میرپور اور کوٹلی: پولیس حراست میں‌02 ملزمان کی مبینہ خود کشی……!

پاکستان کے زیرانتظام جموں‌کشمیر کے دو اضلاع میرپور اور کوٹلی میں‌پولیس حراست کے دوران دو ملزمان کی موت واقع ہو گئی ہے. پولیس کے مطابق دونوں‌ملزمان نے خودکشی کی ہے، تاہم دونوں‌ملزمان کے ورثاء نے پولیس پر قتل کا الزام عائد کیا ہے.

ستائیس مئی کو میرپور تھانہ سٹی کے حوالات میں‌ تہرے قتل کے الزام میں‌زیر حراست محمد رضوان ولد محمد اشرف قوم جٹ ساکن برنالہ بھمبر مردہ پایا گیا. پولیس کے مطابق دو خواتین اور ایک معصوم بچے کے قتل میں‌ملوث تینوں‌ملزمان کو الگ الگ حوالات میں‌رکھا گیا تھا اور تینوں‌ملزمان کو خطرناک کیس میں‌ملوث ہونے کے باعث ہتھکڑی لگا کر حوالات میں‌رکھا گیا تھا. جبکہ ملزم محمد رضوان نے ستائیس مئی کو سہ پہر پونے چار بجے کے قریب ہتھکڑی سے ہی خود کو پھندا لگا کر خودکشی کر لی ہے.

پولیس کی جانب سے جاری کی گئی سرکاری پریس ریلیز میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملزم کی حوالات میں ہلاکت کی بابت انکوائری کےلئے ڈپٹی کمشنر نے اسسٹنٹ کمشنر کی ابتدائی رپورٹ کی روشنی میں‌ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں‌انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے. جبکہ ایس ایچ او سٹی تھانہ، محرر اور ڈیوٹی پر مامور کنسٹیبل کو معطل کرتے ہوئے ڈی ایس پی چوہدری عنصر کو انکوائری آفیسر مقرر کر دیا گیا ہے. واضح رہے کہ مذکورہ کیس کی تفتیش کی سربراہی بھی ڈی ایس پی چوہدری عنصر ہی کر رہے تھے.

دوسری جانب ملزم کے ورثاء نے پولیس پرقتل کا الزام عائدکرتے ہوئے میرپور میں‌احتجاج کیا ہے اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کی دوران حراست پولیس تشدد سے ہلاکت کے ذمہ داران کا تعین کرتے ہوئے انہیں‌قرار واقعی سزائیں دی جائیں.

ستائیس مئی کو ہی کوٹلی کی ڈسٹرکٹ جیل میں‌ جوڈیشل ریمانڈ پر زیر حراست خیبر پختوانخوا کے رہائشی ملزم زاہد خان کی نعش جیل کے باتھ روم میں‌لٹکی ہوئی ملی. پولیس نے مذکورہ ہلاکت کو بھی خود کشی ہی قرار دیا اور پوسٹ مارٹم کی کارروائی مکمل کر کے نعش خیبر پختونخوا روانہ کر دی گئی .

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم زاہد خان ساکن ضلع باجوڑ واڑہ ماموند بیلوٹ کے پی کے کو ضلع سدھنوتی کی پولیس نے کار چوری کے الزام میں‌گرفتار کیاتھا. بعد ازاں اسے کوٹلی منتقل کر دیا گیا تھا. جس کے بعد اسے مقامی عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر ڈسٹرکٹ جیل بھیج دیا تھا. مذکورہ ملزم کے حوالے سے پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نے کوٹلی تھانہ میں‌بھی خود کشی کی کوشش کی تھی، جس کے بعد وہ زیر علاج بھی رہا اور جیل میں‌بھی اسے خصوصی نگرانی میں‌رکھا گیا تھا، لیکن اس نے باتھ روم میں‌ اپنی ہی شلوار سے آزار بند نکال کر اس کے ساتھ پھندہ بنایا اور خودکشی کر لی.

آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم زاہد خان کو پشتو کے علاوہ کوئی زبان نہ آنے کی وجہ سے دوران تفتیش بری طرح‌تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا، جس کی وجہ سے تنگ آکر اس نے خودکشی کی کوشش کی، جس کے بعد ہسپتال داخل کروایا گیا. پولیس تشدد کی وجہ سے اسکو گہری چوٹیں آئی تھیں. یہی وجہ تھی کے عدالت نے اسے خصوصی نگرانی میں‌جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجا تھا. اب اسکی نعش باتھ روم سے لٹکی ہوئی ملی ہے.

تاہم نوجوان صحافی نعیم چغتائی کا کہنا ہے کہ ملزم کو منشیات فروشی کے الزام میں‌گرفتار کیا گیا تھا، اور اور ایسی اطلاعات بھی ہیں‌کہ وہ کسی منشیات اور گاڑیوں‌کی سمگلنگ کے نیٹ ورک کا حصہ تھا جس کی وجہ سے اس کو ایک منصوبہ کے تحت قتل کیا گیا ہے. جبکہ انکا یہ بھی کہنا ہے کہ میرپور میں‌بھی دوران حراست ملزم کی ہلاکت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا قتل ہے.حوالات میں‌ ہتھکڑی لگا کر ملزم کو رکھنے کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں سنی، اور حوالات کی سلاخوں‌کے ساتھ خود ہی اپنے جسم کو کھینچ کر خودکشی کی بھی ایسی تاریخ کی واحد مثال ہی ہوگی. انہوں‌نے مطالبہ کیا کہ اعلیٰ حکام کو فوری طور پر اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کرنا چاہیے جو اصل حقائق سامنے لے آئے.

ملزم زاہد خان کے ورثاء نے اسے جوڈیشل مرڈر قرار دیا ہے، جبکہ کے پی کے سے تعلق رکھنے والے صحافیوں‌نے بھی اسے قتل قرار دیتے ہوئے فوری انکوائری کرنے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے.

جوڈیشل میں ایک غیر ریاستی ملزم کی دوران حراست ہلاکت کی انکوائری کےلئے انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے.

ڈپٹی کمشنر کوٹلی اور ایس پی کوٹلی سے بارہا رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن رابطہ نہ ہو سکا.

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: