آزاد پتن: دریائے جہلم میں‌چھلانگ لگانیوالے سکیورٹی گارڈ کی نعش تاحال نہ مل سکی

آزاد پتن پل سے دریائے جہلم میں‌چھلانگ لگا کر خودکشی کرنیوالے جامعہ پونچھ کے سکیورٹی گارڈ کی نعش تاحال نہیں‌مل سکی ہے. محمد شارف ولد محمد کمال خان مرحوم پاک فوج کے ریٹائرڈ اہلکار تھا، جو موجودہ وقت جامعہ پونچھ میں‌سکیورٹی گارڈ کے فرائض سرانجام دے رہا تھا.محمد کمال خان کی عمرتقریباََ پچپن سال تھی اور وہ پاکستان کے زیر انتظام جموں‌کشمیر کے ڈویژنل صدر مقام راولاکوٹ کے نواحی گاؤں‌کہنہ پڑاٹ کا رہائشی تھا.

پولیس ذرائع کے مطابق کمال خان نے جمعہ کی شام سات بجے کے قریب آزاد پتن کے پل سے دریائے جہلم میں‌چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی تھی، پولیس اہلکاران کے مطابق وہ روزہ افطار کرنے کےلئے بیٹھے تھے کہ ایک شخص پل پرسے پیدل گزرتے دیکھا، چند ہی لمحوں‌میں‌ایک کار آکر رکی جس کے سوار نے اطلاع دی کہ ایک شخص پل پر کھڑا قمیض اتار رہا ہے، پولیس اہلکار فوری اسکی طرف دوڑے لیکن وہ پولیس کے پہنچنے سے پہلے دریا میں‌کود چکا تھا.پولیس نے مذکورہ شخص کی قمیض سے اسکا موبائل فون لیا اور آخری ڈائل کردہ نمبر پر فون کیا جو اسکے گھر کا نمبر تھا، پولیس نے انہیں‌مذکورہ اطلاع دیدی.

شارف کمال کے ایک قریبی رشتہ دار محمد امتیاز کا مجادلہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ خودکشی کی کوئی وجہ ابھی تک گھر والوں‌کو سمجھ نہیں‌آرہی ہے، شارف انتہائی ہنس مکھ اور خوش مزاج شخصیت کا مالک تھا، اسکے پسماندگان میں‌بیوہ کے علاوہ ایک بیٹی اور بیٹا شامل ہیں جن کی عمریں‌دس سال سے کم ہیں.

امتیاز کا کہنا ہے کہ تمام گھر والے انتہائی صدمے میں‌ہیں، کسی کو یقین نہیں‌آرہا کہ شارف نے یہ سنگین اقدام کیوں اٹھایا، کیونکہ اسے کسی مسئلے کا سامنا نہیں‌تھا، معقول آمدن تھی، چھوٹا کنبہ تھا، گھر تعمیر شدہ تھا، گھر والوں‌کے ساتھ مثالی تعلقات تھے. اس لئے ابھی تک بظاہر کوئی وجہ سمجھ نہیں‌آرہی کہ جو اسکی خودکشی کا باعث بنی ہو. امتیاز کے مطابق شارف گھر سے بجلی کا بل جمع کروانے کی غرض‌سے شہر گیا، شام چار بجے کے قریب اس نے گھر پر فون کر کے یہ اطلاع دی کہ افطاری وہ شہر میں ہی کرے گا. تاہم بلدیہ اڈہ پر چار سے پانچ بجے کے درمیان اسے دیکھا گیا تھا.

پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش اور ذاتی ٹرانسپورٹ سہولت نہ ہونے کے باوجود شارف کمال کے آزاد پتن تک پہنچنے سے متعلق سوال کے جواب میں‌امتیاز کا کہنا تھا کہ خاندان والوں‌کی اطلاع کے مطابق کسی نجی گاڑی میں‌وہ آزاد پتن تک گیا ہے، اس سے زیادہ کوئی معلومات ہمارے پاس نہیں‌ہے.

امتیاز کا کہنا تھا کہ دریا میں‌طغیانی کے باعث نعش کی تلاش کےلئے غوطہ خوروں‌کو بلوانا بے سود عمل تھا، اس لئے ہم نے کوئی کوشش نہیں‌کی. تاہم امید ہے کہ ہولاڑ ڈیم کے مقام سے نعش مل جائے، اس لئے خاندان کے چند افراد ہولاڑ میں‌موجود ہیں، تاہم انکا کہنا تھا کہ نعش کے ڈیم تک پہنچنے میں‌وقت لگ سکتا ہے، لیکن ہمارے پاس انتظار کے علاوہ کوئی چارہ نہیں‌ہے.

شارف کمال کی خودکشی کی خبر سوشل میڈیاپر بھی کافی وائرل ہو رہی ہے، جامعہ پونچھ کے طلباء و طالبات نے شارف کمال کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے شارف کے اہلخانہ کےلئے دعا کی ہے. اور یونیورسٹی میں شارف کے ساتھ گزرے اچھے لمحات کا ذکر بھی طلباء و طالبات سوشل میڈیا پر کر رہے ہیں. طلبہ کا بھی یہی کہنا ہے کہ شارف کمال ایک ہنس مکھ اور زندہ دل شخصیت کا مالک تھا، انہیں یہ معلوم نہیں‌تھا کہ اس نے اپنے ہنستے چہرے کے پیچھے کتنے دکھ اور درد چھپارکھے ہیں.

دریائے جہلم خودکشی کا مرکز بنتا جا رہا ہے
پاکستان کے زیر انتظام جموں‌کشمیر کے پونچھ ڈویژن کو پاکستان سے ملانے والا آزاد پتن کا مقام اور بالخصوص دریائے جہلم پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں‌خود کشی کا مرکز بن چکا ہے، گزشتہ چند سالوں‌سے دریائے جہلم میں‌چھلانگ لگا کر خودکشی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے. بالخصوص آزاد پتن پل سے دریا میں‌چھلانگ لگانے کے رجحان میں‌اضافہ دیکھنے میں‌آیا ہے.

پہاڑی اور دشوار گزار علاقے سے گزرنے والے دریائے جہلم میں‌گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی شدید طغیانی ہوتی ہے، جبکہ پانی کی سطح کے نیچے سنگلاخ چٹانیں، کھائیاں‌اورچٹانوں کے درمیان غاریں‌موجود ہیں، جن کی وجہ سے جگہ جگہ بنور بنتے رہتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ دریا میں‌ڈوبنے والے انسانوں، گاڑیوں اور دیگر اشیاء کی تلاش بالخصوص گرمیوں‌کے ایام میں‌ تقریباََ ناممکن ہو کر رہ جاتی ہے.

تاہم آزاد پتن پل سمیت دیگر ایسے پلوں‌پر سے چھلانگ لگانے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو جنگلے لگا کر روکنے کی بھی ضرورت ہے. گو کہ چند پلوں‌پر حفاظتی اقدامات کے ذریعے سے اس رجحان پر مکمل طور پر قابو نہیں‌پایا جا سکتا. کیونکہ سماجی اور معاشی مسائل ذہنی تناؤ کے رجحانات کا باعث بنتے ہیں. ان مسائل میں‌ہونے والا مسلسل اضافہ لوگوں کو خودکشی جیسے انتہائی اقدامات کے ذریعے زندگی کا خاتمہ کرنے پرمجبور کر رہا ہے.اس لئے مسائل کے خاتمہ کے بغیر خودکشی کے رجحانات کو روکنا ممکن نہیں‌ہے لیکن حفاظتی اقدامات کے ذریعے اسے رجحان کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے.