ترکی:‌کشتی الٹنے سے پاکستانی سمیت سات تارکین وطن ہلاک

مشرقی ترکی کے صوبہ بتلیس میں حکام کا کہنا ہے کہ جھیل وان میں تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ 64 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔

صوبہ بتلیس کے گورنر آفس کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے تارکین وطن کا تعلق پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے ہے۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق بتلیس کے گورنر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ کشتی الٹنے کا واقعہ ضلع عادل جواز کے ساحل کے قریب پیش آیا، جو جھیل وان کا شمالی ساحل بنتا ہے۔ یہ حادثہ مقامی وقت کے مطابق علی الصبح تین بجے پیش آیا۔

یہ جھیل ایران کے ساحل کے قریب ہے، جہاں سے اکثر تارکین وطن ترکی میں داخل ہوکر یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ ترکی کی سرحدی حدود کے اندر واقع جھیل وان میں تارکین وطن کشتی میں کیوں سوار تھے اور وہ کہاں جانا چاہتے تھے۔
حکام کے مطابق پانچ افراد جائے وقوعہ سے مردہ حالت میں ملے اور دو ہسپتال میں چل بسے جبکہ 64 افراد کو قریبی ہسپتالوں اور عارضی ٹھکانوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

ترک حکام کے مطابق پولیس، ہنگامی حالات سے نمٹنے والی ٹیمیں اور پولیس کے غوطہ خور سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ ترکی میں 40 لاکھ سے زائد پناہ گزین موجود ہیں، جن میں سے تقریبا 36 لاکھ شامی پناہ گزینوں کی ہے۔

ترکی کے راستے یورپ میں داخل ہونے والے تارکین وطن کی تعداد میں سنہ 2016 میں انقرہ اور یورپی یورنین کے درمیان معاہدے کے بعد کمی آئی ہے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: