سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ، کاروبار کھل گئے، ٹرانسپورٹ کا فیصلہ تین جون کو ہوگا

پاکستان کے زیر انتظام جموں کی حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کرتے ہوئے احتیاطی تدابیرکے ساتھ کاروبار کھولنے کی اجازت کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے. تاہم ٹرانسپورٹ کے حوالے سے بدھ کے روز ایس او پیز جاری کی جائیں گی.

نوٹیفکیشن کے مطابق تعلیمی ادارے، عوامی اجتماعات،کھیل کے میدان، شادی ہالز،بیوٹی پارلرز بند رہیں گے،پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں سیاحوں پر پابندی بدستور برقرار رہے گی۔ 12 سال سے کم اور ساٹھ سال سے زائد افراد کے بازاروں میں آنے پابندی ہوگی،تاجروں پر محکمہ صحت کی ایس او پی فالو نہ کرنے کی صورت میں پانچ سے 15 ہزار کا جرمانہ ہو گا،درمیانی درجے کے ہوٹلوں کو خلاف ورزی کی صورت میں 15 ہزار اور بڑے ہوٹلوں کو ایک لاکھ تک جرمانہ ہو گا، مساجد،امام بارگاہوں میں ایس او پی تحت عبادت کی اجازت ہو گی، خریدار کیلئے ماسک نہ پہننے پر صورت میں تاجر کوئی بھی چیز فروخت نہیں کرے گا،دکانداروں کو خلاف ورزی کی صورت میں پانچ سے پندرہ ہزار جرمانہ ہوگا.

کاروبار فجر سے شام اذان نماز مغرب تک کھلے رکھے جا سکیں۔بیکریز،سبزی و فروٹ ،دودھ ،دہی گوشت ،مرغی وغیرہ کی شاپس رات آٹھ تک کھلی رکھی جا سکیں گی۔ حفاظتی اقدامات کے حوالے سے جاری شدہ ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانا ہو گا۔ ریسٹورنٹس کے اندر بیٹھ کر کھانا کھانے پر پابندی ہو گی۔

بنک،پرائیویٹ ادارے کم سے کم سٹاف سے کیساتھ کام کریں گے اور سٹاف ،کسٹمرز کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ یقینی بنائیں گے۔ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر مجسٹریٹ موقع پر کاروبار سیل کرنے،جرمانے کرنے کے مجاز ہوں گے۔ گھر سے باہر نکلنے والے شخص کو ماسک لازمی پہننا ہوگا خلاف ورزی پر پانچ سو روپے جرمانہ ہوگا۔

سمارٹ لاک ڈاﺅن کے دوران ہوٹل اور ریستوران کو ٹیک اوے کی طرز پر پیک شدہ پارسل کھانے فروخت کرنے کی اجازت ہو گی اس مقصد کےلئے ہوٹلوں کے باورچی خانے اذان فجر سے رات 8بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی اور خلاف ورزی کی صورت میں عام معیار کے ہوٹل یا ریستوران کو پانچ ہزار روپے جبکہ برینڈ ہوٹل یا ریستوران کو 1لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا ہے اس کو سات دن تک سیل کیا جائے گا۔ ہر جمعہ اور منگل کو لاک ڈاﺅن ہوگا تاہم بیکریز ، سبزی فروٹ، دودھ دہی ،گوشت ، والی دوکانیں اور تندور شاپس اس دوران کھلے رہیں گے اور ایس او پی کی خلاف ورزی کی صورت میں عام دوکاندار کو پانچ ہزار جبکہ برانڈ کی دوکانوں کو پندرہ ہزار رپے جرمانہ ہو گا اور سات دن تک سیل کی جائیں گے ۔

انہوں نے تجارتی کمپنیوں ، بینکوں اور پرائیوریٹ اداروں وغیرہ کے دفاتر میں اجازت والے دونوں میں سٹاف کی تعداد کو کم سے کم رکھاجائے گا اور دفاتر میں کم سے کم چھ فٹ کا فاصلہ ضروری ہوگا ۔ اجازت والے دنوں میں تمام دوکانوں اور کاروباری مراکز کے احاطوں میں کم از کم چھ فٹ کا فاصلہ رکھنا لازم ہوگا ۔ کاروباری مراکز، بینکوں اور اداروں میں حکومتی احکامات پر عملدرآمد کی ذمہ داری متعلقہ دوکاندار ، مالک یاادارے کے منتظم پر ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ بلا مقصد گھروں سے نکلنے پر پانچ سو روپے جرمانہ ہوگا اور شناختی کارڈ رساتھ رکھنا بھی لازم ہو گا اس کی خلاف ورزی پر بھی پانچ سو روپے جرمانہ ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ دوکانیں کھولنے سے قبل دوکانداروں کو حفاظتی تدابیر کا موقع پر اطمینان بخش انتظام و انصرام کرنا لازم ہوگا ۔

خریدار کے ماسک نہ پہننے کی صور ت سامان فروخت کرنے پر بھی عام دوکاندارکوپانچ ہزار جبکہ برینڈ دوکانوں پر پندرہ ہزار روپے جرمانہ عائد ہو گا۔بیوٹی پارلرز پر پابندی بدستور برقرار رہے گی۔

دوسری جانب منگل کے روز پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں‌ دس کرونا کے نئے کیس سامنے آئے جن میں سے چار کا تعلق میرپور، چار کا راولاکوٹ جبکہ ایک کا کوٹلی اور ایک کا بھمبر سے ہے ۔ گزشتہ روز مظفرآباد میں بھی تین افراد میں کرونا کی تصدیق ہوئی، کل کیسزکی تعداد277ہو گئی ہے ۔

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں اب تک 7008افراد کے کرونا کے شبہ میں ٹیسٹ لیے گئے جن میں سے 277افراد میں کرونا وائرس کی موجودگی پائی گئی ہے اور ان میں سے170صحت یاب ہو کر گھروں کو چلے گئے ہیں ۔ سات افراد کی موت ہوئی ہے جن میں سے 5کا تعلق مظفرآباد جبکہ دو کا میرپور سے ہے ۔

بدھ کے روز ہی ٹرانسپورٹ کھولنے کےلئے ایس او پیز جاری کرنے کے علاوہ وزیراعظم کی زیر صدارت اہم اجلاس بھی منعقد کیا جائے گا جس میں‌ مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے اہم فیصلہ جات کئے جائیں‌گے.

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: