نجی تعلیمی ادارے: فیسیں وصول ہو گئیں لیکن تنخواہیں ادا نہ ہو سکیں، کئی گھروں میں‌فاقے

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں موجود سیکڑوں‌نجی تعلیمی اداروں‌نے لاک ڈاؤن کے دوران طلبہ سے فیسیں‌تو پوری وصول کر لی ہیں‌لیکن ہزاروں اساتذہ کو تنخواہوں‌کی ادائیگی نہیں‌کی گئی ہے جس کی وجہ سے کئی گھروں‌میں فاقوں‌تک نوبت پہنچ چکی ہے.

بنجونسہ راولاکوٹ کے ایک نجی تعلیمی ادارے میں‌کام کرنیوالی ایک معلمہ نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ وہ گھر کی واحد کفیل ہیں، مذکورہ نجی سکول میں پڑھاتی ہیں‌لیکن انہیں‌لاک ڈاؤن کے عرصہ میں تنخواہ ادا نہیں‌کی گئی ہے جس کی وجہ سے انکے گھر میں‌نوبت فاقوں تک پہنچ چکی ہے. انہوں نے اپیل کی کہ انہیں‌اگرتنخواہ نہیں بھی ادا کی جا رہی تو وقتی راشن فراہم کردیا جائے تاکہ گھر والوں‌کا پیٹ پال سکیں.

اسی طرح‌ راولاکوٹ شہر میں‌قائم ایک نجی تعلیمی ادارے کے چوکیدار نے بتایا کہ انہیں‌چھ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے لیکن لاک ڈاؤن کے عرصہ میں‌تنخواہ ادا نہیں‌گئی جس کی وجہ سے جو بمشکل گھر کا چولہا جل رہا تھا وہ بھی بند ہو چکا ہے. حکومت کی طرف سے بھی کوئی مالی امداد نہیں‌کی گئی ہے جبکہ سکول مالکان تنخواہ ادا کرنے کی بجائے کہہ رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد تنخواہوں‌سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا.

اسی طرح‌راولاکوٹ کے ہی ایک نجی تعلیمی ادارے کی معلمہ نے بتایا کہ انکی تنخواہ آٹھ ہزار روپے ماہانہ ہے، سکول انتظامیہ نے طلبہ کے گھروں میں‌چالان فارم بھیج کر فیسیں‌وصول کی ہیں‌لیکن معلمات کو تنخواہیں‌ادا نہیں‌کی جا رہی ہیں. جس کی وجہ سے وہ اپنے گھر والوں‌کی کفالت کرنے سے قاصر ہیں. انکا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے دوران دکاندار ادھار بھی نہیں‌دے رہے ہیں، مہنگائی میں‌بھی خودساختہ اضافہ کر لیا گیا ہے، اوپر سے ادارے نے تنخواہ نہیں دی ہے. گھر میں‌چھ لوگ کھانے والے ہیں لیکن ان کو کھانے کو دینے کےلئے میرے پاس کچھ نہیں‌ہے.

مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک معلم نے بتایا کہ وہ ایم فل کرنے کے بعد نوکری نہ ملنے پر ایک نجی تعلیمی ادارے میں‌بارہ ہزار روپے ماہانہ پر کام کر رہا ہوں، ادارے نے فیسیں‌پوری وصول کی ہیں‌لیکن ہمیں‌تنخواہیں‌ادا نہیں‌کی گئی ہیں جس کی وجہ سے گھروں‌میں‌فاقوں تک نوبت پہنچ چکی ہے. انکا کہنا تھا کہ والدین نے میری تعلیم پر اتنے بھاری اخراجات کئے اب انکی توقعات تھیں کہ بیٹا اچھی ملازمت کر کے انکے مسائل کو دور کرنے کے قابل ہو گالیکن اپنی تعلیم کے مطابق نوکری نہ ملنے اور جگہ جگہ دھکے کھانے کے بعد نجی تعلیمی ادارے میں‌بارہ ہزار روپے ماہانہ پر تدریس کرنے پر مجبور ہوا ہوں‌لیکن آج لاک ڈاؤن کی کیفیت میں‌اس تنخواہ سے بھی محروم کر دیا گیا. حکومت ہمارے بارے میں‌کچھ بھی سوچنے سے گریزاں‌ہے. ہمارا کوئی سہارا نہیں‌ہے. ایسی کیفیت میں‌ہمارے پاس خودکشی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا ہوا ہے.

دوسری طرف سیاسی و سماجی شخصیات کا کہنا ہے کہ نجی تعلیمی ادارے قانون و آئین سے ماورا ہیں، کئی ادارے ویلفیئر کی طرزپر چل رہے ہیں، جو سالانہ کروڑوں‌روپے ڈونیشن لیتے ہیں‌اور اسکے ساتھ ساتھ بھاری فیسیں‌بھی وصول کر رہے ہیں، لیکن کم از کم بنیادی تنخواہ کے حکومتی نوٹیفکیشن کے مغائر معمولی تنخواہوں‌پر معلمین کا استحصال کر رہے ہیں. کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کےلئے نافذ کی گئی ہیلتھ ایمرجنسی کے دوران جب تعلیمی اداروں‌میں‌بھی تعطیلات کا اعلان کیا گیا تو تعلیمی اداروں نے طلبہ کے گھروں‌میں چالان فارم بھیج کر فیسیں‌وصول کیں‌لیکن اکثریتی اداروں‌نے معلمین، کلیریکل سٹاف، چپڑاسیوں‌اور چوکیداروں کو تنخواہیں‌ادا نہیں کیں. جس کی وجہ سے ہزاروں‌افراد بری طرح متاثر ہو رہے ہیں.

تعلیم کو ایک بیوپار بنا کر دونوں‌ہاتھوں سے غریب شہریوں‌کو لوٹا جارہا ہے اور حکمران خود نجی تعلیمی اداروں‌کے مالک ہونے کی وجہ سے سرکاری تعلیمی اداروں‌کے معیار میں‌گراوٹ کے ذمہ دار ہیں، محکمہ تعلیم کے حکام بھی اس کاروبار میں‌ملوث ہونے کی وجہ سے سرکاری تعلیمی اداروں‌کی استعداد کار بڑھانے کی بجائے تعلیم کے کاروبار کو فروغ دینے کا باعث بنتے ہیں. جس کی وجہ سے عام شہری مجبوری کے عالم میں نجی تعلیمی اداروں‌کے ہاتھوں‌لٹنے پر مجبور ہیں.

سیاسی و سماجی حلقوں‌نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر تمام نجی تعلیمی اداروں‌کو قومی تحویل میں‌لیتے ہوئے ان اداروں‌میں‌کام کرنے والے اساتذہ کو سرکاری نوکریوں‌پر لیا جائے اور سرکاری سطح‌پرآئین کے تحت ہر شہری کو مفت اور جدید سائنسی تعلیم فراہم کرنے کی ذمہ داریاں پوری کی جائیں. اور موجودہ وقت تنخواہیں‌نہ ادا کرنے والے تعلیمی اداروں‌کے خلاف سخت گیر کارروائی عمل میں‌لائی جائے.