پونچھ میں‌تین روزہ آپریشن: 13 عسکریت پسند مارے گئے، تعلق جیش محمد سےہے، بھارتی میڈیا

بھارتی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں‌بھارتی فوج نے پیر کے روز مینڈھر پونچھ خطے میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ 13 مبینہ عسکریت پسندوں‌کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔

خبر رساں ادارے ساوتھ ایشین وائر کے مطابق فوج کے عہدیداروں نے بتایا کہ پیر کی صبح راجوری ضلع کے نوشہرہ سیکٹر میں بھاری ہتھیاروں سے لیس تین افراد کوہلاک کر دیا گیا۔ فوج کے مطابق جموں ڈویژن میں لائن آف کنٹرول کے کنارے مینڈھر میں فوج کے دستوں کے ساتھ مقابلے میں 10 مزید عسکریت پسند مارےگئے۔

فوج کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ آپریشن ، جو 28 مئی کو شروع ہوا تھا ، ہندوستانی فوج کے دستوں نے مینڈھر سیکٹر میں کنٹرول لائن کے ساتھ اب تک تیرہ افراد کو ہلاک کیا ہے۔ افسر نے بتایا کہ ضلع پونچھ کے دیہاتوں میں تلاشی جاری ہے۔

بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر کی پولیس نے پیر کے روز کشمیر کے ضلع بڈگام میں جیش محمد کے ہائیڈ آوٹ کو اڑانے کا دعوی کیا ہے اور کہا ہے کہ اسلحہ اور گولہ بارود کے علاوہ 1 کلو ہیروئن بھی برآمد کی گئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مدثر فیاض ،صغیر احمد پسوال، شوپیاں کے اسحاق بھٹ،اور شوپیان کے ارشد ٹھوکرسمیت جیش محمد کے چھ ارکان کو بھی گرفتار کیا گیا۔

پولیس نے بتایا کہ یہاں سے منشیات کی تجارت ، اسلحہ کی فراہمی اور جی ایم کے متحرک عسکریت پسندوں کو رقم فراہم کی جارہی تھی۔

ساوتھ ایشین وائر کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے اکہال علاقے میں پیر کو سکیورٹی فورسز نے تلاشی کارروائی کے دوران عسکریت پسندوں کی خفیہ پناہ گاہ تباہ کی۔

اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز کو علاقے میں عسکریت پسندوں کی کمین گاہ کی اطلاع موصول ہوئی تھی جس کے بعد 18 بٹالین سی آر پی ایف اور پولیس کی مشترکہ پارٹی نے علاقے کا محاصرہ کیا اور تلاشی کاروائی عمل میں لائی۔

ضلع راجوری میں 2000سے اب تک117مختلف واقعات میں 196افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔جبکہ902واقعات میں 1078عسکریت پسنداور 414 شہری ہلاک کئے گئے ۔ضلع میں اسی عرصے میں 258سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی مارے گئے۔اسی عرصہ میں ضلع میں میں3خود کش حملوں میں 3سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔جبکہ 5عسکریت پسند شہید ہوئے۔

دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل پولیس راجندراکمار نے دعویٰ‌کیا ہے کہ مذکورہ عسکریت پسند عید سے چند دن قبل دراندازی کر کے داخل ہوئے تھے، اور ان کا مقصد عید کے موقع پر فرقہ وارانہ تصادم کروانا تھا. جسے ناکام بنا دیا گیا ہے.

تاہم پاکستان کی جانب سے اس معاملہ پر تاحال کوئی رد عمل ظاہر نہیں‌کیا گیا ہے.

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: