بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کے شمالی علاقہ ہندوارہ میں پیر کے روز عسکریت پسندوں اور حفاظتی اہلکاروں کے درمیان تصادم میں جسمانی و دماغی طور معذورایک نوجوان حازم ماراگیا تھا جسے منگل کی صبح اسکے لواحقین کی موجودگی اور لاک ڈائون پروٹوکول کی وجہ سے انکے آبائی علاقے کے بجائے شیری بارہمولہ میں دفنایا گیا۔
خبر رساں ادارے ساوتھ ایشین وائر کے مطابق کوروناوائرس کے پیش نظر عوام کو ایک جگہ جمع ہونے سے روکنے کے لیے تصادم کے دوران مارے جانے والے مقامی عسکریت پسندوں کی نعشوں کو آبائی علاقوں میں بھیجنے کے بجائے انہیں اکثر و بیشتر شیری بارہمولہ میں دفنایا جاتا ہے۔
جسمانی و دماغی طور ناخیز حازم کی آخری رسومات منگل کی صبح انجام دی گئیں۔حاظم احمد بٹ تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اور ساتویں جماعت میں زیر تعلیم تھا ۔ اپنے واحد لخت جگر کی جدائی میں پورا کنبہ خون کے آنسو میں ڈوبا ہوا ہے ۔
افراد خانہ کا کہنا ہے کہ ہماری صرف اور صر ف یہ تمنا ہے کہ ہمیں اپنے بیٹے کی نعش واپس دی جائے ۔ تاکہ وہ اس کو اپنے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کرسکیں ۔ حاظم کی ماں کا رو رو کر برا حال ہے اور اس کے آنسو نہیں رک رہے ہیں ۔ گھر میں ہر طرف چیخ وپکار کا عالم ہے ۔ دیگر ہمسایہ اور رشتہ دار بھی اس کی لاش کا مطالبہ کررہے ہیں ۔
پولیس کے ایک سینئر افسر نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ کپوارہ ضلع کے کھی پورہ، لنگیٹ کا رہنے والا حازم شفیع بٹ ہندوارہ کے وہنگام علاقے میں ہوئے تصادم کے دوران مارا گیا تھا۔ جنازے میں اہل خانہ بھی موجود تھے اور انکی موجودگی میں ہی کووڈ19 کی جانچ کے لیے حازم کا نمونہ لیا گیا۔انہوں نے دعوی کیا کہ ہم نے اس کے اہل خانہ کو خبر کی تھی اور ان کی رضا مندی کے بعد ہی یہ فیصلہ لیا گیا۔
حازم کے رشتہ داروں نے اس کے جنازے کے حوالے سے کوئی بھی ردعمل ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔حازم کے چچا زاد بھائی عادل کا کہنا تھا کہ یہ صحیح وقت نہیں ہے ان سب باتوں کے لئے- وقت آنے پر میں اس سلسلے میں بات کریں گے۔حادثے کو یاد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب گولیاں چلیں تب ہم اپنی زمین میں کام کر رہے تھے – گولیوں کی آواز سے سنتے ہی ہم بھاگ گئے کچھ دور پہنچ کر خیال آیا کہ حازم پیچھے رہ گیا ہے، جب واپس اس کو ڈھونڈنے گئے تو وہ وہاں نہیں تھا، بعد ازاں اسکی لاش ملی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حازم ٹھیک طریقے سے چل بھی نہیں سکتا تھا اور نہ ہی بات کر پاتا تھا۔ اس کی دو چھوٹی بہنیں بھی ہیں۔
پیر کی شام ہندوارہ میں سی آر پی ایف کی گشتی پارٹی پر عسکریت پسندوں نے حملہ کیا جس میں تین اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ عسکریت پسندوں کے خلاف جوابی کاروائی کی گئی تاہم عسکریت پسند جائے واردات سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔












Your article helped me a lot, is there any more related content? Thanks! https://accounts.binance.com/id/register-person?ref=UM6SMJM3