اربوں کی ٹیکس چھوٹ میں‌رکاوٹ چیئرمین سی بی آر کی تقرری کالعدم قرار دینے کا باعث….؟

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں چیف سیکرٹری کے عہدے پر تعینات پاکستان کے لینٹ آفیسر مطہر نیازرانا اپنے تبادلے کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے ایک روز بعد چارج چھوڑنے سے قبل چیئرمین سنٹرل بورڈ آف ریونیو کی تقرری کو غیر قانونی قرار دیکر منسوخ کرنے کا حکم نامہ جاری کر گئے۔ مذکورہ حکم نامہ غیر ملکی سرمایہ کار کمپنیوں کو مبینہ طور پر اربوں روپے کی ٹیکس چھوٹ نہ دیئے جانے کے رد عمل میں جاری کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

حکومت پاکستان اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن محررہ 02جولائی2020ءکے مطابق شہزاد خان بنگش کی سروسز کو پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں چیف سیکرٹری کی تعیناتی کےلئے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی حکومت کو تفویض کیا۔ شہزاد خان بنگش کی بطور چیف سیکرٹری کی تقرری کے اگلے روز چیف سیکرٹری مطہر نیاز رانا نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس کے تحت چیئرمین سی بی آر(سنٹرل بورڈ آف ریونیو) کی تقرری کو غیر قانونی قرار دیکر منسوخ کر دیا گیا۔

تین جولائی کو جاری ہونے والے حکم نمبرCS/KH/38-45/2020 کے مطابق ”آزاد جموں و کشمیر سنٹرل بورڈ آف رنیو ایکٹ 2020ء“جسے ”قانون ساز اسمبلی اے جے کے“(پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی) نے منظور کیا ماور محکمہ قانون نے 19مئی2020کوجاری کیا ہے۔تاہم (عبوری آئین کی) سیکشن تین کے تحت ذیلی سیکشن ایک اور دومیں بتائے گئے طریقہ کار کے تحت صرف حکومت ہی سی بی آر کی تشکیل کرنے کی اہل ہے۔ جب تک سی بی آر کی تشکیل نہیں ہو جاتی تب تک ایکٹ 2020کی سیکشن 11(2)کے تحت ماضی میںسنٹرل بورڈ آف ریونیو ایکٹ 1924ءکے تحت تشکیل شدہ سی بی آر ہی فنکشنل رہے گا اور اس کی اتھارٹیز بشمول چیئرمین اور دیگر اقدامات کےلئے برقرار رہیں گی۔

حکم نامے کے مطابق جب تک ایکٹ کے تحت سی بی آر کی باضابطہ تشکیل نہیں ہو جاتی تب تک چیئرمین سی بی آر کی تعیناتی آئینی شقوں کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اسے منسوخ کیا جانا ضروری ہے۔ لہٰذا آئین کی سیکشن 11(2)کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے چیئرمین سی بی آر کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن نمبری ACS(G)/6709746/2020محررہ20-05-2020تاریخ اجرائیگی سے منسوخ کیا جاتا ہے۔

مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے سینئرصحافی عبدالحکیم کشمیری کی رپورٹ کے مطابق سابق چیف سیکرٹری نے اپنے تبادلے کے ایک روز بعد چارج چھوڑنے سے قبل یہ آخری حکم نامہ ایک فیصلہ کے رد عمل کے طور پر انتقاماً کیا ہے۔ مذکورہ صحافی نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ سابق چیف سیکرٹری مطہر نیاز رانا پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں زیر تعمیر ہائیڈل پاور منصوبہ جات کی ٹھیکیدار کمپنیوں کو ٹیکسز کی مد میں اربوں روپے کی چھوٹ دینا چاہتے تھے۔ جبکہ نو تعینات شدہ چیئرمین سی بی آر فرحت میر نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ جس کے رد عمل میں انکی تقرری کا نوٹیفکیشن منسوخ کر دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ستمبر 2019میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر کابینہ نے سنٹرل بورڈ آف ریونیو کا محکمہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ 26نومبر 2019ءکو 1985کے رولز آف بزنس کے تحت ان لینڈ ریونیو کا محکمہ قائم کیا گیا۔ 18مئی2020ءکو سنٹرل بورڈ آف ریونیو ایکٹ2020منظور ہوا جس کے تحت چیئرمین کا عہدہ تخلیق کیا گیا۔ 20مئی کو فرحت علی میر نے بطور چیئرمین ذمہ داریاں سنبھالیں۔

رپورٹ کے مطابق سابق چیف سیکرٹری مطہر نیاز رانا نے اپنی سربراہی میں ایک اجلاس کا انعقاد کر کے پاور کمپنیوں کو ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کی کوشش کی۔ لیکن فرحت علی میر اس میں رکاوٹ بن گئے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں پترینڈ ہائیڈل پراجیکٹ اور گلپور پاور پراجیکٹ کی تعمیراتی کمپنیوں کے ذمہ پانچ فیصد سیلز ٹیکس کی مد میں کم و بیش پانچ ارب روپے کی رقم بقایا ہے۔ سابق چیف سیکرٹری ایک معاہدہ کے تحت کمپنیوں کو ٹیکس چھوٹ دینے کی کوشش کر رہے تھے۔

رپورٹ میں تعمیراتی کمپنیوں کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکسوں کی رقم پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر نے کمپنیوں کو واپس بھی کرنی ہے۔ جبکہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی حکومت کے ذمہ داران کا موقف ہے کہ کمپنیوں سے بجلی این ٹی ڈی سی خرید رہی ہے، اس لئے رقم واپس کرنے کی ذمہ داری بھی ان کی ہی ہے۔ ٹیکس ادائیگی ایک الگ معاملہ ہے اور ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ یا واپسی الگ معاملہ ہے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہی وہ بنیادی تنازعہ تھا جس میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے موقف کے برخلاف تعمیراتی کمپنیوں کو نوازنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد سابق چیف سیکرٹری نے اپنے تبادلے کے ایک روز بعد چارج چھوڑنے سے قبل یہ تقرری منسوخ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔

اس سلسلہ میں چیف سیکرٹری دفتر اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے ذرائع سے رابطہ کرکے موقف حاصل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن بوجوہ رابطہ نہیں‌ہو سکا.