یورپ میں‌شعبہ صحت کی نیشنلائزیشن،اجرتوں اور نقصانات کے ازالے کا اعلان: پسماندہ ملک کیاکرینگے ؟

کورونا وائرس کی وباء دنیا کے 186 سے زائد ممالک میں‌پھیل چکی ہے. دنیا بھر کے حکمران وباء پر قابو پانے اور مرتے نظام کو بچانے کےلئے بڑے پیمانے پر سماجی اصلاحات کے تلخ فیصلے کرنے پر مجبورہو رہے ہیں، لیکن دوسری طرف پھر تمام تر اصلاحات کا ایک بڑا حصہ سرمایہ داروں، بڑے کاروباریوں اور مالیاتی اداروں‌کی نذر کرنے کی ہی منصوبہ بندی ہے. لیکن اس سب کے ساتھ ساتھ جو ریڈیکل اصلاحات ہو رہی ہیں وہ بنیادی انسانی ضروریات کو نجی شعبے کی تحویل میں‌دیئے جانے کی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا کھلا اظہار کر رہی ہیں.

برطانوی حکومت نے کورونا وائرس کے وبائی مرض کی وجہ سے لاک ڈاؤن اور پابندیوں کے نتیجے میں‌ کام کرنے سے قاصر ملازمین کی اجرتیں‌ادا کرنے کا اعلان کیا ہے. حکومت متاثر ہونے والے کاروباری افراد کے نقصانات کاازالہ بھی کرے گی.

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق چانسلر رشی سنک نے یہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ پچیس سو پاؤنڈ ماہانہ اجرت لینے والے ملازمین کی 80 فیصد اجرت ادا کرے گا.

رشی سنک نے کہا کہ پب اور ریستوران بند کرنے سے کاروبار پر “نمایاں اثر پڑے گا”۔

اجرت سبسڈی کا اطلاق ان فرموں پر ہوگا جن کے مالکان کو وائرس کی وجہ سے کارکنوںکو چھٹی پر بھیجنا پڑا، جب تک انہیں‌ملازمت پر واپس نہیں‌لایا جاتا تب تک انکی تنخواہیں حکومت ادا کرےگی.


چانسلر نے کہا کہ اس اقدام کا مطلب یہ ہوگا کہ کارکنان اپنی ملازمتیں برقرار رکھنے کے قابل ہوں ، چاہے ان کا آجر ان کو ادا کرنے کے متحمل نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ وہ “بے مثال اوقات کے لئے بے مثال اقدامات تھے۔”

انہوں‌نے کہا، “میں جانتا ہوں کہ لوگ اپنی ملازمت کھونے ،کرایہ یا رہن کی ادائیگی کے قابل نہ ہونے ، کھانے اور بلوں کی ادائیگی نہ کرپانے کے بارے میں پریشان ہیں …انہوں‌نے مزید کہا کہ ابھی گھر میں موجود سب لوگوں کو جو آنے والے دنوں کے بارے میں بے چین ہیں، میں یہ کہتا ہوںکہ آپ اکیلے اس کا سامنا نہیں کریں گے.

انہوں‌نے کہا کہ اجرتوں کی ادائیگی کا سلسلہ جو مجموعی تنخواہ سے متعلق ہے ، مارچ کے آغاز میں اور تین ماہ تک جاری رہے گا ، لیکن “اگر ضروری ہوا تو” اس اسکیم کو طویل مدت تک بڑھا دیں گے۔

رپورٹ کے مطابق محکمہ خزانہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت حکومت پہلے ہفتے کے اندر اندر مالی اعانت فراہم کرے گی۔

ادھر مالکان کی تنظیم سی بی آئی نے کہا کہ مسٹر سنک کا اعلان “ایک تاریخی پیکیج” ہے۔

ڈائریکٹر جنرل سی بی آئی کیرولن فیئربیرن نے کہا کہ “یہ برطانیہ کے معاشی لڑائی کے آغاز کا اشارہ ہے – کاروباری اداروں اور حکومت کی ایک بے مثال مشترکہ کوشش جس سے ہمارے ملک کو کم سے کم ممکنہ نقصان سے اس بحران سے نکلنے میں مدد ملے۔”

ریزولوشن فاؤنڈیشن کے تھنک ٹینک نے یہ بھی کہا کہ اس پیکیج کا “زبردست خیرمقدم” کیا گیا ہے ، جس کے ثمرات کم تنخواہ والے مزدوروں تک پہنچے جن میں ملازمت کے ضیاع کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔

چھوٹے کاروباروں کی فیڈریشن نے تنخواہ میں مدد میں تاخیر سے بھی خبردار کیا – ممکنہ طور پر اپریل کے آخر تک – اس کا مطلب ہے کہ بہت سی چھوٹی کمپنیوں کو “فوری ، ممکنہ طور پر ٹرمینل کیش فلو بحران” کا سامنا کرنا پڑے گا۔

کیپیٹل اکنامکس نے کہا کہ اسے توقع ہے کہ اس بحران کی وجہ سے بے روزگاری کی شرح 4 فیصد سے بڑھ کر 6 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ تاہم ، اس حالیہ حکومتی مداخلت کے بغیر ، اس کی شرح 2008 کے مالیاتی بحران کی سطح تک پہنچ چکی ہوتی۔

برطانوی حکومت کے اس اقدام کو ناقابل یقین مداخلت سمجھا جا رہا ہے، ایسا شاید برطانوی معاشرے میں کسی نے نہیں‌سوچا تھا کہ حکومت اس طرح کے اعلانات کرے گی. اسے ایک ایسی سخاوت مند سکیم قرار دیا جا رہا ہے جو اعلیٰ فلاحی سکینڈینیوین ممالکت سے بھی زیادہ سخاوت مند ہے.

دوسری طرف برطانوی حکومت نے کورونا وائرس سے لڑنے کےلئے پینسٹھ ہزار ریٹائرڈ ڈاکٹرز اور دیگرطبی عملہ کو واپس طلب کر لیا ہے تاکہ صحت کی سہولیات کو مزید بہتر کرتے ہوئے وبائی مرض پرقابو پایا جا سکے.

یورپ کے دیگر ملکوں‌نے بھی کورونا وائرس پر قابو پانے کےلئے لاک ڈاؤن کرنے کے ساتھ ساتھ متاثرین کو امدادی رقوم دیئے جانے سمیت دیگر سخت فیصلہ جات لئے ہیں. سپین نے تمام تر شعبہ صحت کو قومیانے کا فیصلہ کیا ہے. لاک ڈاؤن کا سامنا کرنے والے افراد کو خوراک کی فراہمی سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی کےلئے ہنگامی بنیادوں‌پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں.

پاکستان سمیت دیگر پسماندہ ملکوں‌میں‌حکمران اس طرح‌کے اقدامات کی اہلیت سے ہی محروم ہیں. لاک ڈاؤن پر مکمل عملدرآمد کرنا، طبی سہولیات کی فراہمی کےلئے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچرکےلئے وسائل کی فراہمی سمیت وائرس کے متاثرین اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے معاشی متاثرین کا ریکارڈ اکٹھا کیا جانا ہی بے ہنگم اور ناہموار ترین آبادیوں میں‌ایک دشوار ترین کام ہے. جس کےلئے نہ صرف جدید دنیا کی تکنیک کا حصول ضروری ہے بلکہ بڑے پیمانے پر وسائل کی ضرورت ہے جس وسیع تر نیشنلائزیشن اور پیداواری ذرائع پر محنت کشوں‌کی جمہوری انجمنوں‌کے کنٹرول کے بغیر ممکن ہی نہیں‌ہے.

یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے حکمران ایک طرف لاک ڈاؤن اور سماجی فاصلے کے لئے اقدامات کرنے کی محدود کوشش کر رہے ہیں اور دوسری طرف لاک ڈاؤن پر مکمل عملدرآمد میں‌نااہلی کا اظہار بھی کئے جا رہے ہیں. محنت کشوں کو سہولیات بہم پہنچانے کی بجائے سرمایہ داروں‌کو سبسڈیز اور ٹیکس چھوٹ دینے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے. جن کی قیمت پھر محنت کشوں‌کے خون سےنچوڑی جائیگی.

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: