بھارتی کشمیر:‌حزب کمانڈر کی ہلاکت کیخلاف پرتشدد مظاہرے،مزید ایک جان چلی گئی

بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کے جنوبی ضلع پلوامہ میں گزشتہ روز حزب المجاہدین کے چیف آپریشنز کمانڈر ریاض نائکو کی ہلاکت کے بعد ہونے والے پرتشدد مظاہروں‌میں‌مزید ایک جان چلی گئی ہے۔

جمعرات کی صبح مقامی لوگوں نے مظاہروں کی کوشش کی لیکن انہیں منتشر کردیا گیا۔

خبررساں ادارے ساوتھ ایشین وائر کے مطابق گزشتہ روز نائکو اور ان کے ساتھی کی شہادت کے بعد بڑے پیمانے پر تشدد بھڑک اٹھا۔ مظاہرین کی تعداد سینکڑوں بیں تھی جنہیں منتشر کرنے کیلئے پولیس اور سکیورٹی فورسز نے پیلٹ فائر کئے اور گولیاں چلائیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق فائرنگ میں کم از کم ایک شخص جہانگیر یوسف وانی ولد محمد یوسف ساکن اٹھمولہ ہال کی موت واقع ہوئی ہے۔بتیس سالہ جہانگیر کی گردن میں گولی لگی تھی اور وہ موقعے پر ہی دم توڑگیا۔

مظاہرین نے اس کی لاش اپنی تحویل میں لیکر بعد میں اسے آبائی قبرستان میں دفن کیا۔جہانگیر کے لواحقین میں اس کے دو بچے اور بیوی شامل ہے۔

ادھر خبر رساں ادارے کے مطابق حزب المجاہدین کے آپریشنل کمانڈر ، ریاض نائیکو ،اور ان کے ساتھی کوبدھ کے روز بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ایک انکاونٹر میں شہید کردیاگیا ، حکام نے کہا ہے کہ ان کی لاشوں کو ان کے گھر والوں کے حوالے نہیں کیا جاسکتا تاہم نامعلوم مقام پر ان کی تدفین کی جائے گی ۔

نائیکو بدھ کے روز کشمیر کے پلوامہ ضلع میں واقع ان کے رہائشی گاؤں میں حفاظتی دستوں کے ساتھ مقابلے میں مارے گئے تھے۔ جبکہ ان کے ساتھ تحریک حریت کشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی کے بیٹے جنید صحرائی اور ایک اور عسکریت پسند محمد عادل احمدکو بھی ہلاک کردیا گیا۔جس کے بعد کشمیر میں حفاظتی اقدامات انتہائی سخت کر دئے گئے ہیں۔ریاض نائکو اپنے چچا کے گھر مقیم تھے۔ جسے بھارتی فورسز نے دھماکے سے اڑا دیا۔

ریاض نائیکو کون تھے؟
ریاض نائیکو پلوامہ ضلع کی تحصیل اونتی پورہ کے بیگ پورہ گاوں میں اپریل 1985 میں پیدا ہوئے ، نائیکو 6 جون 2012کو حزب المجاہدین میں شامل ہوئے تھے۔

8 جولائی 2016 کوضلع اننت ناگ کے نواحی علاقے میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں جماعت اسلامی کی مسلح تنظیم حزب المجاہدین کے پوسٹر بوائے اور کمانڈر برہان وانی کے مارے جانے کے بعد ریاض نائیکو نے حزب المجاہدین کے کمانڈر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق نائکو کے سر پر 12 لاکھ روپے کا انعام ہے۔

عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہونے سے پہلے نائکو مقامی اسکول میں استاد تھے۔ وہ 33 سال کی عمر میں بندوق اٹھانے سے پہلے پینٹنگ کے شوقین تھے۔

خبر رساں ادارے القمرآن لائن کے مطابق سکیورٹی فورسز نے نائکو کو حزب المجاہدین کے گروپ بندی ہونے کے بعد حزب کو متحد رکھنے کا ذمہ دار قرار دیا۔ جب ذاکر موسی حزب اختلاف کی صفوں سے الگ ہو گئے اور اپنا الگ گروپ تشکیل دیا۔موسی نے 2017 میں حزب المجاہدین سے علیحدگی اختیار کرلی اور اس نے انصار غزوہ الہند کے نام سے اپنا ایک گروپ تشکیل دیا جس نے دعوی کیا تھا کہ وہ القاعدہ کا بھارت میں نمائندہ ہے۔

موسی 23 مئی 2019 کو سکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے میں تحصیل ترال کے ڈاڈسر علاقے میں مارے گئے تھے۔

دس دن میں‌29 کشمیریوں‌کی ہلاکتیں
وادی کشمیر میں ماہ صیام کا پہلا عشرہ یعنی پہلے دس دن انتہائی خونین ثابت ہوئے، جس دوران حریت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان معرکہ آرائیوں اور دیگر مسلح تشدد کی وارداتوں میں کم از کم 29 اموات ہوئیں جن میں 18 عسکریت پسند، 2 عسکریت پسندوں کے مبینہ ساتھی و حمایتی، تین افسروں سمیت 8 سیکورٹی فورسز اہلکار اور ایک 14 سالہ جسمانی طور پر معذور طالب علم بھی شامل ہیں۔

ساوتھ ایشین وائرکے مطابق اسی عرصے کے دوران شمال سے جنوب تک ہونے والے پراسرار دھماکوں اور گرینیڈ حملوں میں کم از کم دو درجن افراد بشمول عام شہری و سیکورٹی فورسز اہلکار زخمی ہوئے۔

وادی کے اندرعسکریت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں اور دیگر مسلح کارروائیوں کا سلسلہ تیز ہے۔

دوسری طرف لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر بھی ہندوستان اور پاکستان کی افواج کے درمیان ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی تواتر کے ساتھ جاری ہے جس کے نتیجے میں حالیہ دنوں کے دوران کئی افراد زخمی ہوئے اور املاک کو بھی نقصان پہنچا۔