راولاکوٹ:عملہ میں‌کورونا کی تصدیق، حبیب بینک کی مرکزی برانچ سیل کر دی گئی

راولاکوٹ میں‌نجی بینک حبیب بینک پرائیویٹ لمیٹڈ کی مین براچ کے عملہ میں‌کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد برانچ کو سیل کر دیا گیا. راولاکوٹ میں سیل کی جانے والی کسی بھی بینک کی یہ دوسری برانچ ہے.

اس سے قبل بینک الحبیب کی راولاکوٹ میں‌کام کرنے والی واحد برانچ کو سیل کیا گیا تھا. جو چند روز قبل دوبارہ بحال کر دی گئی ہے.

انتظامیہ نے ایس او پیز پر عملدرآمد کے حوالے سے بینکوں‌کی برانچوں‌کو بھاری جرمانے بھی کئے تھے، لیکن بینکوں‌میں‌شہریوں‌کا رش کم کرنے میں‌انتظامیہ ناکام رہی تھی. نجی بینک کے عملہ میں‌کورونا وائرس کی تصدیق نے بینک کی سروسز لینے والے تمام افراد کےلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے.

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے تمام ہی اضلاع میں‌بینکوں کے منافعوں‌کا انحصار بیرون ملک سے آنے والے زر مبادلہ پر ہی ہے. بالخصوص راولاکوٹ کے رہائشی افراد ہزاروں کی تعداد میں‌ گلف ممالک، یورپ، امریکہ اور کینیڈا کے علاوہ افریقہ کے ممالک میں‌روزگار کے ساتھ منسلک ہیں.

یہ تمام افراد ویسٹرن یونین اور فاسٹ کیش کے دیگر ذرائع کے ذریعے سے اپنے خاندان کےلئے رقوم بھیجتے ہیں. جس کی وجہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد بینکوں‌کا رخ‌کرتی ہے اور رقوم حاصل کرتی ہے. نجی بینک کے عملہ میں‌کورونا وائرس کی تصدیق کی وجہ سے بیرون ملک موجود شہریوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے. جن کی خواتین بینکوں‌سے رقوم حاصل کرنے آتی ہیں‌انکے پورے خاندانوں‌کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں.

حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک بینک ملازم کا کہنا تھا کہ یہ کام اس طرح کے علاقے میں‌کسی حد تک ناممکن ہے. بینکوں‌میں‌تمام حفاظتی تدابیر کےلئے اقدامات کئے گئے ہیں. صارفین کےلئے فاصلے پر کھڑے رہنے، سینیٹائزرز اور ماسک کے استعمال کی پابندی سمیت تمام تر ممکنہ حفاظتی تدابیر تو اختیار کی گئی ہیں لیکن بینکوں‌کے باہر لوگوں‌کی لائنیں لگی رہتی ہیں. لوگ حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد نہیں‌کرتے، فاصلہ برقرار نہیں‌رکھا جاتا. بینک کے اندر تو فاصلہ رکھنے پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے لیکن بینک کے باہر لگی لائن پر بینک کے چوکیدار یا گارڈ عملدرآمد نہیں‌کروا سکتے.

پولیس عہدیدار نے مجادلہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام تر پولیس نفری شہر میں‌حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد کروانے کے حوالے سے لگائی گئی ہے. لیکن پولیس والے بھی انسان ہیں. جبر کے ذریعے سے لوگوں‌کو پابند نہیں‌کیا جا سکتا. یہاں‌لوگوں‌نے ماسک کو بھی شناختی دستاویز کی حیثیت دے رکھی ہے. ماسک جیب میں رکھا جاتا ہے، پولیس اہلکاروں‌کو دیکھتے ہی چہرے پر لگا لیا جاتا ہے. اس ساری کیفیت میں پھر بہت ساری ذمہ داری شہریوں‌پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ بھی احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنے میں سنجیدگی اختیار کریں.

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ وباء سے متعلق ڈاکٹرز کی ہدایات کے برعکس سازشی تھیوریوں نے اپنی جگہ زیادہ تیزی سے بنا لی ہے. ایک بڑی تعداد میں‌آبادی اس بات پر مکمل یقین کئے ہوئے ہے کہ کورونا کوئی مرض‌نہیں‌ہے بلکہ یہ سب ایک بہانہ ہے جس کو اپنا کر مریضوں‌کے اعضاء فروخت کرنے کا عمل جاری ہے. لاشیں فروخت کی جا رہی ہیں. ہسپتال میں‌ٹیکے لگا کر مریضوں‌کو قتل کیا جاتا ہے وغیرہ. ایسی کیفیت میں‌حکومتوں کی جانب سے واضح پالیسی کا ہونا ضروری ہے. اگر وباء سے متعلق رائے علماء حضرات سے لی جائے گی اور ڈاکٹرزکو حفاظتی سامان مہیا کئے بغیر مرض سے لڑنے کےلئے چھوڑ دیا جائے گا تو پھر اس طرح کے امکانات بڑھ جاتے ہیں. حکومتوں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈاکٹرز کا ایک پینل تشکیل دینا چاہیے جو وباء پر قابو پانے کے حوالے سے حکومت کو طریقہ کار بتائیں جس پر حکومتیں‌اپنے وسائل کے مطابق عملدرآمد کرنے کی کوشش کریں. اس سب کے برعکس وباء کو کرپشن اور مال بنانے کا بہانہ سمجھ لیا گیا ہے جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں.

سیاسی و سماجی شخصیات نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وبائی کیفیت پر قابو پانے کےلئے سنجیدہ حکمت عملی مرتب کی جائے، حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد کے حوالے سے آگہی مہم اپنائی جائے. متاثرہ مریضوں‌کو سفیروں‌کی طرح استعمال کیا جائے، انہیں‌اس طرح کی سہولیات اور مدد فراہم کی جائے تاکہ وہ معاشرے میں حکومت کے سفیر کے طور پر رائے عامہ ہموار کرنے میں‌ مددگار ثابت ہو سکیں. متاثرین لاک ڈاؤن کی بحالی کےلئے پیکیجز دیئے جائیں. شعبہ صحت پر خصوصی ہنگامی بجٹ صرف کرتے ہوئے علاج معالجہ کی جدید اور بہتر سہولیات فراہم کی جائیں.

دوسری جانب محکمہ صحت کی جانب سے ہفتہ کو جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں مزید22 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ270نئے افراد کے کرونا کے شبہ میں ٹیسٹ لیے گئے اور55کرونا کے مریض صحت یاب ہوئے۔ نئے سامنے آنے والے کیسز میں سے 04 کا تعلق مظفرآبا، 01جہلم ویلی، 06راولاکوٹ، 07میرپور اور 04کا تعلق کوٹلی سے ہے۔

پاکستنای زیر انتظام کشمیر میں اب تک15620 افراد کے ٹیسٹ لیے گئے جن میں سے 15568کے رزلٹ آچکے ہیں اور1049افراد میں کرونا وائرس کی موجودگی پائی گئی ہے جن میں سے520افراد صحت یاب ہو چکے ہیں اور انہیں ڈسچارج کر دیا گیا ہے جبکہ501 مریض زیر علاج ہیں اور 28 مریضوں کی موت ہوئی ہے جن میں سے 13کا تعلق مظفرآباد،02کا راولاکوٹ،4کا باغ، 2کاتعلق سدھنوتی ،4کاتعلق میرپور اور03کا بھمبرسے ہے۔

رپورٹ کے مطابق صحت یاب ہونے والے520 افراد میں سے سی ایم ایچ مظفرآباد سے 6، آئسولیشن ہسپتال مظفرآباد سے 96،آئسولیشن سینٹر نیوپی ایم ہاوس مظفرآباد136، ڈی ایچ کیو جہلم ویلی سے6، ڈی ایچ کیو نیلم سے 4سی ایم ایچ راولاکوٹ سے33،ڈی ایچ کیو باغ سے57،ڈی ایچ کیو حویلی سے 05،ڈی ایچ کیوسدھنوتی سے35،ڈی ایچ کیو میرپور سے27،نیو سٹی ہسپتال میرپور سے25،ٹی ایچ کیو ہسپتال ڈڈیال میرپورسے06،ڈی ایچ کیو بھمبر سے53جبکہ ڈی ایچ کیو کوٹلی سے30 مریض صحت یاب ہوئے جنہیں ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔کرونا کے501 مریضوں میں سے388 مریضوں کو حکومت کی پالیسی کے تحت مختلف اضلاع میں ہوم آئسولیشن میں رکھا گیا ہے جبکہ113مریض مختلف ہسپتالوں میں زیر علا ج ہیں جن میں سے آئسو لیشن ہسپتال مظفرآبادمیں 12،آئسولیشن سینٹر نیوپی ایم ہاوس مظفرآباد11،ڈی ایچ کیو نیلم میں 2،ڈی ایچ کیو جہلم ویلی 1،سی ایم ایچ راولاکوٹ میں 5، ڈی ایچ کیو باغ میں 03،حویلی میں 03،ڈی ایچ کیو سدھنوتی میں 10،ڈی ایچ کیو میرپور میں 36، نیو سٹی ہسپتال میرپور01، ڈی ایچ کیو بھمبر میں 22، ڈی ایچ کیو کوٹلی میں 07مریض زیر علاج ہیں۔رپورٹ کے مطابق13681افراد میں کرونا وائرس کی موجودگی نہیں پائی گئی اور52افراد کے ٹیسٹ کے رزلٹ آنا باقی ہیں۔نئے افراد کے کرونا کے ممکنہ کیسز کے حوالہ سے لیے گے ٹیسٹ کی رپورٹ ایک دو روز میں آجائے گی۔