بھارت: تامل ناڈو میں‌تین ہزار دلتوں‌کا اسلام قبول کرنے کا فیصلہ

تامل ناڈو میں ٹامل پولیگل کچی کے ارکان اور ندور علاقہ کے رہنے والے ہندو دلتوں نے ان کے ساتھ نازیبا سلوک کرنے کی شکایت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اسلام قبول کررہے ہیں۔

خبر رساں ادارے ساوتھ ایشین وائرکے مطابق میتوپلائم میں ٹامل پولیگل کچی کے ریاستی سطح کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیاکہ علاقہ کے تمام تین ہزار دلت اپنا مذہب چھوڑ کر مسلمان ہوجائیں گے۔

تنظیم کے جنرل سکریٹری ایم ایلاوینل نے اجلاس کی صدارت کی۔ انہوں نے بتایا کہ ندور میں ایک دیوار منہدم ہوگئی تھی جس میں 17 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ تنظیم کے ارکان نے بتایا کہ ایس سی ایس ٹی انسداد مظالم قانون کے تحت کارروائی کی گنجائش و قواعد موجود ہے لیکن مکان کے مالک شیواسبرامنیم کے خلاف اس قانون کے تحت مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

سکریٹری نے بتایاکہ شیواسبرامنیم نے غلط مقصد کے ساتھ دیوار کی تعمیر کی تھی اور دیوار کے سہارے کیلئے پلرز تعمیر نہیں کئے گئے تھے۔ سبرامنیم نے قریب ہی رہنے والے دلتوں کو پریشان کرنے کیلئے اپنے گھر کو علیحدہ کرنے کی غرض سے دیوار تعمیر کی تھی۔ سبرامنیم کی بدسلوکی کے خلاف انہوں نے مقدمہ کو تبدیل کرتے ہوئے اور ایس سی ایس ٹی قانون کے تحت سبرامنیم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

تنظیم کے صدر ناگی تھروالیوم کی حراست سے متعلق سکریٹری نے بتایاکہ اس واقعہ کے ذمہ دار افراد گرفتاری کے 20 دنوںمیں رہا ہوگئے لیکن تنظیم کے صدر نے انصاف کیلئے جمہوری طریقہ پر احتجاج کیا تھا۔ اس کو کوئمبتور کی جیل میں بھیج دیا گیا ہے جس سے مذہب میں عدم مساوات کا اظہار ہوتا ہے۔

انہوں نے دعوی کیا کہ ہندو مذہب میں دلتوں کے ساتھ براسلوک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی تنظیم کے ارکان نے ندور کے مقامی عوام کے ساتھ اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلہ میں 5 جنوری کو میتو پلائم میں زائد از 100 افراد اسلام قبول کریں گے اور دیگر اضلاع میں یہ عمل مرحلہ وار انجام دیا جائے گا۔