صحافت کو مکمل آزاد کئےبغیر ترقی یافتہ معاشرے کا قیام ممکن نہیں، توقیر گیلانی

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پاکستانی زیر انتظام کشمیرو گلگت بلتستان زون کے صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی نے کہا ہے کہ موجودہ عہد میں صحافت کو مکمل آزاد اور غیر جانبدار کیے بغیر ایک ترقی یافتہ، آزاد، کرپشن سے پاک اور عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کا قیام کسی صورت ممکن نہیں۔

آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر امریکی ریاست نیویارک سے جاری کئے گئے اپنے بیان میں ڈاکٹر توقیر گیلانی نے کہا کہ جدید فلاحی ریاست کو اپنے مضبوط چوتھے ستون کیلئے ایک فعال، چوکس ، حکومتوں اور سرمایہ داروں کی مداخلت اور سنسرشپ سے پاک اور غیر جانبدار میڈیا کی ضرورت ہے جس کیلئے موثر قانون سازی ہونا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی دنیا کے تقریباً تمام ممالک بالخصوص آمرانہ طرز حکومت رکھنے والی سیکورٹی سٹیٹس اور نوآبادیاتی طرز عمل کی حامل قابض ریاستیں ذرائع ابلاغ کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں رکھے ہوئے ہیں اور ذرائع ابلاغ کو ہی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے اپنے غیر جمہوری اور غیر انسانی ایجنڈے کو آگے بڑھاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ہاؤسز کی اکثریت بڑے سرمایہ داروں ، تاجروں اور سیاستدانوں کی ذاتی ملکیت ہے اور وہ ذرائع ابلاغ کم اور مالکان کے ذرائع آمدنی زیادہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا مالکان کی مداخلت اور منافع کمانے کی ہوس ان اداروں میں موجود صحافیوں کے لیے آزادانہ طور پر اور محفوظ ماحول میں کام کرنے کا حق چھین لیتی ہے اور حکومتوں کا جبر ماحول کو مزید غیر محفوظ اور کرپٹ بنا دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا کے بے شمار ممالک بالخصوص کنفلکٹ زونز میں صحافت اور صحافیوں کی زںدگی کے لیے بہت خطرناک اور افسوسناک صورتحال ہے جس کے باعث محض چند سالوں میں ایسے خطوں میں سینکڑوں صحافیوں کو مختلف حکومتوں اور دہشت گرد گروہوں کی ایما پر قتل کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ڈاکٹر توقیر گیلانی نے کہا کہ بھارت اور پاکستان میں صحافت کو ہمیشہ مظلوم اقوام اور طبقات کو کچلنے ، ریاست کی جانب سے سیاسی مخالفین کو دبانے اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اور اگر کوئی اخبار ، چینل یا صحافی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ نقطہ نظر کو آگے بڑھانے کی کوشش کرے تو حکومتیں فوری طور پر اس کا گلا گھونٹ دیتی ہیں۔

ڈاکٹر توقیر گیلانی نے کہا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں حال ہی میں نصف درجن صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران بری طرح ہراساں کیا گیا ہے اور انکے خلاف بغاوت اور غداری جیسے ظالمانہ قوانین کے تحت مقدمات بنائے گئے ہیں جبکہ پاکستان میں ایک بڑے صحافتی گروپ کے مالک کو حکومتی ایجنڈے کی حمایت نہ کرنے پر جیل میں ڈال دیا گیا ہے اور متعدد سینئر صحافیوں کو حکومتی جبر اور دھمکیوں کا سامنا ہے جبکہ بلوچستان کے ایک صحافی کی دو دن قبل سویڈن میں لاش ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ منقسم ریاست جموں کشمیر کے دونوں حصوں میں صحافت کو مکمل طور پر بھارتی اور پاکستانی سیکورٹی اداروں کی مداخلت کا سامنا ہے جس کے باعث آزادی پسند جماعتوں اور ریاستی بیانیے سے اختلاف رکھنے والے افراد کو مسلسل میڈیا بلیک آؤٹ کا سامنا رہتا ہے حتی کہ سیز فائر لائن پر گولہ باری سے ہونے والے جانی و مالی نقصان تک کی خبر بھی آزادانہ طور پر نہیں چلائی جا سکتی۔

ڈاکٹر توقیر گیلانی نے آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران شہید اور زخمی ہوئے والے اور ریاستی و غیر ریاستی گروہوں کے تشدد کا شکار بنے والے تمام صحافیوں کو زبردست خراج عقیدت و خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ آزادی صحافت، آزادی اظہار اور اطلاعات تک آزادانہ رسائی کیلئے کی جانیوالی جدوجہد ضرور رنگ لائے گی اور صحافت ریاستی جبر اور سرمایہ دارانہ تسلط سے آزاد ہو کر دنیا بھر میں آزاد، ترقی یافتہ ،ظلم وجبر اور کرپشن سے پاک اور انصاف پر مبنی معاشروں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی رہے گی۔