. اکثریتی انسان اشیاء کی وافر مقدار ہونے کے باوجود ان کو خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے. وہ دور سے ہی ان اشیاء کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ سکتے ہیں یا ان کی خریداری کی خواہش کر سکتے ہیں.

کرونا وائرس کی وجہ سے پہلے سے محدود قوت خرید میں مزید کمی آئی ہے.کروڑوں بیروزگار ہو چکے ہیں یا ان کو اجرتیں نہیں دی جا رہیں. جس وجہ سے وہ بنیادی انسانی حاجتیں پورا کرنے کے قابل نہیں رہے.اس کیفیت میں وہ بنیادی ضروریات زندگی کو نہیں خرید سکتے ہیں جہاں دو وقت کی روٹی کا حصول ناممکن ہو گیا ہے وہاں مہنگی تعلیم اور علاج خریدنا کیسے ممکن ہے.اس صورتحال میں بھی تعلیم کے بیوپاری بضد ہیں کہ ہمیں فیسیں ہر صورت وصول کرنی ہیں.

مفت تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے جو غیر مشروط طور پر ہر طالب علم کو ملنا چاہیے.جس حق کی آئینی طور پر ریاست ذمہ داری بھی قبول کرتی ہے لیکن عملی طور پر تعلیم منافع بخش کاروبار بنا دیا گیا ہے. جو محض پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں ہی نہیں بلکہ سرکاری تعلیمی اداروں میں بھی طلباء سے ہزاروں، روپے فیسوں کی وصولی کی صورت میں جاری ہے.ہر سال دس فیصد فیسوں میں اضافہ کیا جاتا ہے لیکن المیہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر فیسیں وصول کرنے کے باوجود طلباء کو بنیادی تعلیمی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے. ہاسٹل، ٹرانسپورٹ، کلاس روم میں طلباء کی تعداد کے تناسب سے فرنیچر، کهلوں کا میدان، انٹرنیٹ،پارکنگ سمیت دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان ہے یہاں تک کہ صاف پانی تک بھی دستیاب نہیں ہے.

کرونا وائرس کے پھلنے کے بعد سے تعلیمی عمل اب تک معطل ہے لیکن سمسٹر فیس کی وصولی کے لیے آن لائن کاسسز کے نام پر ناٹک کیا جا رہا ہے.بظاہر تو حکمران طبقے اور تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا کہ ان کو بچوں کے مستقبل کی بہت فکر ہے. اس لیے آن لائن کلاسز کا آغاز کیا گیا ہے لیکن حقیقت میں تعلیم کے نام پر جو کاروبار کیا جا رہا تھا، اس کے متاثر ہونے کا خدشہ تھا. فیسوں کی وصولی کے لیے ضروری تھا آن لائن کلاسز کے نام پر طلبہ کی آنکھوں میں دھول جھونکی جائے.اگر ایسا نہیں ہے تو پھر حکمران طبقہ اندها ہے جو یہ نہیں دیکھ سکتا کہ انٹرنیٹ اور جدید آلات(لیپ ٹاپ اور سمارٹ فون) کے بغیر آن لائن پڑھنا ناممکن ہے یا پھر وہ پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو انسان ہی نہیں سمجھتے، ان کے تعلیمی حرج کی انہیں کوئی پروا نہیں ہے.انٹرنیٹ کی سہولیات موجود بھی ہوں تو اساتذہ کو آن لائن تعلیم دینے کا کوئی تجربہ نہیں ہے.

فیسوں کے مسائل کے ساتھ پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں ہر ادارے کے طلباء کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے.پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے صرف ایک ادارے کے طلباء کے مسائل پر بات کریں تو ہمیں مسائل کی بھرمار نظر آتی ہے.

جامعہ پونچھ کی عمارت گزشتہ دس سال سے زیر تعمیر ہے جس کا مستقبل بعید میں بھی تعمیر کا کوئی امکان نہیں ہے .کہیں سالوں سے یونیورسٹی کام تعطل کا شکار ہے.طلباء کو جیل نما دکانوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور کیا گیا ہے.چار مختلف علاقوں میں قائم کیمسوں میں طلباء کو تقسیم کر کے انکی طاقت اور یکجہتی کو دانستہ طور پر کم کیا گیا ہے.

طلباء اپنے حقوق کے لیے آواز نہ بلند کر پائیں اور انکا تحفظ نہ کر سکیں اس کے لیے طلباء یونین پر پابندی عائد ہے. علمی،ثقافتی، ادبی اور کھیلوں کی صحت مند سرگرمیوں کے فقدان کی وجہ سے طالب علم ذہنی الجھنوں اور تناؤ کا شکار ہیں جس وجہ سے منشیات،مذہبی انتہا پسندی ، اور خود کشی جیسے منفی رحجانات جنم لے رہے ہیں. کیرئیر ازم کی فکر کو پروان چڑھا کر طلباء کو اجتماعی مسائل کی جدوجہد کو انفرادی طور پر حل کرنے کی دوڑ میں دوڑایا جاتا ہے. جس دوڑ میں تنہاء سب کی ہار ہو ہوتی ہے.اجتماعی مسائل طلبہ کی مشترکہ کوششوں سے ہی حل ہو سکتے ہیں.طلبہ کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ یہ ہمارے مسائل ہیں ہمیں ہی حل کرنا ہوگا کیونکہ ان مسائل سے برائے راست طلباء ہی متاثر ہوتے ہیں.انتظامیہ اور حکومت دونوں کے لیے موجودہ حالت کو جوں کا توں برقرار رکهنا سودمند ہے لیکن طلبہ کے لیے یہ خسارے کا سودا ہے جو کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا.

اگر طلبہ اپنی اجتماعی طاقت پر یقین رکھتے ہوئے جدوجہد کریں تو دنیا کی کوئی طاقت طلبہ حقوق کو غصب نہیں کر سکتی. اس بات کی ماضی کی طلبہ تحریکیں گواہ ہیں جنہوں نے اپنی اجتماعی طاقت کی بنیاد پر نہ صرف اس نظام کو للکارا بلکہ مزدوروں اور کسانوں کے ساتھ مل کر طبقاتی نظام تعلیم کے خاتمے کے ساتھ طبقاتی سماج کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا ہے. یہی وجہ ہے کہ طلبہ تحریک کے آغاز سے ہی حکمران طبقہ خوفزدہ ہے.بلوچستان میں طلبہ پر ریاست کا وحشیانہ تشدد اس بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت تھا.

مختلف تعلیمی اداروں میں طلبہ کا احتجاج ایک چنگاری ہے جو اس آگ کو بھڑکا سکتی ہے جو اس نظام زر کو جلا کر راکھ کر دے گی. طبقاتی نظام تعلیم، طبقاتی نظام کی پیداوار ہے آج بھی طلبہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ طبقاتی نظام تعلیم کے ساتھ طبقاتی نظام کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں. جب تک اقتدار اور اختیار مٹھی بھر ایک فیصد لوگوں کے پاس ہو گا محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد اور طلبہ کا کوئی بھی بنیادی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا ہے.

اشتراکی سماج ہی انسان کو بنیادی ضروریات زندگی بلا تخصیص مفت فراہم کر سکتا ہے جہاں پیداوار کا مقصد منافع اور شرح منافع کے بجائے انسانی ضروریات کی تکمیل ہوتا ہے اور تعلیم اور علاج کے کاروبار کو جرم قرار دے کر ہر شخص کو مفت تعلیم اور علاج کی جاتی ہیں ہر شہری کو روزگار کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے. جہاں محض تجارتی آزادی نہیں بلکہ حقیقی انسانی آزادی ہو گی. جہاں انسانوں کے مابین مفادات پر مبنی خود غرضانہ تجارتی تعلقات کے بجائے خلوص اور محبت کے رشتے قائم ہوں گے تب ہی انسان حقیقی معنوں میں انسان ہو گا.