طلبہ کے بغیر نجی تعلیمی ادارے کھولنے کی اجازت، طلبہ و والدین بدستور آزمائش میں مبتلا

پاکستان کے زیر انتظام جموں‌کشمیر میں‌قائم نجی تعلیمی اداروں‌کو کورونا ہیلتھ ایمرجنسی کے دوران طویل مدت کےلئے بند کیا گیا ہے لیکن تعلیمی اداروں‌ کو فیسیں‌وصول کرنے میں‌دشواری کے پیش نظر حکومت نے ذمہ داران کی اداروں‌میں‌حاضری اور ادارے کھولنے کی اجازت دے دی ہے.

محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نجی تعلیمی اداروں‌میں‌زیادہ سے زیادہ دو افراد حاضر ہو سکتے ہیں، کسی طالب علم کو ادارہ میں‌طلب کرنے پر پابندی ہوگی، لیکن حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد کرتے ہوئے ایک وقت میں‌دو افراد تعلیمی ادارہ میں جا سکتے ہیں اور تعلیمی اداروں‌کو کھلا رکھا جا سکتا ہے.

ایس او پیز کی خلاف ورزی پر رجسٹریشن کی منسوخی سمیت جرمانہ کیا جا سکتا ہے.

تاہم حکومت نے نجی تعلیمی اداروں میں‌ملازمت کرنے والے معلمین اور دیگرسٹاف کی تنخواہوں کی ادائیگی اور زیر تعلیم طلباء‌و طالبات کی فیسوں سے متعلق کسی قسم کی کوئی ہدایات تاحال جاری نہیں‌کی ہیں.

نجی تعلیمی اداروں‌کے مالکان کا موقف ہے کہ انہیں‌فیسیں موصول نہیں‌ہو رہی ہیں، عمارات کے کرایہ جات معاف نہیں‌کئے گئے ہیں، جس کی وجہ سے وہ کرایہ جات کی ادائیگی سمیت تنخواہوں‌کی ادائیگی کرنے کے قابل نہیں‌ہیں.

تاہم دوسری طرف والدین کا کہنا ہے کہ ان سے فیسیں وصول کی جا رہی ہیں. چالان فارم گھروں‌میں بھیجے گئے ہیں، جبکہ مختلف اوقات میں تعلیمی اداروں‌میں والدین کو طلب کر کے فیس چالان فارم انہیں‌دیئے گئے ہیں. اس کے علاوہ سلیبس بھی تیار کر کے فوٹو کاپیوں‌کی دکانوں‌کے ذریعے والدین سے اضافی رقوم وصول کر کے انہیں‌فراہم کیا جا رہا ہے.

بعض‌تعلیمی اداروں‌نے آن لائن کلاسز کا سلسلہ شروع کرنے کی بھی کوشش کی، جس کے تحت طلبہ اور والدین کو ایک نئی اذیت میں‌مبتلا کیا گیا ہے. مختلف کلاسز کے واٹس ایپ گروپ بنا کر ان میں‌آڈیو لیکچرز بھیجے جاتے ہیں. والدین بچوں‌ کو مہنگے فون اور انٹرنیٹ کی مہنگی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش میں‌مزید اخراجات کرنے پر مجبور ہیں. جبکہ دونوں‌طرح کے تدریسی عمل میں‌صرف اور صرف وہی والدین اپنے بچوں‌کی تعلیم جاری رکھ پاتے ہیں‌جو خود پڑھے لکھے ہیں. والدین کی ایک بڑی اکثریت کو بچوں کی تعلیم جاری رکھوانے کےلئے انہیں‌ٹیوشن لگوا کر دینا پڑ رہا ہے.

والدین نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ انہیں دہرے اور تہرے اخراجات سے بچانے کےلئے ہنگامی بنیادوں‌پر اقدامات کئے جائیں، تعلیمی سال کو منجمد کیا جائے، سمسٹرز بھی منجمد کئے جائیں اور ہر طرح‌کی فیسیں‌معاف کی جائیں. وبائی صورتحال پر کنٹرول کے بعد رواں‌تعلیمی سال کو از سر نو شروع کیا جائے تاکہ والدین کو اضافی اخراجات کے بوجھ سے بچایا جا سکے.